فلسطین اسرائیل جنگ، امن کے امکانات
تحریر۔۔۔صفدر علی خاں
دنیا نے پچھلے دو سالوں کے دوران وہ منظر دیکھے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر آگ، دھواں اور چیخیں گونجتی رہیں۔ بچے ملبے تلے دبے ہوئے، ہسپتال زمین بوس اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ غزہ کی فضا میں مسلسل بمباری کے شور نے انسانی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن ان تمام تاریکیوں کے درمیان اب ایک ہلکی سی روشنی نظر آنے لگی ہے۔وہ روشنی جو امن کی جانب پہلا قدم بن سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکیے اور دیگر اسلامی ملکوں کی مسلسل کوششوں سے بالآخر عرب، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ابتدائی مرحلے کا ایک امن معاہدہ طے پایا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی جنگ بندی کے پہلے مرحلے تک محدود ہے، لیکن اس نے ایک طویل اور خونریز تنازع کے بعد مکالمے اور مفاہمت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس معاہدے پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ایک نئے سیاسی اور انسانی باب کا آغاز ہو سکتا ہے لیکن یہ معاہدہ محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ لاکھوں جانوں کی بحالی، امیدوں کی تجدید اور ایک تباہ حال قوم کے لیے نئی زندگی کی علامت بن سکتا ہے۔ سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اب مزید بے گناہ زندگیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ جنگ کے شعلوں میں جھلستی آبادیوں کو سانس لینے کا موقع ملے گا۔ ہسپتالوں کو طبی امداد ملے گی، بچے دوبارہ اسکول جا سکیں گے اور ماں باپ اپنے لاپتہ پیاروں سے ملنے کی امید لگا سکیں گے۔ یہ جنگ بندی دراصل انسانی سطح پر ایک بہت بڑی جیت ہے۔ وہ دنیا جو کئی دہائیوں سے فلسطین کے لہو پر خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی، اب کم از کم اس کوشش کی گواہ بن رہی ہے کہ امن ممکن ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کی بات بھی اسی معاہدے میں شامل ہے، جو دونوں طرف کے خاندانوں کے لیے سکون اور تسلی کا باعث بنے گی۔ فلسطینیوں کے لیے اپنے لوگوں کی رہائی ایک اخلاقی فتح ہوگی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اندرونی سیاسی دباؤ کم کرنے کا ایک ذریعہ ثابت ہوگا۔
اس سارے عمل میں اسلامی ممالک کا کردار خاص طور پر قابلِ ذکر ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور پاکستان نے پسِ پردہ جو سفارتی کوششیں کی ہیں، انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جب امتِ مسلمہ اپنے مشترکہ مقاصد کے لیے اکٹھی ہوتی ہے تو دنیا کے بڑے فیصلے اس کے اثر سے خالی نہیں رہ سکتے۔ پاکستان نے اس مرحلے پر خاصی متوازن اور باوقار سفارت کاری کی۔ وزیرِاعظم اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے مسلسل رابطے، اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر متحرک کردار اور عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کی آواز بن کر بولنا ، یہ سب کچھ پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی کے روشن پہلو ہیں۔اگر یہ جنگ بندی پائیدار رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف غزہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی ایک نئی لہر اٹھ سکتی ہے۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اپنی توجہ دفاعی تنازعات سے ہٹا کر اقتصادی ترقی، توانائی کے منصوبوں اور تعمیر نو کی جانب مرکوز کر سکتے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے کی تباہ شدہ معیشت کو سنبھالنے کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تعمیر نو کے لیے عرب فنڈز، اسلامی ترقیاتی بینک اور نجی سرمایہ کار عملی اقدامات کر سکتے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ امن عمل کامیاب رہتا ہے تو غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ تشکیل پائے گی جو تعمیر نو اور انسانی امداد کی نگرانی کرے گی۔ یوں فلسطینی علاقوں میں ایک بار پھر زندگی کے آثار لوٹ سکتے ہیں۔ یہ امن عمل اگر جاری رہا تو شاید پہلی بار فلسطینی عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔
عالمی سطح پر بھی اس معاہدے کے اثرات نمایاں ہیں کیونکہ امریکہ جو طویل عرصے سے اسرائیلی مؤقف کا حمایتی سمجھا جاتا رہا، اب اس موقع پر امن کے لئے ایک ضامن کے طور پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اسے اپنی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک کی سفارتی حیثیت بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ دنیا اب یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اسلام کے ماننے والے ممالک صرف ردعمل نہیں دیتے، بلکہ عالمی امن کے قیام میں عملی کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔اگر عالمی ضمیر بیدار رہا، اگر مسلم دنیا متحد رہی، تو ممکن ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک وقفہ نہیں بلکہ تاریخ کا وہ موڑ بن جائے جہاں ظلم کے مقابلے میں انسانیت پہلی بار سرخرو ہو۔






