سو لفظوں کی کہانیسوچ
شاہد کاظمی
گھر پر کم و بیش کروڑوں خرچ کر دیے،
گھر بھی کیا، بس اک محل تھا،
دوسو نے اتنا گھر پہ خرچ کیا تھا کہ اتنے پیسوں میں پوری کالونی بن جاتی،
ٹائلز یورپ سے منگوائی گئیں۔۔۔
تمہارے گھر کے سامنے،
ایک گڑھا ہو گیا ہے،
اسے تو ٹھیک کروا دو،
میں دوسو کا گھر دیکھنے آیا،
تو عام سے انداز میں کہا۔۔۔
میرا اندازہ تھا کہ یہ تو اس کے لیے چھوٹا سا کام ہو گا۔۔۔
حد کرتے ہو یار،
حکومت کو ٹیکس دیتا ہوں،
یہ تو حکومت کا کام ہے، مجھے بھلا کیا پڑی ہے،
دوسو غصے میں بولا






