#اداریہ

غزہ جنگ کی دوسری برسی کے موقع پر مذاکرات

اج کا اداریہ

مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن منصوبے پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ جس میں قیدیوں و لاشوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاملات پر غور کیا جائیگا
ان اجلاسوں کا مقصد یرغمالیوں کے ممکنہ تبادلے کے لیے ’حالات پیدا کرنے‘ پر مرکوز ہے جس سے امریکی امن منصوبے کے مرکزی نکات پر عمل درأمد یقینی بنایا جاسکے گا۔
حماس نے کہا ہے کہ وہ امن منصوبے کی تجاویز سے جزوی طور پر متفق ہے لیکن اس نے متعدد اہم مطالبات کا جواب أناابھی باقی ہے جن میں اس کی تخفیف اسلحہ اور غزہ کے مستقبل میں اس کا کردار شامل ہے۔۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق’یرغمالیوں میں سے 20 کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ 28 دیگر یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی ’زیادہ پیچیدہ‘ ہوگی ’کچھ لاشوں کے بارے میں معلوم نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں نے انھیں دفن کیا تھا وہ مارے گئے تھے۔ کون جانےکہ وہ کہاں ہیں، اور ان کی تلاش کرنی پڑے گی۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پہلے ہی قیدیوں کو رہا کرنے کا کہہ چکے ہیں ۔
مصری اور قطری حکام اسرائیل اور حماس دونوں کے وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے سات اکتوبر 2023 کو شروع ھونے والی غزہ جنگ کی دوسری برسی کے موقع پر ہو رہے ہیں، اس موقع
یورپ بھرکے شہروں میں لاکھوں افراد نے فلسطینیوں کی حمایت اور امدادی فلوٹیلاکی غزہ تک رسائی کی کوشش کے حق میں مارچ کیا‘ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے ۔ ترکی ‘نیدر لینڈز‘بلغاریہ‘مراکش‘اسپین ‘فرانس ‘ پرتگال اوریونان سمیت مختلف ممالک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے اسرائیل سے تجارتی تعلقات معطل اور غزہ میں نسل کشی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترکی کے شہر استنبول میں سب سے بڑا مظاہرہ ہوا جہاں ہزاروں شہریوں نے آیا صوفیہ سے گولڈن ہورن کے کنارے تک مارچ کیاجہاں فلسطین اورترکیہ کے پرچموں سے سجی درجنوں کشتیوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ترک دارالحکومت انقرہ میں بھی ہزاروں شہری غزہ نسل کشی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔نیدرلینڈز میں تقریباًڈھائی لاکھ افراد دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں جمع ہوئے تاکہ حکومت سے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا سکے۔ مرکزی میوزیم اسکوائر پر جمع ہونے کے بعد مظاہرین نے فلسطینی پرچموں اور امن کی علامتوں کے ساتھ شہر کے مرکز سے مارچ کیا۔ ایک بینر پر لکھا تھاکہ ـ’’ہم اپنی حکومت پر شرمندہ ہیں۔‘‘بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’’غزہ: بھوک ایک جنگی ہتھیار ہے‘‘ اور ’’غزہ بچوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے‘‘مصر میں گزشتہ روزشروع ھونے والے مذاکرات سےتوقع کی جارہی ہے کہ یہ بات چیت جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ نتیجہ خیز ہوگی اور اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا تنازعے کو ختم کرنے کا راستہ آخر کار مل چکا ہے یا نہیں۔
اس موقعے پر امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی بھی الشرم الشیخ میں موجود ہیں۔
اس حوالے سے حماس نے شاید جنگ بندی کی کچھ شرائط کو قبول کرلیا ہو لیکن مزید پیش رفت کے حوالے سے بے یقینی ابھی برقرار ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کے اعلان سے چند روز قبل اسرائیل کو غزہ میں بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم دیا ہے۔
قبل ازیں ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ 8 مسلم ممالک کے رہنما اس سے متفق ہیں۔ جب انہوں نے تفصیلات کا اعلان کیا تو انہیں ممالک میں سے عدم اطمینان کی آوازیں اٹھنے لگیں جنہوں نے پہلے مسودے پر اتفاق کیا تھا۔ اس نے فریب کا پردہ چاک کیا۔
قطر اور پاکستان نے کم و بیش عوامی سطح پر کہا کہ یہ وہ مسودہ نہیں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔ اور وہ اعلامیے سے ناخوش ہیں۔ تاہم یہ اطلاعات منظرعام پر آئیں کہ قطر نجی طور پر امریکا پر زور ڈالے گا کہ وہ اصل مسودے کے کچھ حصوں کو بحال کرے جبکہ وہ عوامی سطح پر منصوبے کی پذیرائی کریں گے۔ (تمام 8 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اس منصوبے کی توثیق کی تھی۔)
یہ بات بعد میں سامنے آئی کہ جس مسودے پر اتفاق کیا گیا تھا، اس میں ’ترمیم‘ کی گئی ہے یا یہ کہیں کہ اسرائیل کے سائیکو پیتھک وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس کا استحصال کیا ہے جنہوں نے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ ’مذاکرات‘ میں 6 گھنٹے گزارے۔ یہ دونوں ہی نیتن یاہو اور ان کی نسل پرست ریاست کے ذاتی دوست سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے اکثر اسرائیل کی خواہش کے مطابق اپنا مؤقف بھی تبدیل کیا ہے۔
یہ تبدیلیاں اس دوہرے مقصد سے کی گئیں تاکہ نیتن یاہو اپنے ملک میں فتح کا اعلان کرسکیں اور اپنے انتہائی دائیں بازو کے شراکت داروں جیسے بین گویر اور بیذالل اسموٹرک کو خوش کرسکیں جوکہ انہیں کی طرح بری خصوصیات رکھتے ہیں۔
ساتھ ہی اس منصوبے کو حماس کے لیے کافی حد تک ناقابلِ قبول بنانا تھا کیونکہ اس ترمیم میں اسرائیلی افواج کے انخلا کے وقت جیسے کلیدی نکتے کو واضح نہیں کیا گیا اور ڈرامائی طور پر حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہا ہونے والے فلسطینی یرغمالیوں کی تعداد کو کم کردیا گیا۔ اس منصوبے میں فلسطینیوں کو اپنی حکومت چلانے کے حق سے بھی محروم کیا گیا۔
اب دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر ھیں کہ ان کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور اس پر بھی ‘ غزہ کی صورتحال میں کیا ٹبدیلی رونما ھوتی ھے

سو لفظوں کی کہانیقانون

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے