ذخیرہ اندوز گرانفروش ملک و قوم کے دشمن
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید عمران سلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی ملک کسی بحران کا شکار ہوتا ہے خواہ وہ قدرتی آفت ہو یا معاشی بدحالی ایک مخصوص طبقہ ہمیشہ منافع کی ہوس میں اخلاقیات انسانیت اور حب الوطنی کو روند ڈالتا ہے یہی وہ ذخیرہ اندوز اور گرانفروش ہیں جنہیں قوم کے زخموں سے رِستے خون کی کوئی پرواہ نہیں ان کے نزدیک صرف مال ہے منافع ہے اور ذاتی مفاد
آج ملک جس معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے اس میں عام آدمی کی سانسیں تک مہنگی ہو چکی ہیں آٹا چینی دودھ گھی اور دالیں سب کچھ عام شہری کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے سوال یہ ہے کہ جب عوام کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا تو اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان کیوں چھو رہی ہیں جواب سادہ ہے مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری
ذخیرہ اندوزی ایک مجرمانہ روش ہے جس کے ذریعے مارکیٹ سے بنیادی ضروریات کی اشیاء کو ہٹا کر قلت پیدا کی جاتی ہے تاکہ بعد میں وہی چیز کئی گنا مہنگے داموں بیچی جا سکے یہ صرف معاشی جرم نہیں اخلاقی گراوٹ اور قومی خیانت ہے دوسری جانب گرانفروشی کا یہ عالم ہے کہ ریٹ لسٹ کے باوجود ہر دکان دار اپنی مرضی کا نرخ مقرر کیے بیٹھا ہے کہیں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں اور اگر ہے بھی تو محض فوٹو سیشن یا کاغذی کارروائی کی حد تک
افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ عوام کے سامنے ہو رہا ہے اور متعلقہ ادارے محض زبانی جمع خرچ یا رسمی بیانات تک محدود ہیں ذخیرہ اندوزوں پر چھاپے گرانفروشوں پر جرمانے یہ سب وقتی اقدامات ہیں جب تک اس رویے کے خلاف مستقل مزاجی سے جنگ نہیں چھیڑی جاتی تب تک حالات بدلنے کے امکانات معدوم رہیں گے
یہاں میڈیا سول سوسائٹی اور عام شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنیں ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کو بے نقاب کریں ان کے خلاف آواز بلند کریں اور جہاں ممکن ہو قانونی کارروائی کی راہ ہموار کریں
یاد رکھیے یہ صرف مہنگائی نہیں یہ استحصال ہے اور استحصال کے خلاف خاموشی درحقیقت مجرموں کو چھوٹ دینے کے مترادف ہے
ذخیرہ اندوز اور گرانفروش صرف اشیاء نہیں چھپاتے، وہ عوام کی امیدیں، بچوں کا رزق، بیمار ماں کی دوا، اور مزدور کے پسینے کی قدر کو دباتے ہیں
وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ایک آواز ہو کر کہیں
ذخیرہ اندوز، گرانفروش ملک و قوم کے دشمن





