#کالم

یوں تو ہر اتوار کی علی الصبح ڈاکٹر فرحت عباس

سید جمال زیدی

سید جمال زیدی

، انجینیر مشتاق طارق اور میرا معمول ہے کہ مارگلہ پیمائی کی جائے لیکن اس اتوار ڈاکٹر عبید بازغ امر نے مجھے ناشتہ کی دعوت دی کہ دوستوں کا اکٹھ ہونے جارہا ہے ڈاکٹر خلیق الرحمان کی قیام گاہ پر جہاں پروگرام کے دو حصے طے پاے ہیں اول کہ عالی شعار بنگش کی اچانک وفات کے صدمے پر دعا اور ادبی ریفرنس تاکہ اسکی روح کو ایصال ثواب ہوسکے پھر ناشتہ اور تقریب کا دوسرا حصہ یعنی ڈاکٹر عبید بازغ امر کی تازہ ترین تصنیف نظم "محبت نام ہے میرا ” ، سو اپنے لیے اعزاز جانا کہ ہمدمان دیرینہ کے سنگ غیر رسمی محفل سجانا بھی تو موجودہ دور کی صورتحال میں غنیمت ہی ہے اور خوشی خوشی میں اور عبید در دولت خلیق الرحمان جاپہنچے کہ اتوار کی چھٹی میں ابھی اسلام آباد والوں کا دن نہیں نکلا تھا اور موصوف خانہ نے ہم دونوں کا گرمجوشی سے ٹی شرٹ اور ہاف ٹراوزر میں استقبال کیا گویا ہمارے گھنٹی بجانے سے حضرت جاگے تھے، گویا آج اس تقریب کے پہلے مہمان ہم دونوں ہی تھے لیکن تھوڑے تھوڑے وقفے سے بیل بجتی رہی اور ہمارے پڑاو میں دوستوں کی آمد جاری رہی، یوں اکبر نیازی، ناصر عقیل. عامر رضا، انجینئر طارق محمود، ڈاکٹر عرفان الحق، ڈاکٹر روش ندیم،ڈاکٹر عثمان غنی اور حیدر فاروق کی شرکت رہی، گفتگو غیر اعلانیہ اور غیر رسمی تھی اس لیے سب دوستوں نے حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے حوالے سے عالی شعار بنگش کی 35 سالہ رفاقت اور متحرک ہونے پر اپنا اپنا موقف پیش کیا کہ مرحوم کا یوں اچانک سے دنیا سے چلے جانا اور کانوں کان کسی کو خبر نہ ہونا اچھنبا ہی تو ہے، اس تعزیتی محفل کے تمام شرکاء کا ایک بات پر اتفاق تھا کہ عالی شعار بنگش ایک بے ضرر اور مخلص دوست تھا. بہت قابل شخص، انگریزی ادب پر کمال قدرت رکھنے اور سی ایس ایس کرنے کے بعد اصولی اختلاف کرتے ہوے چند ماہ میں ہی بیوروکیریسی سے استعفیٰ دیکر ایک آزاد منش پیشہ جس میں اول ریڈیو پاکستان سے انگریزی خبریں پڑھنا، فیلڈ پروڈیوسر، ڈیوٹی آفیسر اور گیسٹ پروڈیوسر کی ملازمت شامل ہے. سالہا سال ہوا کے دوش پر آواز کی لہروں سے منسلک رہنے کے باوجود اپنی اصول پسندی کو ترجیح دیتے ہوے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے بھی ہمیشہ کے لیے ناطہ تور لینا اسے مشکل نہیں لگا کہ الرزاق کی ذات مبارک تو عزش بریں سے سب دیکھ رہی ہے، یوں زندگی ایک اور نیارخ یعنی ایڈورٹایزنگ، صحافت اور کمرشل وایس اوور کو اپنا لینا اور نہایت مستعدی اور دلجمعی سے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کل ایمانداری سے انجام دینا، رفقائے کار ساتھیوں سے نرم رویہ اختیار رکھنا، بلکہ ہمدردی اور مخلصی کی تاریخ رقم کردینا عالی کا (شعار) تھا. آج جب کہ وہ اس جہاں کا حصہ ہے جہاں سے کبھی کسی کی واپسی نہیں ہوتی اور اس جہاں والے اس کا غم منا رہے ہیں تو یہ دلیل ہے کہ عالی بنگش بالکل صاف شفاف اور پارسا تھا، لوگوں کو احترام و توقیر بخشنا اسی کا خاصہ تھا گرچہ چذباتیت بھی اس کے مزاج کا حصہ تھا مگر اپنے اعصاب پر قابو پانا بھی تو اس کو آتا تھا، جڑواں شہروں پنڈی اسلام آباد کی فضا سوگوار ہے، ادبی اجلاسوں میں ادبی ریفرنسز ہورہے ہیں ، دونوں شہروں حلقوں میں دعایہ تقاریب اور مرحوم کے گھر میں قرآن خوانی کا سلسلہ جاری ہے، دوست احباب، عزیز و اقارب سب ہی اداس ہیں گویا ماحول اداس ہے، ہم سب نے بھی عالی شعار بنگش کے لیے ان خیالات کا اظہار آپس کی بات چیت میں کرتے ہوئے اس کی اگلی منازل آسان ہونے کی دعا کی کہ اب ہم اس کے لیے یہی کچھ کرسکتے ہیں، میزبان خصوصی خلیق الرحمان نے مجھے کہا کہ میں اپنا آج کا کالم بزبان خود سناوں جو روزنامہ جہان اسلام آباد نے سنیچر 4 اکتوبر کی اشاعت میں شایع کیا تو میں نے حکم کی تعمیل میں پڑھ کر سنایا جو عالی شعار بنگش کے سوگ میں لکھا گیا ہے، ناشتہ میں تمام دوستوں نے مختلف ڈشز سے اپنا تعارف رغبت خاص سے کروایا اور کڑک چائے کے دور کے اختتام پر دوسرےحصہ، ڈاکٹر عبید بازغ امر کے تازہ مجموعہ نظم (محبت نام ہے میرا) کی تقسیم کتاب ہوی اور سب نے عبید سے اپنی دیرینہ رفاقت اور عبید کی ادبی خدمات کا ذکر کیا، کہ عبید ہر ادبی محاذ پہ ڈٹا دکھائی دیتا ہے نظم، نثر، صحافت، تنقید، تحقیق، تصنیف و تالیف کے علاوہ سرحد یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دے رہا ہے اور اپنے ادبی دوستوں سے تعلق جوڑے رکھتا ہے، یہ عبید کے دوستانہ رویے اور مزاج کی دلیل ہے کہ اس نے گرچہ اب گذشتہ نصف دہانی سے زیادہ عرصے سے پنڈی سے جاکر پشاور میں ڈیرے جما رکھے ہیں اور وہاں اپنے حلقہ ارادت مندی میں روز بروز اضافہ کرتا چلا جارہا ہے لیکن پنڈی وال ہمراہیوں کو پس پشت نہیں ڈال دیا بلکہ مستقل اور مضبوط تعلق رکھے ہوئے ہے، اس تقریب میں بھی سب نے فیاضی سے کلمات قلبی اداکیے جن میں مصنوعیت کا شایبہ تک نہیں تھا. "محبت نام ہے میرا” سے کلام شاعر بزبان شاعر اس کی تازہ نظمیں سنی گئیں. ایک بار پھر قہوہ کا دور چلا اور سر شام پنچھیوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں کا رخ کرنا شروع کردیا لیکن ابھی عبید بازغ امر کو اپنی اس کامیاب کاوش کو دیگر سینیر ادبی دوستوں کو بھی پیش کرنا تھا جن میں خاص طور پر ڈاکٹر فرحت عباس اور علی محمد فرشی شامل ہیں

یوں تو ہر اتوار کی علی الصبح ڈاکٹر فرحت عباس

08/10/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے