“عام آدمی شہید نہیں ہوتا”
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
پاکستان جیسے ممالک میں عام آدمی واقعی عام آدمی یا شاید اس سے بھی نچلے درجے کا شہری شمار ہوتا ہے ۔ اگر کوئی مزدور یا زیریں متوسط / متوسط طبقے کا آدمی جو کسی سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمت نہیں کرتا یا اگر کسی ایسے نجی ادارے کا ملازم ہے جہاں اسے پینشن جیسی عیاشی میسر نہیں تو سوچنے کی بات ہے کہ اپنی مدتِ ملازمت یا جسمانی صحت کے مطابق ساٹھ ستّر سال کی عمر میں جب وہ اپنے فرائض و ذرائع آمدن سے سبک دوش ہوگا تو حکومتِ وقت کی ذمے داری نہیں بنتی کہ اس کے کم از کم روزمرہ اخراجات کا کچھ تو بندوبست کرے ، خاص طور پر اگر ایسا شخص بے اولاد ہے یااس کی اولاد اسے چھوڑ چکی ہے ۔ شریعت ، سیاست اور اخلاقیات کی رو سے تو “ سید القوم خادمہم” کے مصداق حکومت پر یہ لازم ہے کہ وہ ایسے عام انسان کے لیے بھی کچھ نہ کچھ تو کرے ۔
اب اسی مسئلے کے ایک سنگین پہلو کی طرف بھی دھیان دینا ضروری ہے اور وہ ہے ایسے افراد کی اچانک یا حادثاتی موت ۔ پہلا المیہ تو یہ کہ میڈیا اسے “ ہلاک زدگان “ کہہ کر پیش کرتا ہے ۔ پھر حکومت کی طرف سے اکا دکا مواقع کے علاوہ نہ تو کوئی بہت خصوصی اعلامیہ جاری ہوتا ہے اور نہ اس کے پس ماندگان کی مالی مدد کا کوئی اعلان ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس وہ سرکاری ملازمین جو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خدمات انجام دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں ، صرف انھیں میڈیا اور حکومت شہید بھی گردانتی ہے، اس کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی جاتی ہے اور بیوہ ہونے والی شریکِ حیات اور یتیم ہو جانے والے بچوں کی کفالت کا بھی نہ صرف خصوصی اعلان کیا جاتا ہے بلکہ اس ضمن میں عملی اقدامات بھی فوری طور پر لیے جاتے ہیں ۔ یہ سب کچھ لائقِ تحسین و ستائش ہے اور اس کارِ خیر کا اجرا بھی ضروری ہے ۔ تاہم ایک مزدور یا فیکٹری کا ملازم یا ریڑھی لگانے والا بھی اگر حادثاتی موت کا شکار ہو تو اسے شہید کہہ کر ہی پکارا جائے ، اس کے گھر بھی مقتدرہ کو تعزیت کے لیے جانا چاہیئے یا کم از کم ایک رسمی تعزیتی پیغام اس یقین دہانی کے ساتھ بھیجا جائے کہ پس ماندگان کی کفالت یا شہید شخص کی اولاد کے لیے مستقل روزگار کا انتظام چند ہفتوں کے اندر اندر کر دیا جائے گا ۔ اُخروی صلے کے علاوہ اس دنیا میں بھی متعلقہ حکام کو کئی فائدے ہوں گے ۔ اولاً یہ کہ معاشرے میں معاشی عدم مساوات کم ہوتی جائے گی ۔ ثانیاً یہ کہ ایک عمومی تاثر زائل ہوجائے گا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شاید حکومتوں کے آلہ کار ہوتے ہیں اور عوام کے خادم نہیں ۔ ثالثاً یہ کہ جو حکومت بھی اس کارِ خیر کی ابتدا کرے گی ، عوام کے دل میں اس کا مثبت تاثر مزید اجاگر ہوگا ۔
موجودہ حکومت کے مقابل اپوزیشن ہر اس موقعے کی تلاش میں ہے جس سے حکومتی کارکردگی پر تنقید کا موقع ملے اور جس کی مدد سے وہ ملکی اور عالمی سطح پر خود کو معصوم اور مظلوم کے طور پر پیش کرنے کا کارڈ زیادہ اعتماد سے کھیل سکے ۔ مجوزہ اقدامات سے ایک اضافی فائدہ یہ بھی متوقع ہے کہ عوام کا حکومت پر اعتماد مضبوط تر ہوگا اور روز روز کی بحث اور غیر صحتمند تنقید برائے تنقید کی فضا سے پیدا شدہ بوجھل پن کافی حد تک کم ہوتا چلا جائے گا۔ سو اس حکومت کے لیے بہترین موقع ہے کہ پاکستان کو فلاحی مملکت بنانے کے لیے کچھ ٹھوس معاشی اقدامات کرے جس کا براہِ راست فائدہ عام آدمی کو ہو ۔ اس بابت “ عام آدمی کارڈ “جیسی دستاویز نادرا کی مدد سے بنانا کوئی کارِ دشوار نہیں ۔ یہ کارڈ مستحقین میں فوری تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے مستحقین کو تعین کرنے کیلئے کوئی خاص ٹیم بنانے کی اول تو ضرورت ہی نہیں اور اگر ہو بھی تو بہت سے رضاکار اہلِ دانش برائے نام معاوضے کے بدلے اس کام میں حکومت کا ہاتھ بٹانے کو تیار ہوں گے ۔ اس کارڈ کے تحت واقعتاً ایسے عام آدمی کی بابت توثیق و تحقیق کر کے مالی معاونت کا اہتمام کرنا چاہئیے جس کے بارے میں پکا یقین ہو کہ اس کے بڑھاپے کے لیے کوئی ذریعۂ کفالت نہیں یا جو کسی حادثاتی سانحے کے نتیجے میں معاشی دیوار سے جا لگا ہو “ عام آدمی فنڈ “ کی مد سے ایسے مستحقین اور ان کے پس ماندگان کی مالی معاونت سے دین و دنیا دونوں میں سرخ رو ہونے کا ایک سنہری موقع اس حکومت کو میسر ہے جس پر کم سے کم غور تو فوری شروع کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اہلِ قلم و حکمت افراد سے اس بابت مشاورت میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ہر صاحبِ دل اس کارِ خیر کے لیے نیک نیتی سے تجاویز پیش کرے گا۔ بس ایک اہم پہلو ذہن میں رہے کہ ایسے منصوبوں میں بیوروکریسی کی ممکنہ رکاوٹ سے بچاؤ کے اقدامات بھی حکومت کو ذہن میں رکھنا ہوں گے۔ اس بابت راقم ایک اور قسط میں کچھ مزید تفصیلات و گزارشات پیش کرے گا ۔
و ما علینا الّا البلاغ





