پاکستان عالم اسلام کی مضبوط ترین دفاعی شیلڈ
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق
پاکستان ایک سکیورٹی ریاست کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہے۔ اس لیے اس کے دفاعی معاہدوں کی تاریخ سے آشنائی ضروری ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ پاکستان نے اپنے دفاعی نظام کو موثر بنانے کے لیے کیا کوششیں کی ہیں۔پاکستان‑امریکہ متبادل دفاعی معاونت معاہدہ 1954 پہلا دفاہی معاہدہ پاکستان کی تاریخ اہمیت کا حامل تھا۔ کیونکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت متعین کر رہا تھا۔ 1950 کی دہائی میں عالمی سیاست سرد جنگ کی لپیٹ میں تھی، جہاں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی اور عسکری کشمکش عروج پر تھی۔ پاکستان ایک نوآزاد ریاست ہونے کے ناطے، سلامتی کے شدید خدشات سے دوچار تھا، خاص طور پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر۔ ان حالات میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کا راستہ اختیار کیا تاکہ فوجی امداد حاصل ہو، عسکری قوت میں اضافہ کیا جا سکے، مغربی بلاک میں ایک محفوظ جگہ بنائی جا سکے۔ اس معاہدے کے پاکستان کے یہ تین بڑے مقاصد تھے۔ اس معاہدے کی نمایاں شقیں یہ تھیں۔ امریکہ نے پاکستان کو فوجی ساز و سامان، اسلحہ، تربیت، اور مشاورت دینے کا وعدہ کیا۔ پاکستان نے اس کے بدلے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور کمیونزم کے خلاف جنگ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ معاہدہ امریکہ کے دیگر نیٹو اتحادیوں کے ماڈل پر تھا لیکن پاکستان کے لیے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں "اسٹریٹجک کلائنٹ” کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن در پردہ اس معاہدے کا مقصد پاکستان بھارت کے خلاف عسکری توازن حاصل کرنا، عالمی سیکیورٹی سسٹم کا حصہ بننا، مالی اور دفاعی امداد حاصل کرنا تھا۔ اگر اس کو تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو چند باتیں قابل غور ہیں۔ پاکستان کو 1950s-60s میں جدید امریکی اسلحہ، ٹریننگ، اور مالی امداد ملی۔ پاکستان کا عالمی سطح پر ایک فعال کردار قائم ہوا۔ پاکستان نے SEATO اور CENTO جیسے بین الاقوامی دفاعی اتحادوں میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن معاہدہ بھارت کے خلاف ضمانت فراہم نہیں کرتا تھا، جو پاکستان کی بنیادی تشویش تھی۔ جب 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوئیں، امریکہ نے پاکستان کو فوجی امداد بند کر دی — جس سے اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔ اس کے باوجود متبادل دفاعی معاونت معاہدہ 1954 پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑا موڑ تھا، جس نے اسے مغربی بلاک سے منسلک کیا اور فوجی لحاظ سے کچھ وقت کے لیے مضبوط کیا۔ تاہم، اس معاہدے نے پاکستان کو طویل المدتی اسٹریٹجک انحصار میں ڈال دیا، اور جب پاکستان کو حقیقی دفاعی مدد کی ضرورت پڑی، تو امریکہ نے غیرجانبداری اختیار کی یا امداد معطل کر دی۔ لہٰذا یہ معاہدہ توقعات سے زیادہ علامتی اور وقتی ثابت ہوا، نہ کہ عملی اور دیرپا دفاعی تحفظ کی ضمانت دینے والا۔ دوسرا دفاعی معاہدہ SEATO کی شکل میں سامنے آیا۔ اس کا مقصد ایشیائی ممالک میں کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنا اور مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو بڑھانا تھا۔ یہ نیٹو (NATO) کی طرز پر ایک فوجی اتحاد تھا، لیکن عملی طور پر اتنا مضبوط نہیں بن سکا۔ اس کے رکن ممالک میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، پاکستان، تھائی لینڈ، فلپائن شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی اہم ممالک جیسے انڈونیشیا، ویتنام، ملائشیا وغیرہ SEATO کا حصہ نہیں تھے۔ اس کے مقاصد میں کمیونزم کو روکنے کے لیے اجتماعی دفاع (Collective Security) کا نظام قائم کرنا، رکن ممالک کی سلامتی کو خطرے کی صورت میں مشترکہ کارروائی، ایشیا میں امریکہ کا اسٹریٹجک اثر قائم رکھنا۔پاکستان کا SEATO میں شامل ہونے کا مقصد بھارت کے مقابل عسکری توازن حاصل کرنا، امریکہ سے فوجی و مالی امداد حاصل کرنا، عالمی طاقتوں کے قریب ہو کر سلامتی کے خطرات کم کرنا۔ اس کے پاکستان کو فائدے درج ذیل ہوئے۔ امریکہ سے فوجی امداد اور اسلحہ ملا، عالمی سطح پر ایک اسٹریٹجک اتحادی کی حیثیت ملی، پاکستان کو عالمی سیاست میں نمائندگی اور اثر و رسوخ کا موقع ملا۔ لیکن اس معاہدے کے کچھ نقصان بھی ہوے۔ SEATO کا ہدف کمیونزم تھا، نہ کہ بھارت، جب کہ پاکستان کی اصل فکر بھارت سے دفاع تھی۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں SEATO نے پاکستان کی حمایت نہیں کی. بھارت سے کشیدگی میں اضافے اور خطے میں غیر جانبدار حیثیت کھونے کا سبب بنا۔ پاکستان کو سوشلسٹ ممالک (سوویت یونین، چین) سے دور کر دیا، جو بعد میں ضروری اتحادی بنے۔SEATO ایک علامتی دفاعی اتحاد تھا جس کا اصل مقصد امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانا اور کمیونزم کو روکنا تھا۔ تیسرا دفاعی معاہدہ CENTO تھا۔ 1955 میں برطانیہ، ترکی، ایران، عراق اور پاکستان کے درمیان قائم ہوا۔ اس کا اصل مقصد سوویت یونین کے جنوبی پھیلاؤ کو روکنا اور مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا میں مغربی اثر کو مستحکم کرنا تھا۔پاکستان 1955 میں شامل ہوا
📍 نام "CENTO” رکھا گیا 1959 میں، جب عراق تنظیم سے نکل گیا. رکن ممالک پاکستان، ترکی، ایران، برطانیہ (امریکہ = باضابطہ رکن نہیں، مگر غیر رسمی طور پر سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھتا تھا) تھے۔ اس کے مقاصد میں سوویت یونین کے خلاف "جنوبی محاذ” قائم کرنا، مشرق وسطیٰ میں امریکی-برطانوی مفادات کا دفاع، رکن ممالک کے درمیان فوجی، انٹیلیجنس، اور اقتصادی تعاون۔پاکستان کی شمولیت کا مقصد بھارت سے تحفظ حاصل کرنا، امریکہ اور برطانیہ سے فوجی و اقتصادی امداد لینا، مغربی طاقتوں کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد قائم کرنا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان غربی ممالک سے جدید اسلحہ، ٹریننگ، اور مالی امداد لینے میں کامیاب ہو گیا ۔ پاکستان عالمی منظرنامے میں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر ابھرا۔ چوتھا دفاعی معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان ہوا۔پاکستان اور چین کے درمیان 2003 میں دفاعی تعاون کا ایک اہم معاہدہ طے پایا، جسے عموماً "Strategic Partnership for Peace and Security” کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ مکمل طور پر فوجی دفاعی معاہدہ (Mutual Defense Treaty) تو نہیں تھا، مگر اس نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی۔ اس کے مقاصد میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ فوجی منصوبوں کی راہ ہموار کرنا، دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ اور علاقائی استحکام قائم رکھنا، انسداد دہشت گردی، انٹیلیجنس شیئرنگ، اور مشترکہ مشقوں کو فروغ دینا۔ معاہدے سے پہلے بھی پاکستان اور چین کے درمیان فوجی تعلقات موجود تھے، خاص طور پر 1970s سے۔ 2003 کا





