#اداریہ

بھارتی عسکری افسران کی درفنطنیاں

اج کا اداریہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے انڈیا کے وزیر دفاع، آرمی چیف اور ایئر چیف کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پڑوسی ملک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ’جارحیت کے لیے من گھڑت بہانے تراشنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ’وجے دشمی‘ کے موقع پر ریاست گجرات میں ایک فوجی اڈے پر تقریب میں شرکت کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ’سر کریک کے قریب علاقوں میں فوجی انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے۔‘ اسلام آباد نے تاحال اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
پاک فوج نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسے انڈین سکیورٹی اداروں کی اعلیٰ قیادت کے ’غیر حقیقی، اشتعال انگیز اور جنگی جنون پر مبنی بیانات پر گہری تشویش ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ایسے بیانات ’جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔‘
پاکستان نے متنبہ کیا ہے کہ انڈین وزیر دفاع، آرمی اور ایئر چیفس کے ’اشتعال انگیز بیانات‘ مستقبل میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں اور ایسے میں پاکستان ’پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم بلا جھجھک جواب دیں گے۔‘
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج میں یہ صلاحیت اور عزم ہے کہ لڑائی کو دشمن علاقے کے ہر کونے میں لے جائے۔‘
’جہاں تک پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی بات ہے تو بھارت کو واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ایسے حالات پیش آئے تو نقصان دونوں طرف ہوگا۔‘
جمعرات کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ’وجے دشمی‘ کے موقع پر ریاست گجرات میں ایک فوجی اڈے پر تقریب میں شرکت کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ’سر کریک کے قریب علاقوں میں فوجی انفراسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے۔‘ اسلام آباد نے تاحال اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اتوار کو پاک فوج نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اسے انڈین سکیورٹی اداروں کی اعلیٰ قیادت کے ’غیر حقیقی، اشتعال انگیز اور جنگی جنون پر مبنی بیانات پر گہری تشویش ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ایسے بیانات ’جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں
جبکہ جمعے کو 93 ویں یوم فضائیہ کی تقریب کے موقع پر بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) کے سربراہ ایئر مارشل امر پریت سنگھ نے ایک بار پھر دعوی کیا تھا کہ مئی میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کے چار سے پانچ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جن میں زیادہ تر ایف-16 تھے۔
اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں 300 کلو میٹر اندر ’طویل کارروائی‘ کی گئی جس میں پاکستان کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
اس سے قبل ستمبر میں بھی بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت نے پاکستان کے کم از کم چھ طیارے مار گرائے تھے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک بھی پاکستانی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی تباہ ہوا ہے۔‘ اس سے قبل پاکستانی حکام رفال سمیت متعدد انڈین جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے متعدد مواقع پر کبھی پانچ، چھ تو کبھی سات طیارے تباہ ہونے کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم اُنھوں نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کس ملک کے طیارے تھے۔
بھارت نے اس تنازع میں اپنے طیارے گرائے جانے کے حوالے سے کبھی کوئی واضح بیان نہیں دیا تاہم بھارتی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفینس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘
بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے بعض سرحدی علاقوں پر تنازعات موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ زیر بحث علاقے کشمیر اور لداخ ہیں مگر ایک اور خطہ جس کی تقسیم کئی دہائیوں سے بحث کا موضوع رہی ہے، وہ سر کریک سیکٹر ہے۔
یہ سندھ اور بھارتی ریاست گجرات کے درمیان واقع 96 کلومیٹر طویل دلدلی زمین ہے جس پر دونوں ممالک کے اپنے اپنے دعوے ہیں۔
کریک کا مطلب سمندر میں موجود ایک تنگ خلیج ہے۔ سر کریک انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تنگ اور دلدلی خلیج ہے جو بحیرہ عرب سے جڑی ہوئی ہے۔
اس کا اصل نام بان گنگا ہے جسے بعد ازاں برطانوی دور میں سر کریک کا نام دیا گیا تھا۔ یہ علاقہ تب سے ہی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔
سادہ الفاظ میں تنازع یہ ہے کہ دونوں ملک سمندری سرحد کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں
بھارت کا کہنا ہے کہ سرحد کی لکیر خلیج کے وسط میں سے کھینچی جائے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد اس کے ساحل سے کھینچی جائے کیونکہ برطانوی حکومت نے 1914 میں اسے غیر بحری (یعنی جہاں بحری جہاز نہیں چل سکتے) علاقہ قرار دیا تھا۔
بھارت اور پاکستان دونوں اقوام متحدہ کے کنونشن Law Of The Sea کے رکن ہیں۔
اس معاہدے کے تحت تمام ممالک کو 2009 تک اپنے سمندری تنازعات کو حل کرنا تھا، بصورت دیگر متنازع علاقہ بین الاقوامی پانی قرار دیا جائے گا۔
لیکن رکن ہونے کے باوجود بھارت اور پاکستان سر کریک کو دو طرفہ مسئلہ قرار دیتے ہیں اور اس تنازع کو کسی بین الاقوامی عدالت میں نہیں لے جانا چاہتے۔
دونوں ممالک کے درمیان 2015 تک اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ 1995 اور 2005 میں ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ لیکن یہ معاملہ تعطل کا شکار رہا اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچا۔
’انڈین حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ لیکن یہ مسائل صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے دونوں ممالک کو خود ہی اس کا حل تلاش کرنا ہو گا
 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا سر کریک کے علاقے میں پاکستان کے فوجی انفراسٹرکچر کی توسیع کا دعویٰ کتنا اہم ہے۔
راج ناتھ سنگھ کا بیان ’بہت ہی غیر معمولی ہے‘ کیونکہ سر کریک کا معاملہ اب متعلقہ نہیں رہا۔
’1990 کی دہائی میں سر کریک ایک گرما گرم موضوع تھا لیکن اب یہ ایک مردہ موضوع ہے۔ ‘
تاہم ’یہ واضح نہیں ہے کہ راج ناتھ سنگھ نے اس وقت یہ بیان کیوں دیا لیکن یہ ممکنہ طور پر پاکستان کو خبردار کرنے کی کوشش ہے کہ بھارت اس محاذ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے