#کالم

پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے

رفیع صحرائی

تحریر: رفیع صحرائی
rafisehraee5586@gmail.com
صدا بصحرا
رفیع صحرائی
پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے
پاکستان کو اس وقت سیلاب سے ہونے والے بہت بڑے نقصان کے صدمے اور متاثرین کی بحالی کے کٹھن اور دشوار ترین مرحلے کا سامنا ہے۔ قبل ازیں ہر قدرتی آفت کے بعد حکمران کشکول اٹھائے دنیا بھر میں امداد کے لیے اپیلیں کیا کرتے تھے۔ یہ آفت سیلاب کی صورت میں ہوتی، زلزلے کی شکل میں یا کرونا جیسی وبائی مرض کی شکل میں ہوتی، ہم امداد کے لیے ہمیشہ دوسروں سے آس لگایا کرتے۔ کہیں سے امداد مل جایا کرتی جبکہ زیادہ تر محض اعلانات ہی ہوا کرتے۔ ہمارے حکمران ڈونرز کو بار بار یاد دہانی کروا کر تھک جاتے مگر امداد نہ ملتی البتہ ایسے مواقع پر اپوزیشن جماعتیں بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتیں اور میڈیا کے سامنے حکومتوں سے جواب طلب کیا کرتیں کہ امدادی رقم کے اربوں اور کھربوں ڈالر کہاں گئے۔ پتا انہیں بھی ہوتا تھا کہ وہ محض اعلانات ہی تھے مگر ان کا مقصد سیلاب زدگان سے ہمدردی نہیں ہوتا تھا۔ وہ تو حکومت کو چور اور خائن ثابت کر کے اگلی باری لینے کی راہ ہموار کیا کرتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ سیلاب تاریخ کا بدترین سیلاب تھا۔ املاک اور فصلوں کا تو اس میں بہت زیادہ نقصان ہوا لیکن حکومت پنجاب کے بروقت اور تیز رفتار اقدامات کو داد دینا پڑے گی کہ انسانی جانوں اور جانوروں کے نقصان کی شرح بہت کم رہی۔ حکومت پنجاب کے ریسکیو کے انتظامات مثالی تھے۔ حکومت کے منتخب نمائندوں اور وزراء نے فیلڈ میں رہ کر ریسکیو آپریشنز کی نہ صرف مدد اور نگرانی کی بلکہ اپنی مقامی ٹیموں کو بھی ہر لمحہ فعال اور متحرک رکھا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ رفاہی اور فلاحی تنظیموں نے بھی سیلاب میں گھرے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس طرح سے سب نے مل جل کر سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے اور سیلاب زدگان کو ریلیف پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
اس مرتبہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی اور ریلیف کے لیے دنیا کے سامنے کشکول لے کر نہیں جانا بلکہ اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد کرنی ہے۔ یقیناً اس کے لیے بہت کثیر سرمائے کی ضرورت ہے لیکن ظاہر ہے گورنمنٹ کے پاس اس سرمائے کے حصول کا کوئی پلان ضرور ہو گا۔ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کے ذہن میں یقیناً یہی بات ہے کہ بھارت سے حالیہ جنگ جیتنے کے بعد پاکستان نے دنیا بھر میں جو عزت پائی ہے اور امریکہ سمیت پوری دنیا میں جس طرح پاکستان کا ایک فاتح کی حیثیت سے استقبال کیا جا رہا ہے، اس عزت و احترام کو امداد کی درخواست کر کے زمیں بوس نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو قائل کرنے کی پوری کوشش کی کہ چونکہ ترقی یافتہ ممالک کے اقدامات کی وجہ سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پاکستان کو خوفناک سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے اس لیے ان سے مدد لینا ضروری ہے لیکن وزیرِ اعظم شہباز شریف پاکستان کے موجودہ امیج کو کسی صورت خراب کرنا نہیں چاہتے اس لیے انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے مشورے پر مثبت ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
دورسری طرف پنجاب میں سیلاب زدگان کی امداد کے طریقہ کار پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان رسہ کشی شروع ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بے نظیر انکم سپورٹ (BISP) کے ذریعے مالی امداد فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد ایسا نیٹ ورک ہے جس سے شفافیت اور تیزی کے ساتھ رقوم مستحقین تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو نے بھی کہا ہے کہ اگر BISP کو استعمال نہ کیا گیا تو یہ ایک انتظامی غفلت ہو گی۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کو وزیرِ اعلیٰ ریلیف کارڈز کے ذریعے براہِ راست رقم دی جائے گی تاکہ عوام کو لائنوں میں لگ کر گھنٹوں کھڑا ہونے کی تکلیف نہ ہو اور وہ عزت کے ساتھ امداد وصول کر سکیں۔
حکومت پنجاب کا موقف درست ہے کہ سیلاب متاثرین کو BISP کے ذریعے امداد دینا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ BISP کے پاس صرف ان مستحقین کا ڈیٹا موجود ہے جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے پاس نہ تو نقصانات کی تفصیل کے اعداد و شمار ہیں اور نہ ہی متمول متاثرین یا زمینداران و کاشتکاران کا ڈیٹا موجود ہے۔ فصلوں کی گرداوری اور مکانات و مویشیوں کی تفصیل اور نقصانات کے اعدادا و شمار BISP کے پاس موجود نہیں ہیں ایسے میں متاثرین کی خاطرخواہ امداد کیسے کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے درست آگاہی حاصل کرنے کے لیے سروے مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں پانچ صوبائی محکموں کے علاوہ پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے بتایا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ریلیف پیکج کے تحت کسانوں کو فی ایکڑ 20 ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جو پختہ گھر مکمل گرا ہے اس کے لیے 10 لاکھ روپے اور جزوی نقصان والے یا کچے گھر کے گرنے پر 5 لاکھ روپے امدادی رقم دی جائے گی۔ اسی طرح بڑے جانور کے جانی ضیاع پر 5 لاکھ اور چھوٹے جانور کا معاوضہ 50 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو BISP کا ڈیٹا بیس اس طرح کے نقصان کے اعداد و شمار مہیا کرنے سے قاصر ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی ندیم افضل چن نے حکومت پنجاب کے اعلانات کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ اعلان کردہ ریلیف پیکج پر عمل درآمد کے لیے پنجاب کو اپنے سالانہ بجٹ کے تین گُنا وسائل درکار ہوں گے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی۔ ندیم افضل

پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے

مائیک خاموش، آواز بلند

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے