سیلاب میں صحت کی بحالی – خواجہ عمران نذیر کی جدوجہد
تحریر:سعدیہ مقصود
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی بصیرت افروز قیادت اور سینئر وزیر محترمہ مریم اورنگزیب کی خصوصی ہدایات کے تحت سیلاب زدگان کے لیے وسیع پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ خوراک، رہائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جہاں ایک اہم سنگ میل ہے، وہیں سیلاب کے دوران پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے نمٹنا سب سے بڑا چیلنج رہا۔ اس مشکل کام کو بہترین انداز میں سرانجام دیا صوبائی وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے، جنہوں نے متاثرہ علاقوں میں انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔
خواجہ عمران نذیر کی قیادت میں محکمہ صحت پنجاب نے سیلابی علاقوں میں 1,200,000 سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کیں۔ انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر “کلینکس آن وہیلز” اور کشتیوں پر قائم موبائل کلینکس کے ذریعے دور دراز اور پانی میں محصور دیہات تک طبی سہولیات پہنچائیں۔ علاج معالجے کے ساتھ ساتھ ضروری ادویات، ویکسین اور سانپ کے ڈس کے لیے اینٹی وینوم بھی فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کی گئی۔ صوبائی وزیرِ صحت نے خود مختلف اضلاع، بشمول اوکاڑا، کے ہنگامی دورے کیے تاکہ صورتحال کا براہِ راست جائزہ لے کر امدادی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
سیلاب کے باعث پھیلنے والی بیماریوں جیسے اسہال، ڈینگی، نمونیا اور جلدی انفیکشنز پر قابو پانے کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں چوبیس گھنٹے متحرک رہیں۔ گاؤں گاؤں جاکر عوام کو طبی مشورے، ویکسینیشن اور علاج فراہم کیا گیا۔ خواجہ عمران نذیر نے اس بات پر زور دیا کہ سیلابی آفات کے دوران صحت کی سہولیات فراہم کرنا محض ایک انتظامی فریضہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی جنگ ہے، جس میں ہر لمحہ قیمتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب نہ صرف متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کر رہی ہے بلکہ مستقبل میں بھی پائیدار نظامِ صحت کے قیام کے لیے جامع منصوبہ بندی پر عمل کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ “ہماری ترجیح ہے کہ سیلاب کے متاثرہ خاندانوں کو علاج کی وہی سہولت ملے جو شہری علاقوں میں میسر ہے، تاکہ کوئی بھی مریض علاج کی کمی کی وجہ سے اپنی جان نہ گنوائے۔”
خواجہ عمران نذیر کی کاوشوں نے یہ ثابت کیا کہ قدرتی آفات کے مقابلے میں عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور بروقت فیصلے سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ سیلاب کے دوران محکمہ صحت کی کارکردگی نے نہ صرف پنجاب حکومت کے وژن “محفوظ اور صحت مند پنجاب” کو عملی جامہ پہنایا بلکہ متاثرہ عوام کے دلوں میں اعتماد اور حوصلہ بھی پیدا کیا






