مائیک خاموش، آواز بلند
ڈیرے دار
سہیل بشیر منج
عالمی سطح پر طاقت اور اثر و رسوخ کی جنگ کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب یہ جنگ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں کھل کر سامنے آئے تو اس کے پیغامات بہت گہرے اور معنی خیز ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ترک صدر طیب اردگان اور انڈونیشین صدر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، جہاں ان کی تقریر کے دوران مائیک بند کر دیا گیا، عالم اسلام کے لیے ایک بہت بڑا اور تلخ پیغام تھا۔ یہ واقعہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں تھا، بلکہ اس نے کئی حقائق کو بے نقاب کر دیا۔
یہ واقعہ سب سے پہلے عالم اسلام کی آواز کو دبانے کی کوشش کا واضح ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ ایک ایسا فورم ہے جہاں ہر ملک کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جب مسلم دنیا کے بڑے رہنما، جو فلسطین، کشمیر، اور دیگر مسلم مسائل پر کھل کر بات کر رہے تھے، ان کی آواز کو خاموش کر دیا جائے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایک خاص بیانیہ اور نقطہ نظر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر آپ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں اور ان کے زیر اثر بیانیے سے ہٹ کر بات کریں گے، تو آپ کو بولنے کا حق نہیں دیا جائے گا۔
دوسرا اہم پیغام یہ ہے کہ مغرب کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ مغرب خود کو آزادیٔ اظہار کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتا ہے، لیکن جب بات عالم اسلام کے رہنماؤں کی ہو تو یہ اصول ہوا ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے بھی بعض طاقتوں کے زیر اثر ہیں اور وہ ان کے مفادات کے خلاف جانے والی آوازوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ عالم اسلام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اس کے مسائل کو عالمی سطح پر نظرانداز کیا جاتا ہے اور جب ان پر بات کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے دبا دیا جاتا ہے۔
تیسرا اہم پیغام یہ ہے کہ عالم اسلام کو اپنی قوت پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ یہ واقعہ مسلم ممالک کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ انہیں اپنی مشترکہ طاقت کو پہچاننا ہو گا۔ انفرادی طور پر مسلم ممالک کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں تو کوئی بھی طاقت انہیں نظرانداز نہیں کر سکتی۔ یہ واقعہ خود انحصاری اور اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ ترک اور انڈونیشین صدر کے مائیک بند ہونے کا واقعہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سیاسی پیغام تھا۔ اس نے یہ ظاہر کیا کہ عالمی سطح پر مسلم دنیا کی آواز کو دبانے کی شعوری کوششیں جاری ہیں۔ یہ واقعہ عالم اسلام کے رہنماؤں اور عوام کے لیے ایک بیداری کا لمحہ ہے کہ انہیں اپنے حقوق اور مسائل کے لیے نہ صرف آواز اٹھانی ہو گی بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ متحد بھی ہونا ہو گا۔
غزہ کی صورتحال اور فلسطینیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی یکجہتی کے پیش نظر، اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر ایک حساس موقع تھا۔ اس موقع پر مسلم ممالک اور کئی دیگر اقوام کے نمائندوں کا واک آؤٹ ایک علامتی، مگر انتہائی اہم اور واضح احتجاج تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک احتجاجی عمل نہیں تھا، بلکہ عالمی برادری کو کئی اہم پیغامات دے گیا۔
یہ واک آؤٹ سب سے پہلے فلسطینی عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا پیغام تھا۔ مسلم دنیا اور دیگر ممالک نے یہ واضح کیا کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ عمل فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک مضبوط اور متحد آواز تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔
دوسرا اہم پیغام یہ تھا کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ واک آؤٹ صرف مسلم ممالک تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں کئی ایسے ممالک بھی شامل تھے جو ماضی قریب میں اسرائیل کے قریبی اتحادی تھے ۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اسرائیل کی سخت گیر پالیسیاں، خاص طور پر غزہ میں فوجی آپریشنز، اسے عالمی برادری سے دور کر رہی ہیں۔ یہ عمل اسرائیل کے لیے ایک واضح اشارہ تھا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور اسے اب پہلے کی طرح آسانی سے قبول نہیں کیا جا رہا۔
تیسرا پیغام عالمی اداروں پر اعتماد کے فقدان سے متعلق تھا۔ یہ احتجاج اس بات کا اشارہ ہے کہ کئی ممالک کو اقوام متحدہ جیسے اداروں کی کارکردگی پر شک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ادارے فلسطینی مسئلے کو حل کرنے یا اسرائیل کو اس کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس واک آؤٹ نے یہ پیغام دیا کہ اگر عالمی ادارے انصاف فراہم نہیں کر سکتے تو ممبر ممالک اپنے تحفظات اور احتجاج کا اظہار دیگر طریقوں سے کریں گے۔
مجموعی طور پر، یہ واک آؤٹ صرف ایک احتجاجی عمل نہیں تھا، بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کا ایک ثبوت تھا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ فلسطینی کاز آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے اور اسرائیل کی پالیسیاں اسے عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی علامتی کارروائی تھی، لیکن اس کے اثرات اور پیغامات بہت گہرے اور دور رس ہیں۔ یہ واقعہ ایک نئی عالمی صف بندی کی جھلک بھی دکھاتا ہے، جہاں دنیا کا ایک بڑا حصہ اب صرف مغرب کے حمایت یافتہ بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ وہ اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق اپنی خارجہ پالیسیوں کو ترتیب دے رہا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک ایسے وقت میں ہوا جب عالمی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مسلم امہ کو کئی سنگین






