#کالم

احساس کے انداز 

جاویدایازخان

عروج کا نشہ اور زوال کی پستی 

تحریر :۔ جاویدایازخان 

اپنی ستر سالہ زندگی اور نصف صدی کی طویل  بینک ملازمت کے دوران  میں نے بےشمار لوگوں کو زیرو سے ہیرو   ہوتے اور ناجانے  کتنے ہی لوگوں کو  ہیرو سے زیرو تک کا سفر کرتے دیکھا ۔لوگوں کو عروج کے نشے میں بدمست بھی پایا اور زوال کی پستی میں گرے ہوۓ بے بسی سے پکارتے بھی سنا ہے َ۔وہی جو کبھی کار سے اترتے نہ تھے انہیں پیدل سڑکوں پر چلتے دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس نے ان کے اس عروج  کا عالم دیکھا ہو  جب وہ انسان کو انسان نہ سمجھتے تھے ۔ایسے ہی گذشتہ روز ایک بہت بڑے  پرانے دوست اور آج کے بڑے سرمایہ دار  دوست سے ملاقات ہوئی  تو مجھے یاد آیا کہ یہ میرا دوست جب سب کچھ گنوا کر سعودی عرب سے واپس لوٹا تھا تو کاروبار کے لیے پھوٹی کوڑی بھی پاس نہ تھی ۔ بڑے مشکل سے اپنا بزنس شروع کرنا چاہاتو میں نے بڑی منت سماجت کرکے اپنے ریجنل ہیڈ سے  اس کے لیے تین لاکھ روپے قرض کی منظوری حاصل کی  جس کے لیے سیکورٹی بھی کسی دوسرے دوست سے لے کر دی تھی ۔ایسے ہی ایک مرتبہ مجھے ایک ہوٹل میں ایک ویٹر سے ملاقات ہوئی تو  بڑی حیرت ہوئی اس نے بتایا کہ سر ! آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں آپ کے فلا ں دو ست کا بیٹا ہوں جن کی کاٹن فیکڑی ہوا کرتی تھی  اور پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا کام ہوتا تھا ۔پاکستان میں میرا ایک ڈرائیور   دوبئی میں کئی پلازوں کا مالک کیسے بنا ؟ یہ کوئی لمبی کہانی نہیں ہے ۔ اوربڑے بڑے افسروں کا دبدبہ اور طاقت بھی دیکھی اور انہیں پھر  لوگوں سے مانگ کر چاۓ پیتے بھی دیکھا ہے ۔غرور کی پہاڑ بھی دیکھے اور عاجزی کی گہری گھاٹیاں اور کھائیاں بھی دیکھی ہیں ۔درختوں کوسرسبز بھی دیکھا اورسوکھ کر لکڑی بنتا اور دیمک زدہ بھی دیکھا ۔

عروج وزوال کے یہ قصے بہت پرانے ہو چکے ۔میں نے ہمیشہ سب کو اس وقت بھی بےپناہ عزت دی جب وہ کچھ  بھی نہ تھے اور تب بھی انہیں بےحد احترام دیا جب وہ سب کچھ ہوچکے تھے ۔لیکن سوال یہ ہےکہ یہ عروج یکایک زروال میں اور زوال تیزی سے عروج میں کیوں ڈھل جاتا ہے ؟کبھی اقتدار اور حکمرانی یکایک قید و پستی میں کیوں بدل جاتی ہے ؟ شیر شاہ بادشاہ اور ہمایوں فقیر کیسے بن جاتا ہے ؟ اچانک لوگ محرم سے مجرم کیوں بن جاتے ہیں ؟ میں نے ایک مرتبہ اپنے اباجی سے پوچھا   کہ یہ عروج کی سرسبز شاخیں یکایک کیسے سوکھ کر خشک ہو جاتی ہیں  ؟ اور یہ  انسانی  زندگی کی بہار کیسے خزاں میں اور خزاں کیسے بہار میں تبدیل ہو جاتی ہے ؟تو وہ کہنے لگے درحقیقت اس کے ذمہدار ہم خود ہوتے ہیں ۔پھر انہوں نے ایک کہانی سنائی کہ ایک بہت ہی گناہ گاراور اپنے زمانے کا فاسق وفاجر شخص ای جنگل سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے سامنے ایک سوکھی ٹہنی دباۓ بیٹھا تھا اور اللہ کی عبادت کر رہا تھا ۔اس گناہ گار  شخص نے پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ اس پر اس عبادت کرنے والے نیک اور پرہیزگار بندے نے بتایا کہ میں سالوں سے دنیا سے دور اس ویرانے میں اللہ کی عبادت کر رہا ہوں جس دن میری عبادت قبول ہو گئی اس دن یہ سوکھی ٹہنی ہری ہوجاۓ گی  اور اس طرح مجھےقبولیت کا بھی  پتہ چل جاۓ گا۔اس گناہ گار کے دل میں جانے کیا آئی وہ ساتھ ہی زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبا کر بیٹھ گیااور عبادت کرنے لگا ۔تھوڑی دیر بعد کہیں سے ایک آدمی کی مدد کے لیے چیخنے کی پکار سنائی دی ۔دونوں نے سنی ان سنی کردی اور عبادت کرتے رہے ۔تھوڑی دیر میں یہ آواز دوبارہ آئی اور تین چار مرتبہ کی پکار کے بعد گناہ گار نے اس نیک بندے سے کہا میں تو ابھی بیٹھا ہوں اٹھنا نہیں چاہتا تمہیں عرصہ ہو گیاہے تم ذرا اٹھ کر اس کی مدد ہی کر دو   تو اس نیک بندے نے گناہ گار کو ڈانٹ کر کہا میری عبادت میں خلل نہ ڈالو میری ارتکاز ٹوٹ جاتی ہے ۔جب مدد کی پکار مسلسل آتی رہی تو گناہ گار سے نہ رہا گیا اور وہ عبادت چھوڑ کر مدد کرنے چلا گیا۔جب تھوڑی دیر بعد وہ مدد کر کے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی سوکھی اور خشک ٹہنی ہری ہو چکی تھی اور اس نیک بندے کی ٹہنی ویسے ہی سوکھی تھی ۔بےشک وہ رب ہے جس کی چاہے توبہ اور عبادت قبول کر لے ۔کبھی کبھی برسوں کی ریاضت بھی ایک لمحے میں پلٹا دی جاتی ہے اور کبھی ایک ادا ہی قبولیت کا سبب بن جاتی ہے ۔انسانیت کی خدمت اور انسانیت سے محبت کا صلہ بہت زیادہ اور جلد ملتا ہے۔ہماری سوچ اور عمل ہمارے عروج وزوال کا باعث بنتے ہیں ۔انسان کو کوئی دشمن یا مشکل حالات  ختم یا کمزور نہیں کر سکتے اصل تباہی اس کی اپنی سوچ اور کمزور ذہنیت سے آتی ہے ۔اصل کامیابی یا ناکامی انسان کے اندر ہے باہر کی دنیا میں نہیں ہے ۔

پھر اباجی کہنے لگے کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے زوال کی بدترین  صورتحال کا سامنا کیا اور اپنے عروج وزوال کی وجہ  اپنے ہی ایک شعر میں ہی بیان کردی  ہے ۔ان کا  بادشاہت سے معمولی قیدی تک کا سفر نہایت ایذیت ناک تھا ۔اس شعر  میں وہ نہ صرف زہد وتقویٰ کا پیغام دیتے ہیں بلکہ انسانی کردار کا اصل امتحان بھی واضح کرتے ہیں ۔عیش اور طیش ہی کو عروج وزوال کی وجہ قرار دیتے ہیں ۔عروج کا طیش خدا کا خوف دل سے نکال دیتا ہے جبکہ عیش و آرام میں انسان خدا کی یاد سے غافل ہو کر سب کچھ بھول بیٹھتا ہے ۔عیش میں نعمتوں کا شکر گزار رہنا اور تکبر نہ کرنا اور طیش اورعروج میں ظلم سے باز رہنا ،جذبات میں حدود پار نہ کرنا  دو دونوں حالتیں انسان کے اخلاق اور روحانیت کی  کسوٹی ہوتی ہیں ۔ نہ راحت میں سجدہ ،نہ غصے میں صبر تو گویا بندہ کسی طرح بھی خدا کا نہیں رہتا ۔

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم وذکا

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی طیش میں خوف خدا نہ رہا 

عروج وزوال کی کی دنیاوی وجوہات عام طور پر کئی سیاسی سماجی اور معاشی اور ذاتی عوامل پر مبنی ہو سکتی ہیں ۔ عروج اکثر محض قابلیت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے مخصوص حالات ،تعلقات اور مواقع بھی کار فرما ہوتے ہیں ۔درحقیقت یہ عروج  ہماری کسی ادا کی قبولیت اور زوال ہماری کسی کوہتاہی میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے ۔بعض اوقات عروج کے نشے اور تکبر کے عالم میں خدا کی پکار سنائی نہیں دیتی اور ایسے ہی زوال کی کی باعث کسی گہری کھائی میں گرے ہوےانسان کی جانب سے اپنے رب کی پکار کا جواب اسے پھر سے بلندیوں تک لے جاتا ہے ۔نشیب وفراز کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ترقی اور عروج کا  ہر راستہ انسانی خدمت  کی پگڈنڈی سے ہوکر گزرتا ہے۔اور زوال کے پیچھے ہمیشہ تکبر کی بلند عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔  

سو لفظوں کی کہانی سلیکشن

احساس کے انداز 

مائیک خاموش، آواز بلند

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے