#کالم

چین، روس اور مغرب کے خلاف نیا مورچہ

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

چین، روس، پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اعلانِ بغاوت ہے اُن طاقتوں کے خلاف جو افغانستان کو اپنی کالونی بنانے کے خواب دیکھتے رہے۔ واضح طور پر کہا گیا کہ افغانستان اور اس کے گردونواح میں دوبارہ فوجی اڈے قائم نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ یہ پیغام براہِ راست واشنگٹن اور یورپ کے ایوانوں تک پہنچا ہے کہ اب خطہ کسی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔

مغرب کی پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ مسلم دنیا کو تقسیم کرو، وسائل لوٹو، اور امن کے نام پر جنگ مسلط کرو۔ لیکن اب چین اور روس کی جو proactive diplomacy سامنے آئی ہے، وہ مغرب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مشترکہ اجلاس، اقوامِ متحدہ میں قراردادیں، علاقائی بلاکس کی تشکیل اور افغانستان سے متعلق واضح موقف… یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اجارہ داری ٹوٹنے والی ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ہر ریاست کا اس اتحاد میں شامل ہونے کا محرک الگ الگ ہے۔ چین اپنی سرحدی سلامتی اور اقتصادی راہداریوں کے تحفظ کا خواہاں ہے، روس وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے، ایران اپنی سرحدی خودمختاری اور خطے میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے لیے یہ سب کچھ دہشت گردی کے خاتمے، مہاجرین کے مسئلے کے حل اور داخلی استحکام کا معاملہ ہے۔ یوں یہ اتحاد علامتی نہیں بلکہ حقیقی سیکورٹی اور مفادات کا ترجمان ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ایران، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات اپنی روایتی مجبوریوں اور مصلحتوں سے نکل کر کھل کر اس فورم کا حصہ بنیں۔ یہ صرف ایک علاقائی اتحاد نہیں ہوگا بلکہ ایک اسلامی و ایشیائی مورچہ ہوگا جو امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا راستہ روک سکے گا۔ خاص طور پر فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کے مسائل پر یہ اتحاد ایک گرجدار آواز بن سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس ایک تاریخی موقع ہے۔ اگر ہم نے چین اور روس کے ساتھ قدم ملا کر مسلم دنیا کو متحد کر لیا تو نہ صرف ہماری خودمختاری مستحکم ہوگی بلکہ خطے میں قیادت کا کردار بھی پاکستان کے ہاتھ میں آ سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے تذبذب دکھایا تو تاریخ ایک بار پھر ہمیں کمزوری کے کٹہرے میں کھڑا کر دے گی۔ اس وقت ہمیں اپنی سفارتکاری میں توازن رکھنا ہے: چین اور روس کے ساتھ شراکت داری مضبوط بناتے ہوئے مغربی دنیا کے ساتھ معاشی تعلقات بھی قائم رکھنے ہیں۔

یہ جنگ صرف بندوقوں کی نہیں، بیانیے، سفارتکاری اور اتحاد کی ہے۔ جو قومیں بروقت فیصلہ نہیں کرتیں وہ دوسروں کی شطرنج کا مہرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان کے پاس انتخاب ہے: ہم مورچہ بنیں یا مہرہ۔ فیصلہ وقت کا تقاضا ہے، اور تاریخ کے امتحان میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے