#اداریہ

ازاد کشمیر میں حقوق کی جنگ ‘ مظاھرین کے 38 مطالبات

أج کا اداریہ

ازادکشمیر میں تاجروں اور عوام کی نمائندہ تنظیم ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی کال پر ایک بار پھر ریاست میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جسے ناکام بنانے کیلیے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جزوی طور پر بند ھے۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کشمیر کی حکومت نے وفاق سے اضافی پولیس اور فورسز طلب کی ہیں۔
کشمیر بھر میں ہڑتال کی کال دینے والوں کا کہنا ہے کہ خطے میں آٹے اور بجلی کی لگاتار اور رعایتی نرخوں پر فراہمی کے لیے دو سال قبل شروع ہونے والی اس تحریک میں اب کشمیری اشرافیہ کو حاصل مراعات میں کمی، مخصوص اسمبلی نشستوں کے خاتمے اور مفت تعلیم و صحت کی سہولیات جیسے اضافی مطالبات کو شامل کیا گیا ہے۔
ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ اس مرتبہ احتجاج اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت دو سال قبل طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد میں بھی ناکام رہی ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے پیش کیے جانے والے 38 نکات پر مشتمل ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ میں جو مطالبات شامل ہیں ان میں حکومتی اخراجات میں کمی سے لے کر اسمبلی نشستوں پر اعتراضات ، مفت تعلیم و علاج کی سہولت اور فضائی اڈے کے قیام سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔
ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے اضافی مطالبات میں سرِفہرست مطالبہ حکمران اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق حکومتی نمائندوں نے یہ تسلیم کیا تھا کہ اعلیٰ حکومتی شخصیات کو حاصل مراعات کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا، لیکن 15 ماہ گزرنے کے بعد بھی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مراعات کے فوری خاتمے کے ساتھ ساتھ اس ضمن میں فوری قانون سازی کی جائے۔
مطالبات میں کہا گیا ہے کہ حکمران طبقے کی شخصیات کو صرف ایک 1300 سی سی گاڑی کے استعمال تک محدود کیا جائے اور ان گھروں میں ذاتی کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو ان کے متعلقہ محکموں میں واپس بھیجا جائے۔
حکومتی کابینہ سے وزرا کی تعداد کم کی جائے تاکہ خزانے پر بوجھ کو کم کیا جا سکے، نیز مشیران اور پی آر اوز وغیرہ کے نام پر سیاسی بھرتیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ ‘مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔‘ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ’کشمیر کے بجٹ سے ترقیاتی فنڈز کی ریاست سے باہر منتقلی کا غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی سلسلہ فوری بند کیا جائے۔‘
ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ‘ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور کشمیر میں ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔’
کشمیر میں 1947 سے مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین کو مستقل آباد کر کے مالکانہ حقوق دیے جائیں۔ یاد رہے کہ یہ تمام افراد اب بھی مہاجرین کہلاتے ہیں جن کی ایک بڑی تعداد مختلف جگہوں پر قائم ’مہاجر کیمپوں‘ میں مقیم ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ آٹھ دسمبر 2024 کو ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان ہونے والے تحریری معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ 90 دن کے اندر درج کیے گئے تمام مقدمات ختم کیے جائیں گئے لیکن تاحال مقدمات منسوخ نہیں کیے گئے۔
اُن کا الزام ہے کہ ’انہی مقدمات کو بنیاد بنا کر مختلف علاقوں میں کریکٹر سرٹیفیکٹس جاری کرنے میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، لہذا حکومت تمام مقدمات کو منسوح کرے اور کریکٹر سرٹیفیکٹ جاری کیے جائیں۔‘
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستان رینجرز کی فورسز کو تعینات کرنا ریاست پر بیرونی حملہ تصور کیا جائے گا۔
کمیٹی کے اضافی مطالبات میں مفت علاج کی فراہمی کو بھی شامل کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ازادکشمیر بھر کے تمام ضلعی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں، دیہی ہیلتھ سنٹرز اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور عملے کی ضرورت فوری طور پر پوری کی جائے۔
ہر ہسپتال میں لیبارٹریز قائم کی جائیں تاکہ مرض کی تشخیص با آسانی ہو سکے، مریضوں کو فری ادویات اور فری ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ تمام ہسپتالوں میں اوپی ڈی کا دورانیہ 24 گھنٹے رکھا جائے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ‘ریاست کے ہر شہری کی تعلیم کا حق تسلیم کرتے ہوئے سب بچوں کو فری اور یکساں تعلیم دی جائے۔ اس کے علاوہ درس و تدریس اور امتحانات کیلئے جدید سائنسی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ تمام اداروں میں یکساں نصاب ہونا چاہیے۔’
کمیٹی کا کہنا ہے کہ سفر کے سہولیات کے لیے ریاست میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ تعمیر کیے جائیں اور وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے پہلے سے کیے گئے میرپور انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے اعلان کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
اور کشمیری کوٹے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔‘
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں معاہدے کے بعد سسٹے آٹے کی فراہمی کے لیے جو گندم لائی گئی تھی وہ ایکسپائرڈ ہے۔ ’فلور ملز میں ایسی ناقص گندم کی موجودگی ثابت ہوئی ہے جو کہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترداف ہے۔ کشمیر بھر میں آٹے کے معیار کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بنایا جائے اور محکمہ خوراک میں گندم کی خریداری سے آنے کی ڈیلرز شپ فراہمی کا نظام صاف اور شفاف بنانے کے لیے بائیو میٹرک نظام نافذ کیا جائے۔‘
حکومت کو دیے گئے 38 مطالبات کی فہرست میں نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی، روز گار کی فراہمی یا بے روزگاری الاؤنس، ٹیکس میں چھوٹ، پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکسز اور فیسوں میں کمی، معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ، عدلیہ میں اصلاحات، بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات، طلبہ یو نین کے انتخابات، پی ایس سی کے امتحانات کا انعقاد، ایڈہاک

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے