#کالم

سیلاب اور صاحب ِ استطاعت بھکاری

خواجہ جمشید امام 1

خواجہ جمشید امام
حقیقت یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان کا اقتدار ِ اعلیٰ تو اللہ رب العزت کے پاس ہے اور ہیڈ آف دی سٹیٹ یعنی ریاست کا سربراہ ریاستِ پاکستان کو اللہ کا نائب ہونے کے ناطے اللہ کے دئیے ہوئے اختیارات کے مطابق چلاتا ہے۔ سو اللہ کے بعد پاکستانیوں کی نظریں ریاست کی طرف ہی ہوتی ہیں کہ وہ ہر دُکھ درد کا حل تلاس کرئے گی۔یہ کسی بھی شہری کا اپنی ریاست پر یقین کا آخری درجہ ہے۔سیلاب نے ہماری ریاست کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ہیں لیکن سیلاب گزر گیا اب بعد از سیلاب کے مسائل ہیں لیکن ہم انہیں اُس سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس کا یہ مسئلہ مطالبہ کر رہا ہے۔ کسی سماج کی اس سے زیادہ ذہنی پستی کیا ہو گی کہ لُٹے پُھٹے لوگ جب انپے گھروں کو واپس گئے تو اُن کے گھروں سے قیمتی سامان چرا لیا گیا تھا۔ ایسا تھیم پارک لاہور میں بھی ہوا تو پھر پیروالا کا تو اللہ ہی حافظ تھا۔ سیلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کو صاحب ِ استطاعت سے بھکاری بنا دیا۔ جو صبح خیرات بانٹ رہے تھے رات وہ لائن میں لگے ٗ بے سروسامانی کے عالم میں اپنی جوان بچیوں کے ساتھ کسی گمنام سٹرک کے کنارے بستر کی چادروں کا سائبان بنائے بدتر زندگی گزار رہے تھے۔ یہ سب کچھ پلکے جھپکتے ہی ہو گیا۔لوگوں کو بچوں کے علاوہ کچھ بھی بچانے کی مہلت نہیں ملی۔
جمعرات کی دوپہر فلیٹیز ہوٹل لاہور میں المصطفی ٹرسٹ کے سیلاب میں اپنی خدمات کے حوالے سے میڈیا بریفنگ رکھی تھی۔برادرم نواز کھرل جو المصطفی ٹرسٹ کے ترجما ن ہیں اُن سے میرا تعلق کالج کے زمانے سے ہے اور یہ وہ طلبا ء قائد تھے جن کا تعلق اے ٹی آئی سے تھا ٗ نواز پنجاب کے جنرل سیکرٹری رہے اور اللہ نے انہیں کمال صلاحیت ٗ حوصلہ اور انتھک جدو جہد کے جذبے سے نواز رکھا ہے ٗ چیئرمین المصطفیٰ ٹرسٹ برادرم عبد الرزاق ساجد سے بھی ضیاء کے دور ستمگر کی آشنائی ہے اور مجھے یاد ہے کہ وہ ایک زمانے میں اے ٹی آئی (انجمن طلباء اسلام) کے مرکزی صدر تھے جنہوں نے 1989 ء کے طلباء انتخابات میں پنجاب بھر میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ المصطفی ٹرسٹ کا دسترخوان سال بھر لوگوں کی خدمت میں مصروف رہتا ہے اور میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ عبد الرزاق دراصل رزاق کا حقیقی بندہ ہے۔ جسے اللہ نے رزق بانٹنے پر معمور کررکھے ہے۔ فلیٹزہوٹل میں وقتِ مقررہ پر صحافی دوستوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن میں مجیب الرحمان شامی ٗ عامر خاکوانی ٗ نوید چوہدری ٗ دلاور چوہدری ٗصوفیہ بیدار صاحبہ ٗ سلمان غنی ٗ مدثر اقبال بٹ ٗہمارے بزرگ کالم نگار منشاء قاصی ٗ ناصف اعوان اور سعید بدر کے علاوہ صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
المصظفی ٹرسٹ کی ایم ڈی محترمہ نصرت سلیم صاحبہ بھی اے ٹی آئی خواتین ونگ پاکستان کی صدر رہی ہیں ٗ نے سیلاب کے حوالے سے ایسی معلومات فراہم کیں جو یقینا دل ہلا دینے والی تھیں۔ اُن کی بریفتنگ کے مطابق 80لاکھ سے زائد لوگ اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اُن کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیوں کہ یقینا یہ وہ لوگ ہیں جو سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں لیکن ان متاثرین کے وہ عزیز و اقارب جن تک سیلاب نہیں پہنچا اُن تک یہ متاثرین ضرور پہنچیں گے اور یہ بڑا بوجھ ابھی اُن پر آئے گا۔ المصطفی ٹرسٹ کے 6 ہزار پانچ سو رضا کاروں نے سیلاب کے ساتھ ساتھ اپنا سفر کیا یوں انہوں نے کے پی کے ٗ پنجاب اور سندھ تک اپنی خدمات کو پھیلائے رکھا۔بریفینگ تک پاکستان کے 27اضلاع اور 2سو سے زائد مقامات پرالمصطفیٰ کا ریلیف آپریشن جاری رہا۔ جس میں انہوں نے 10لاکھ سے زائد انسانوں میں کھانا تقسیم کیا ٗ 25میڈیکل کیمپ لگائے جن میں 12770مریضوں کا علاج کیا گیا اور انہیں ادویات فراہم کی گئیں ٗ 10خیمہ بستیوں قائم کیں جن میں 5ہزار سے زائد بے گھر افراد کو پناہ دی گئی۔مویشیوں کیلئے 60 ہزار کلو سے زائد چارہ تقسیم کیا گیا ٗ 20 کشتیوں کے ذریعے گہرے پانیوں میں پھنسے خاندانوں کو نکالنے اور ان تک امداد پہنچانے کیلئے آپریشنز کیے گئے۔ پنجاب کے 21اضلاع میں المصطفی ٹرسٹ کی سرگرمیاں عروج پر تھیں جس کیلئے میں روزانہ کی بنیاد پر المصطفی کا پیج وزٹ کرتا رہا ہوں۔ سماج کو جو بھی خدمات سرانجام دے وہ ہمیشہ قابل عزت ہوتا ہے۔اللہ علم اور دولت سزا کے طور پر دے دیتا ہے لیکن علم او ر دولت بانٹنے کی توفیق ہمیشہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو عطا کرتا ہے۔سیلاب نہ بھی ہو تو المصطفی کی خدمات جاری رہتی ہیں کہ مصطفی ؐ کے دسترخوان پر تو ساری کائنات بیٹھی ہے۔سلام ہے اُن ماؤں کو جو جنہوں نے ایسے بیٹے پیدا کیے ہیں جو بدترین حالات میں اپنے لوگوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔المصطفی ٹرسٹ اب اُن لوگوں کیلئے بھی کام کررہی ہے جو اس سیلاب کی وجہ سے بہت سی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گھروں کو واپس جانے والوں کو ایک ماہ کا راشن اور نقد رقم بھی دے رہی ہے کہ وہ زندگی کو پھر سے شروع کرسکیں کہ گھروں میں سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہیں بچا۔ ان تنظیموں کی مدد ہم سب کااخلاقی ٗ سماجی ٗ انسانی اور مذہبی فریضہ ہے۔ ہمیں المصطفی ٹرسٹ کے ہمرکاب پورے قد کے ساتھ کھڑ اہو نا پڑے گا کہ یہ غیر سیاسی تنظیم وہ سب کام کر رہی ہے جو ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو پھراللہ عبد الستار ایدھی اور عبد الرزاق ساجد جیسے لوگ پیدا کردیتا ہے کہ انسا ن کو بچایا جا سکے۔ اگر یہ لوگ بھی نہ ہوں تو سوچیئے کہ ایسے مصیبت کے ماروں کا کیا حال ہو؟سیلاب کے بعد کی صورت حال کا گہرا مطالعہ ابھی کر لیناچاہیے کہ کسانوں اورفصلوں کی بربادی کے بعد اس کا سارا بوجھ بڑے شہروں پر بھی آئے گا جو مہنگائی اور بیروزگاری کی بدترین شکل میں ہو گا۔صحافیوں نے اس میڈیا بریفینگ کو غور سے سنا بھی اور مفید مشورے بھی دیئے لیکن حکومتوں کو چاہیے کہ اگر وہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے