ایشیا کرکٹ کپ بھارت لے اڑا
أج کا اداریہ
متحدہ عرب امارات میں کرکٹ میلہ بھارت نے لوٹ لیا ایشیا کپ کے فائنل مقابلے میں پاکستان کے دیے گئے 147 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کرتے ہوئے انڈیا نے پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کر لی اسطرح 9 مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں أغاز اور آخری لمحات میں صورتحال خاصی دلچسپ رہی۔ کھیل کا پانسہ کبھی پاکستان تو کبھی بھارت کے حق میں پلٹتارہا۔ تاہم بھارت کی مڈل أرڈر ذمہ دارانہ بیٹنگ کی وجہ سے پاکستان کا 147 رنز کا ہدف پانچ وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں اس وقت حاصل کیا جب صرف آخری دو گیندیں باقی رہ گئی تھیں۔
مڈل آرڈر بیٹر تلک ورما 69 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انھوں نے اپنی شاندار اننگز کے دوران تین چوکے اور چار چھکے بھی لگائے۔ پاکستان نے انہیں أؤٹ کرنے کے دو مواقع ضائع کیے ایک رن أؤٹ اور دوسرا أسان اسٹمپڈ اؤٹ کا موقع کھویا ۔
شیوم دوبے نے 33 اور سنجو سیمسن نے 24 رنز کی اننگز کھیل کر انڈین ٹیم کے لیے جیت کی راہ ہموار کی۔ سیمسن کا بھی کابھی ایک کیچ اس وقت ڈراپ ھوا جب ابرار کی گیند پر حسین طگعت نے باؤنڈری لائن سے اندر کی طرف بھاگتے ہوئے گیند کو ہاتھوں میں قابو نہ کرسکے۔ پاکستان کے فاسٹ باؤلر فہیم اشرف نے تین وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کوجیت کی ڈگر ڈالا مگر حارث روف نے اپنی خراب باولنگ کے باعث انکی محنت خاک میں ملادی ابرار احمد اور شاہین شاہ آفریدی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ جبکہ محمد نواز کو صرف ایک اوور دیا گیا۔حارث رؤف نے 3.4 اوور میں 50 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے ۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے گزشہ روز کے فائنل میچ میں بھارت کے لیے بیٹنگ کا آغاز گو کہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا تھا جب اوپنر بیٹر ابھیشک شرما پانچ رنز بنا کر دوسرے اوور کی پہلی گیند میں آؤٹ ہو گئے۔ فہیم اشرف نے أؤٹ کیا
شبمن گل ایک رن بنا کر فہیم اشرف کا ہی شکارہوئے جبکہ کپتان سوریا کمار یادو کو ایک رن پر شاہین شاہ آفریدی نے آؤٹ کیا۔
انڈین کھلاڑی سنجو سیمسن 24 رنزبنا کر ابرار احمد کے ہاتھوں آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ گئے۔
بھارت کی پانچویں وکٹ 137 رنز پر گری جب دوبے 33 رنز بنا کر فہیم کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ اس سے قبل جب بھارت نے نویں اوور کے اختتام پر تین وکٹوں کے نقصان پر 54 رنز بنا لیے تھے۔اور 15ویں اوور کے اختتام پر چار کھلاڑیوں کے نقصان پر سکور کو 100 رنز پر پہنچا دیا تھا تب یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان کے لیے جیت کی راہ ہموار ہونے لگی ہے تاہم پھر مقابلہ کانٹے دار ہوتا گیا۔
اس سے قبل میچ کے آغاز پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی، پاکستان کا آغاز جارحانہ رہا اور صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان نے تیز رفتاری کے ساتھ رنز بنائے۔صاحبزادہ کی ففٹی کی بدولت پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہننے ہی لگی تھی
پہلی وکٹ 84 رنز پر گرگئی جب صاحبزادہ فرحان 38 گیندوں پر 57 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ دوسری وکٹ 113 رنز پر گری جب صائم ایوب 13 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ محمد حارث بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا، حسین طلعت، فہیم اشرف بھی بظاہر خراب شاٹس کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔
بھارت کی جانب سے کلدیب یادیو نے چار اوورز میں 30 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ جسپریت بمرا، اکشر پٹیل، ورون چکرورتی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ اسطرح شاھینوں کی اننگز 146 تک سمٹ کررہ گئی۔
اس میچ کے لیے ہاردک پانڈیا بھارتی اسکواڈ میں شامل نہیں تھےجبکہ پاکستان کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
پاکستان اور بھارت ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پہلی بار آمنے سامنے أئے تھے ، بھارت نے نویں مرتبہ ٹائٹل جیتا جبکہ پاکستان دو مرتبہ ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے نام کر چکا ہے۔
پاکستان نے پاوور پلے کا آغاز محتاط انداز سے کیا، انڈین کپتان نے جسپریت بمرا کے بجائے گیند شیوم دوبے کو تھمائی جنھوں نے ابتداً پاکستانی بلے بازوں کا خاموش رکھا۔ مگر ایک بار پھر صاحبزادہ فرحان نے جسپریت بمراہ کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور ایونٹ کے دوران اُنھیں تیسرا چھکا لگا دیا
فائنل میں بھی دونوں ٹیموں کے درمیان تناؤ برقرار رہا۔ بمرا نے حارث رؤف کو بولڈ کرنے کے بعد وہی اشارہ کیا جو حارث رؤف نے دونوں ٹیموں کے درمیان گذشتہ اتوار کو کھیلے گئے میچ میں کیا تھا۔
حارث رؤف نے گذشتہ میچ میں باؤنڈری پر فیلڈنگ کے دوران چھ، صفر کا اشارہ کرتے ہوئے جہاز گرانے جیسے اشارے کیے تھے۔ بمرا نے بھی حارث رؤف کی وکٹ لینے کے بعد اُنھیں وہی اشارہ کیا۔
میچ کے دوران سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا پر جان بوجھ کر گیند روکنے پر آؤٹ قرار دینے کی اپیل کی۔
سلمان علی آغا دوسرے رنز کے لیے بھاگ رہے تھے کہ تھرو اُن کی جانب آنے پر وہ تیزی سے کریز کی طرف گئے۔ لیکن امپائر نے سوریا کمار یادیو کی اپیل مسترد کر دی
پاک ‘ بھارت فائنل میچ میں بھی ٹاس کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان ہینڈ شیک نہیں ہوا جبکہ ٹاس کے دوران روی شاستری نے سوریا کمار یادیو جبکہ وقار یونس نے سلمان علی آغا سے بات کی۔
فائنل سے قبل دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے شوٹ میں بھی سوریا کمار یادیو نہیں آئے اور سلمان علی آغا نے ہی ٹرافی کے ساتھ تصویر بنوائی۔
سلمان علی آغا نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اُنھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر انڈین کپتان فوٹو شوٹ میں نہیں آتے۔
سلمان علی آغا نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ جب سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ہینڈ شیک نہیں ہوا۔
انڈیا کی ٹیم ایونٹ میں ناقابل شکست رہی ہے جبکہ پاکستان کو پول میچ میں اور پھر سپر فور کے میچ میں انڈیا نے






