#کالم

ایشیا کپ 2025

سید عمران سلیمnew

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ سید عمران سلیم

میری طرح آپ سب کرکٹ شائقین کا دل ضرور دکھا ہوگا پاکستان ایشیا کپ کے فائنل میں روایتی حریف بھارت سے ہار گیا عوام توقع کر رہی تھی کہ بھارت سے پچھلے دو میچ کی ہار کا بدلہ چکانے کا سنہری موقع تھا بھارت نے پورے ٹورنامنٹ میں تسلسل سے اچھی کارکردگی دکھائی پاکستان اپنی سابقہ غلطیوں سے سیکھ جائے گا لیکن ہر میچ میں نئی نئی غلطیاں جو اب ہماری عادت بن گئی ہے ٹورنامنٹ کے سٹارٹ سے پاکستانی ٹیم فیورٹ ہی نہیں تھی جس طرح کی ٹیم بھیجی گئی یہ بھارت سے نہیں جیت سکتی تھی سری لنکا اور بنگلہ دیش سے بھی ہم مر مر کر جیتے یہ سب تب ہوتا ہے جب ٹیم میرٹ پر سلیکٹ نا کی گئی ہو ظلم اور نا انصافی کی حد دیکھو جس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی وہ کپتان ہے کپتان ہمیشہ فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے ہمارا کپتان آغا پرچی ٹیم پر مسلط کر دیا گیا ہے چیونگم چبانا اور فیلڈ میں اچھل کود باقی پرفارمینس زیرو فخر اور فرحان کی شاندار اوپننگ پارٹنر شپ کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا نو بیٹسمینوں نے آخری نو اوور میں صرف 33 رنز سکور کئے اسی طرح باؤلنگ میں غلط باؤلنگ پلاننگ سے جو چانس بنا تھا جیتنے کا وہ بھی ہم نے گنوا دیا نواز نے ایک اوور میں تین ڈاٹ بالز کیں اس کو باقی تین اوورز نہیں کروائے گے صائم نے تین اوورز میں سولہ رنز دئے اس کے باقی ایک اور کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا صائم نے سات ڈاٹ بالز کرائیں بیٹسمینوں کی گندی ترین بیٹنگ غلط ٹیم سلیکشن غلط بیٹنگ آرڈر خراب فیلڈنگ ناقص پلاننگ سے 147 کا ہدف جس کو باؤلرز کی محنت کی وجہ سے آخری اوور تک گیا ورنہ یہ حدف ون سائیڈ ڈ لگ رہا تھا میچ کا ردھم بن گیا جیتنے کی توقع لگ گئی لیکن غلط باؤلنگ پلاننگ ایک آسان کیچ کا ڈراپ ہونا رن آؤٹ کے دو یقینی مواقع ہم نے میچ کھو دیا حارث رؤف کی زندگی کا مقصد بے مقصد زور لگانا جنہیں نا میچ سچویشن کا پتا لگتا ہے نا مخالف کی خوبیوں اور خامیوں کا علم ہوتا ہے جب جب بھی میچ پھنسا حارث رؤف مخالف ٹیم کو میچ دے کر واپس آگیا اس سے اچھے تو عباس آفریدی اور وسیم جونئر ہیں حارث رؤف حارث وکٹ کیپر سلمان آغا صائم ایوب فخر زمان بھی حسین طلعت یہ ٹونٹی سکواڈ کا حصہ نہیں ہونا چاہئے ان کی وجہ سے پورے ایشیا کپ ٹیم زوال کا شکار رہی فخر کا اس لئے لکھا ہے دس بارہ اننگز کے ایک اچھی اننگز سو سے زیادہ میچ ایوریج 22 کی ہے سفارشی اور ٹھلے بازوں سے جان چھڑوانے کا سنہری موقع ہے اب رسوائی اور شکست برداشت نہیں ہوتی غلط ایمپائرنگ اور بھارت کا محسن نقوی سے ٹرافی وصول نا کرنا ٹورنامنٹ اور کھیل کی روح کو داغدار کر گیا پرچی سلمان آغا سات میچز سات اننگز 72 رنز 89 گیندیں کھیلیں ایک چھکا ایک چوکا 12 کا ایوریج سٹرائیک ریٹ 79 اور کپتان کے تھرڈ کلاس فیصلے بابر اور رضوان ہمارے ہیرو ہیں ماڈرن کرکٹ کا کہ کر ان کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہمارے بیٹسمین کو جس باؤلر کی سمجھ نہیں آتی آنکھیں بند کر کے شاٹس مارنا شروع کر دیتے ہیں وکٹ گنوا کو پویلین واپس سنگل ڈبل لیتے ہوئے انہیں پورے ٹورنامنٹ میں دقت پیش آئی اور اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ ڈاٹ بالز بھی ہماری ماڈرن کرکٹ ٹیم نے کھیلیں ایک بندے کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں اس کو کپتان بنا کر بھیج دیا گیا پورے ٹورنامنٹ میں کہیں بھی ایسا نہیں لگا یہ پروفیشنل کرکٹ ٹیم ہے مڈل آرڈر نے پورے ٹورنامنٹ میں گند کیا حارث رؤف نے چول باؤلنگ کی میں یہ کہ سکتا ہو کہ ہم فائنل غلط کپتانی اور حارث رؤف کی وجہ سے ہارے شاہین آفریدی رانا فہیم اور فرحان نے جان لڑائی ماڈرن کرکٹر طلعت نے کیچ ڈراپ کیا مسٹر گوگل حارث نے آسان رن آؤٹ اور ہمارے فاسٹ باؤلر نے بچاس رنز دے کر میچ ہروا دیا پاکستان جارحانہ بیٹنگ اور موثر باؤلنگ سے مقابلہ جیت سکتا تھا ایسا نہیں ہوا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے