دل کا عالمی دن،ایک پیغامِ زندگی
عالیہ خان
alyiakhan875@gmail.com
کہا جاتا ہے کہ دل انسان کے وجود کا مرکز ہے۔ یہ دھڑکے تو زندگی ہے، اور اگر رکے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی دل سب سے زیادہ بیماریوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ انسان دل اور خون کی بیماریوں کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خوفناک بھی ہیں اور سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ ہمارے ہاں دل کے امراض صرف بڑی عمر کے افراد تک محدود نہیں رہے بلکہ نوجوان بھی ان کا شکار ہو رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پاکستانی مرد و خواتین کو مغربی ممالک کے مقابلے میں 10 سے 15 سال کم عمر میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہے۔ یہ حقیقت ایک کڑوا سچ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دل کے عالمی دن کی بنیاد 2000ء میں ورلڈ ہارٹ فیڈریشن نے اس مقصد کے لیے رکھی کہ لوگوں کو اس مہلک بیماری سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ اس دن کو منانے کا مقصد صرف تقریریں یا تقریبات نہیں بلکہ یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے ذریعے بڑے خطرات سے بچ سکتے ہیں۔مگر اصل سوال یہ ہے کہ آخر کم عمری میں دل کے دورے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ طبی ماہرین کے مطابق اس کا جواب سیدھا سا ہے،اور وہ ہے ہمارا طرزِ زندگی!!!۔ نوجوان آج زیادہ تر فاسٹ فوڈ، سافٹ ڈرنکس، سکرین ٹائم، نیند کی کمی اور ورزش سے بے توجہی کا شکار ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محض پچیس یا تیس سال کی عمر میں ہی ہارٹ اٹیک کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور سب سے بڑھ کر ذہنی دباؤ بھی نوجوان دلوں کو کمزور کر رہا ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ دل کا علاج صرف ہسپتال یا دوائی سے نہیں بلکہ احتیاط اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ممکن ہے۔ دل کے عالمی دن کا پیغام یہی ہے کہ سب سے پہلے تو ہم پنجگانہ نماز کی پابندی کریں،ہم اپنی غذا کو سادہ بنائیں، روزانہ کچھ وقت ورزش کو دیں، تمباکو نوشی اور شیشہ سے مکمل اجتناب کریں۔بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی باقاعدہ جانچ کروائیںپانی زیادہ پئیں اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھیں اور ذہنی سکون کے لیے مثبت عادات اپنائیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی یہ عادتیں سکھائیں تاکہ آنے والی نسلیں زیادہ صحت مند رہ سکیں۔اگر ہم نے آج احتیاط نہ کی تو آنے والے کل میں دل کے امراض ہمارے گھروں کے عام قصے بن جائیں گے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دل کو سنبھالیں، کیونکہ دل ہے تو زندگی ہے۔“A healthy heart is the key to a healthy life”






