#کالم

پنجاب پولیس — معمارِ امن ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں جدت و ترقی کا ماڈل

الیاس چدھڑ

الیاس چدھڑ


آغازِ تبدیلی
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی سربراہی میں پولیس نے اپنی صدیوں پرانی روایات سے نکل کر ایک ایسے جدید سفر کا آغاز کیا جسے بجا طور پر "انسٹیٹیوشنل ریفارمز” کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تھانہ کلچر کے بوسیدہ ڈھانچے کو بدلا بلکہ پولیس کو ٹیکنالوجی کے دور میں لے آئے۔
جرائم کی شرح میں کمی — اعداد و شواہد
اعداد و شمار اس تبدیلی کے گواہ ہیں:
لاہور میں ڈکیتی کی وارداتوں میں 35 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔
فیصل آباد میں موٹر سائیکل چوری کے کیسز میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
صوبہ بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران قتل کی شرح میں تقریباً 18 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
یہ کمی صرف سخت کارروائیوں سے نہیں آئی بلکہ جدید سسٹمز نے اسے ممکن بنایا۔
جدید سسٹمز — ٹیکنالوجی کا کردا

1.⁠ ⁠ای-پٹرولنگ سسٹم: ہر پولیس موبائل اور گشت پر نکلنے والے اہلکار کی لوکیشن اور کارکردگی براہِ راست مانیٹر کی جاتی ہے
2.⁠ ⁠ڈیجیٹل کرائم ریکارڈ: مجرموں کا مکمل ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے جس سے ان کے دوبارہ جرم کرنے کے امکانات کو روکا جا رہا ہے۔
3.⁠ ⁠سیف سٹی پروجیکٹس: لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد جیسے شہروں میں سی سی ٹی وی نگرانی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی مانیٹرنگ نے پولیس کو ایک قدم آگے کر دیا۔
4.⁠ ⁠ای-ایف آئی آر اور آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ: شہری اب گھر بیٹھے شکایات درج کر سکتے ہیں اور ان پر فوری کارروائی دیکھ سکتے ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوان اور آئی ٹی کا امتزاج
ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پولیس نے پہلی بار آئی ٹی سے وابستہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے دروازے کھولے۔
ہزاروں آئی ٹی گریجویٹس کو ڈیٹا اینالسٹ، سائبر کرائم اسپیشلسٹ اور ٹیکنالوجی ایڈمنسٹریٹرز کے طور پر بھرتی کیا گیا۔
پولیس ایپس اور سافٹ ویئرز انہی نوجوانوں کے ذہنوں کی تخلیق ہیں۔
اس نے پولیس کو ڈیجیٹل انسٹیٹیوشن میں بدل دیا ہے، جو خطے کے دوسرے اداروں کے لیے بھی مثال ہے۔
تھانہ کلچر کی تبدیلی — عوامی ردِعمل
اب شہری تھانوں میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں کمپیوٹرائزڈ ڈیسک، خواتین کاؤنٹر اور ون ونڈو آپریشن نظر آتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق، شہریوں کا اعتماد 42 فیصد سے بڑھ کر 68 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
رشوت اور سفارش جیسے ناسور کو کم کرنے کے لیے جدید مانیٹرنگ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور — معمارِ امن
ڈاکٹر عثمان انور کی بصیرت اور وژن نے یہ واضح کیا ہے کہ پولیس کا اصل مقصد صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ امن قائم رکھنا ہے۔ ان کے دور میں پنجاب پولیس نے یہ ثابت کیا ہے کہ:
جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ادارے ناکام رہتے ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
عوامی اعتماد کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔
نتیجہ
آج پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ بن چکی ہے جو جرائم کی بیخ کنی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی خدمت کے امتزاج سے ملک بھر کے لیے ایک نیا ماڈل ہے۔ ڈاکٹر عثمان انور کو بجا طور پر "معمارِ امن” کہا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی قیادت نے اس ادارے کو جہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے