#کالم

قصراورکسر

nasir iqbal khan

ناصر اقبا ل خان

میں پھر کہتا ہوں جو انسان محض اچھی نیت رکھتا ہوتوقادروکارساز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی غیبی مددسے اس کیلئے صلاحیت،ہمت ،سمت اورغلبہ کے بہترین اسباب پیداہوجاتے ہیں۔ہم انسان صرف نتیجہ دیکھتے ہیں جبکہ اللہ ربّ العزت کے ہاں محض نیت دیکھی جاتی ہے۔جو”خامی“ کا خدشہ ہوتے ہوئے بھی موثر تدبیر کے” حامی“ ہیں وہ زندگی میںایک بار یابار بار ناکامی کے باوجود اپنی تقدیرکارونا نہیں روتے جبکہ رشوت خوروں اور کام چوروں کے پاس اپنے دفاع میں ایک ہزارایک بہانہ اورفسانہ ہوتا ہے۔بچپن ہویا پچپن،میں آج بھی منشیات سے شدید نفرت کرتا ہوں۔اسلامی تعلیمات کی روسے انسان زندگی بچانے کیلئے مختصر مقدار میں ” سور“ تناول کر سکتا ہے لیکن دین فطرت نے منشیات کا” ناسور“ استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی ۔اگراینٹی نارکوٹکس فورس کے ریجنل کمانڈر سکندرحیات چوہدری کی مانندسماج میں دندناتے شرپسندوں کو دیکھتے ہوئے انسان کا خون کھولتا اورا ن کا صفایاکرنے کیلئے رگ رگ میں جنون دوڑتا ہو تو راہ میں آنیوالے پہاڑبھی قوت ارادی کی ضرب کاری سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔سرکاری اورنجی ”اداروں“ کی کامیابی کاکریڈٹ بھی ان کے داناکمانڈرز کے توانا” ارادوں“کوجاتا ہے۔بیسیوں قسم کی منشیات ہماری معاشرت اورمعیشت سمیت انسانیت کیلئے ” زہر“ جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلرز کیلئے ایک” قہر“ ہے ۔میں تین دہائیوں سے ریاستی اداروں پرتنقیدکرنے سے زیادہ انہیں سنجیدہ تجاویزدیتا اوران کی اجتماعی کامیابیوں کوسراہتا ہوں اورالحمدللہ ہمارے محکمے راقم کی ناقص تجاویز سے فیضاب اورسیراب بھی ہوتے ہیں۔مجھے بخوبی علم ہے ہمارے محکمے کس قسم کے خطرات جبکہ سیاسی مداخلت اورشدیددباﺅ میں کام کرتے ہیں ،بدترین” دباﺅ“ کے باوجود اینٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس فورس کامجموعی طورپر قانون اورانصاف کی طرف” جھکاﺅ“ مستحسن ہے۔ہمارے ہاں منشیات فروش” مردوں“کو” مُردوں ” کہنا زیادہ موزوں ہے کیونکہ کوئی زندہ ضمیر انسان دوسرے زندہ انسان کی ”رگ“ میں منشیات کا”روگ“ نہیں اتارسکتا تاہم ان مردوں یا مُردوںکے مقابلے میں مخصوص منشیات فروش خواتین زیادہ طاقتور اوربااثر ہوتی ہیںکیونکہ وہ منشیات فرو شی کے ساتھ ساتھ جسم فروشی اورمخصوص ارباب اقتدارو اختیار کی مالی ضروریات اور جنسی خواہشات بھی پوری کرتی ہیں۔منشیات فروش خواتین کے قانون کی گرفت میں آنے پران کے مستقل گاہک انہیں بچانے کیلئے ا پناپورا” زر“اور”زور”لگا دیتے ہیں۔”پوش“ سوسائٹیز میں پرجوش عورتوں کے زیرانتظام منشیات کاگندا دھندہ دیکھتے ہوئے انسان اپنا” ہوش“ کھوبیٹھتا ہے ۔منشیات فروش مافیا کے ماسٹرمائنڈ اور سہولت کار جہاں جہاں بھی ہیں ،ان میں سے کوئی اپنے محلے یا محلات کی بلنددیواروں اورسیاہ پردوں کے پیچھے ہوتے ہوئے بھی چشم قدرت سے نہیں چھپ سکتا ،راقم نے ہرعہد کے فرعونوں اورپلیدیذیدوں کوبے نقاب اور گرفتار ہوتے دیکھا ہے ۔ زندانوںمیں ضرورت سے زیادہ اسیران کے رش کاکریڈٹ یقینا اینٹی نارکوٹکس فورس اورپولیس فورس کوجاتا ہے ورنہ قانون شکنی میں ملوث مختلف مافیاز ہمارے معاشرے کوجنگل بنادیں۔بظاہرناممکنات میں شمارہونیوالے دشوارترین اہداف کاحصول یقینی بنانا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا،اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب میڈیا کی محتاج نہیں کیونکہ اس کاکام بولتا ہے۔ہمسایہ ملک میں ایک عام انسان نے مقامی اوزارسے پہاڑ کاسینہ کاٹ کراپنے گاﺅں کیلئے راستہ بنادیا تھا جبکہ ایک محبت کے مارے نے اپنی محبوبہ کیلئے نہر بنا دی تھی ۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے ریجنل کمانڈر سے کامیابی کاہنر سیکھیں،یقینا ” فیصلے“ اٹل ہوں تو”فاصلے “سمٹ جاتے ہیں اورکامیابی وکامرانی خود آپ پرفداہو جاتی ہے ۔راقم کامشاہدہ ہے ،جہاں جہاں برائی نے اَت مچائی ہوگی وہاں آپ اچھائی کو اس کے مدمقابل ضروردیکھیں گے، اس پرفتن دورمیں سچائی اوراچھائی دونوں کادم غنیمت ہے ۔اگر ہمار ے نوجوان بظاہر منشیات مافیا کے شکنجے میںہیں توانہیں اس چنگل سے چھڑانے کیلئے اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے ریجنل کمانڈر سمیت ان کاہرماتحت مزاحمت کار اپنے کام سے انصاف کررہاہے ۔آرپی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا ، آر پی اوساہیوال رانا ایازسلیم، آرپی او شیخوپورہ اطہراسماعیل ،آرپی اوگجرانوالہ خرم شہزادحیدروڑائچ،ڈی پی اوگجرات فیصل شہزاد ،شہراقبالؒ کے ڈی پی او کیپٹن (ر) دوست محمد، شاہینوں کے شہر میں براجمان ڈی پی اوتوقیرمحمدنعیم،ڈی پی او ننکانہ ارسلان زاہداورڈی ایس پی فاروق اصغراعوان کی قیادت میں ان کے ماتحت منشیات مافیا کادھڑن تختہ کررہے ہیں،اگر ہماری پولیس نیک نیتی سے کام کرے تومعاشرے میں کسی قسم کی برائی نہیں پنپ سکتی۔اینٹی نارکوٹکس فورس اورپنجاب پولیس کے ”شہدائ“ ان محکموں کی مجموعی کامیابی کی” شہادت“ دینے کیلئے کافی ہیں ۔ بااثر نقاب پوشوں کے آشیرباد سے ہمارا نظام متعدد مافیاز کے ہاتھوں میںیرغمال ہے لیکن اس کے باوجود اینٹی نارکو ٹکس فورس کے متحرک اورانتھک ڈی جی میجر جنرل عبدالمعید(ہلال امتیاز ملٹری)اوران کے معتمد ومستعد ریجنل کمانڈر سکندرحیات چوہدری(ستارہ امتیازملٹری اورستارہ امتیازسول) اپنے آئینی دائرہ کار کے اندر بھرپورمزاحمت کرتے ہوئے قابل قدرکامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ یادرکھیں انسان اپنے منہ سے دھواں اگلتاہواہرگز اچھا نہیں لگتا لیکن جب شیخوپورہ کی شہری آبادی سے کچھ دور ایک سبزہ زار میں بیسیوں ٹن منشیات کوبھسم کرنیوالے جدید پلانٹ کی چمنیاں دھواں اگلتی ہیں تو انسانیت کی نس نس میں سکون سرائیت کرجاتا ہے ،آر پی اواطہراسماعیل اورماہرتعلیم میاں عمران مسعود کی طرح میں بھی اس روح پرور منظرکاعینی شاہد ہوں۔راقم کے نزدیک منشیات کے استعمال سے ہونیوالی اموات قتل عمد ہیں جبکہ منشیات کے کاروبار سے وابستہ مردوزن سمیت ہرکردارقاتل ہے۔میںمنشیات فروش مافیا کی” سفارش“ کوانسانیت کیخلاف گھناﺅنی ”سازش “سمجھتا ہوں ، جس کے ایمان اوراس کی انسانیت میں” خامی“ نہ ہووہ منشیات مافیا کا”حامی“ نہیں ہوسکتا۔مجھے تعجب ہوتا ہے جب منشیات فروش گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو ایک ہجوم ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ڈرگ ڈیلرز کے حامی قانون دان کاپیشہ ورانہ قداینٹی نارکوٹکس فورس کے سرکاری ایڈووکیٹ سے بہت بلندہوتا ہے اوروہ چندپیشیوں کے بعد ہمارے ناتواںنظام کوروندتے ہوئے رہاہوجاتے ہیں تاہم متعدد کوسزابھی ہوتی ہے۔نشیب وفراز کے باوجودآج تک اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے پیشہ ورانہ آپریشنز کاسلسلہ ایک پل کیلئے بھی تھما نہیں ۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے ریجنل کمانڈراورٹیم ممبرزاپنی محدود ”افرادی قوت“ کے پیچھے چھپ سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی” قوت ارادی“ کے بل پراپنے ناقدین اورحاسدین کی بولتی بندکردی ۔انہیں ماضی میں جہاں جہاں ضرورت پیش آئی انہیں ہربار پولیس سمیت دوسری سکیورٹی فورسز سے بھرپورمحکمانہ مدد ملی کیونکہ سبھی محکموں کامقصد ایک اورنیک ہے۔ہمارے معاشرے کی طرح محکمے بھی گندی مچھلیوں سے پاک نہیں تاہم اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے ریجنل کمانڈر،آرپی اواطہراسماعیل اورڈی پی اوفیصل شہزاد سمیت مٹھی بھر نبض شناس اورفرض شناس آفیسرز نے بروقت مرہم رکھ دیا ورنہ منشیات کا زخم معاشرت کیلئے ناسوربن جاتا ،نظام کا بچا کھچا بھرم ان چندایک نیک نام آفیسرز کے دم سے ہے۔ یادرکھیںافواج پاکستان کے زیادہ ترٹرینڈ آفیسراپنے آپ میں” ون مین آرمی“ ہوتے ہیں ، جہاں بھی وقت کی ”ڈیمانڈ“ ہو وہاں ان کی” کمانڈ“ سے کایا پلٹ جاتی ہے ۔ معاشرت اورمعیشت کومنشیات کی لعنت جبکہ قوم کے بیٹوں اوربیٹیوں کواس زہریلی لت سے بچانااینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) سمیت پنجاب کاﺅنٹر نارکوٹکس فورس ( سی این ایف) اورپنجاب پولیس کااہم ترین ہدف ہے ۔منشیات سے وابستہ” لوگ“ انسانیت کیلئے ”روگ“ بنے ہوئے ہیں۔تعجب ہے ان کیلئے زندہ انسانوں میںموت بیچنا بلکہ موت بانٹنامحض ایک منفعت بخش کاروبار ہے، یہ قوم کے بیٹوں اوربیٹیوں کی قبور پراپنے بچوں کیلئے ”قصر“ بنانے میں کوئی” کسر“ نہیں چھوڑتے ۔ قوم کے بیٹوں اوربیٹیوںکومنشیات فروشوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑاجاسکتا ، ماں با پ جس” جنون“ کے ساتھ اپنے” فنون“اور موبائل فون سمیت دوسرے قیمتی سامان کی پرواہ کرتے ہیں اس طرح اپنے بچوں کی قدر اوران کے کردار کی حفاظت کریں۔ اگر ہم اپنے موبائل فون یاگاڑی میں گڑبڑہونے پردوڑتے ہوئے کسی ہنرمند کے پاس جاسکتے ہیں ، تو وقفہ وقفہ سے اپنے بچوں کا طبی معائنہ یقینی کیوں نہیں بنا تے۔ جس طرح ہم گھر میں اپنا بلڈپریشرچیک اورشوگرٹیسٹ کرتے ہیں کیا اس طرح اپنایااپنوں کا ڈرگ ٹیسٹ نہیں کیاجاسکتا ، اپنوں کے ساتھ ساتھ اپنی ڈرگ اسکریننگ بھی ضروری ہے کیونکہ ہم دفاتر اور تجارتی مراکز میں کئی طرح کی اشیاءتناول اور مشروبات نوش کرتے ہوئے جانے انجانے میں کسی نشہ کے عادی ہو سکتے ہیں لہٰذاءاختیاطی تدابیر اپنانے میں کوئی قباحت نہیں۔ریاست ڈرگ ڈیلرز کیخلاف راست اقدام یقینی اور ڈرگ ٹیسٹ کوسہل بنائے، اگر اس بے لگام اور”زر“ کے غلام ڈرگ ڈیلرز کیخلاف منظم انداز سے راست اقدام نہ کیاگیا توہمار انوجوان طبقہ ان آدم خوردرندوں کے انتقام کانشانہ بنتا رہے گا ۔ میں پھر کہتاہوں قوم کے بیٹوں اوربیٹیوں کومنشیات کی لعنت اورلت سے بچانے کیلئے کالجز اوریونیورسٹیز میں ایڈمشن ،نیشنل آئی ڈی کارڈ ،پاسپورٹ ،نکاح نامہ جبکہ امتحانات میں امیدوار کیلئے یعنی مذکورہ مراحل کیلئے کسی مستندلیب سے ڈرگ ٹیسٹ کوناگزیرقراردیاجائے ،یادرکھیں زندگی کی شاہراہ پربنے بیرئیرزیاسپیڈ بریکرز ہمیں ممکنہ حادثات اور نقصانات سے بچاتے ہیں۔منشیات کے عادی افراد کوصحتمند اورمفید شہری بنانے کیلئے جدیدسہولیات سے آراستہ بحالی مراکز بھی ضروری ہیں کیونکہ منشیات کی بدترین ”عادت“ چھڑانا بھی ”عبادت“ ہے ۔ اینٹی نارکوٹکس فورس سمیت جومحکمے ہمارے بچوں کومنشیات کے اندھیروں اورانگاروں سے بچانے کیلئے متحرک ہیں ،عوام ان کابھرپور ساتھ دیں ۔یادرکھیں جس نے ایک انسان کویقینی موت سے بچایا یقینا اس نے پوری انسانیت کوبچالیا ۔شراب سمیت مختلف اقسام کی منشیات تیار ،ان کی تجارت ،ترسیل اورا نہیںاستعمال کرنیوالے قومی مجرم ہیں لہٰذاءان کی مجرمانہ سرگرمیوں بارے بخوبی علم ہوتے ہوئے انہیں قانون کی گرفت سے بچانااسلامیت ، انسانیت اورپاکستانیت کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔ہماری مدد سے اینٹی نارکوٹکس فورس ہمارے کسی اپنے” جہاز“ کوتباہ ہونے سے بچاسکتی ہے ،اندھیروں اور گندگی کے ڈھیروں میں غرق یہ جہاز گیارہ ارب میں بھی نہیں ملتے ۔

قصراورکسر

21/09/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے