#کالم

” کچھ راستے یاد رہ جاتے ہیں“

SARZAMEEN CDR

صاحبزادہ محمد سلیمان خان

کبھی کبھی زندگی ہمیں کسی ایسی سڑک پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں منزل تو سامنے ہوتی ہے، مگر دل اچانک برسوں پیچھے چلا جاتا ہے۔ ایک پرانی عمارت، سڑک کا کوئی موڑ، درخت کا سایہ یا کسی دکان کا بدلتا ہوا نام ،، اور یادوں کا ایک پورا سلسلہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اپنی رفتار تھام لی ہو اور ماضی چند لمحوں کے لیے ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔کبھی کالج کے راستے سے گزرتے ہوئے وہ دن یاد آتے ہیں جب کندھے پر کتابوں کا بیگ اور آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہوا کرتے تھے۔ دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کالج جانا، کلاس کی جلدی، امتحانوں کی فکر اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جانا—اس وقت یہ سب معمول کا حصہ تھا، مگر آج انہی معمولی لمحوں کی قدر سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔تب ہم جلدی میں تھے کہ زندگی میں آگے بڑھیں۔ آج کبھی دل چاہتا ہے کہ کاش وہی وقت ایک بار پھر لوٹ آئے اور ہم اسے ذرا ٹھہر کر جئیں۔یونیورسٹی کی کوئی سڑک بھی اچانک گزرا ہوا زمانہ واپس لے آتی ہے۔ لیکچر ہال، لائبریری، دوستوں کی محفلیں، کینٹین کی چائے اور مستقبل کے وہ منصوبے جنہیں ہم پوری سنجیدگی سے حقیقت سمجھتے تھے۔ یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد شاید ہم نے بہت کچھ حاصل کیا، مگر وہ بے فکری دوبارہ نصیب نہ ہوئی۔زندگی کا المیہ بھی یہی ہے کہ جس وقت ہمارے پاس وقت ہوتا ہے، ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا، اور جب قدر سمجھ آتی ہے تو وہ لمحہ گزر چکا ہوتا ہے۔پھر کبھی اسکول کا راستہ سامنے آ جائے تو بچپن کی دنیا کھل جاتی ہے۔ وہ بستہ، یونیفارم، دوستوں کے ساتھ کھیل، چھٹی کی خوشی اور معمولی سی جیب خرچی پر خوش ہو جانا۔ اس عمر میں مستقبل کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ خوشی کے لیے بڑی وجہ درکار نہیں تھی؛ ایک کھلونا، پسندیدہ کھانا یا چھٹی کا دن ہی پوری دنیا کو خوبصورت بنا دیتا تھا۔بڑے ہو کر معلوم ہوا کہ زندگی اتنی سادہ نہیں۔ ذمہ داریاں بڑھتی گئیں، ترجیحات بدلتی گئیں اور وہ بے فکری کہیں پیچھے رہ گئی۔ شاید اسی لیے بچپن کی یادیں انسان کو ہمیشہ اپنے قریب محسوس ہوتی ہیں۔نانی کے گھر جانے والا راستہ تو جیسے ایک الگ ہی دنیا کا دروازہ تھا۔ وہاں پہنچتے ہی اپنائیت کا احساس گھیر لیتا تھا۔ نانی کی آواز، ان کے ہاتھ کا کھانا، دعائیں اور بے حساب محبت—یہ سب چیزیں وقت کے ساتھ دور ہو سکتی ہیں، مگر دل سے نہیں جاتیں۔آج وہی راستہ دوبارہ مل جائے تو شاید قدم کچھ دیر کے لیے ٹھہر جائیں۔ عمارت وہی نہ ہو، دروازہ بدل چکا ہو، اردگرد کا ماحول بھی نیا ہو، مگر یادوں میں وہ گھر آج بھی ویسا ہی آباد ہے۔اسی طرح گھر والوں کے ساتھ گزاری ہوئی عام سی شامیں بھی وقت کے ساتھ خاص بن جاتی ہیں۔ کبھی سب مل کر بازار گئے، کبھی کسی عزیز کے گھر، کبھی باہر کھانا کھایا اور کبھی محض شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہے۔ اس وقت ہمیں احساس نہیں تھا کہ یہی معمولی دن ایک دن زندگی کی خوبصورت ترین یادیں بن جائیں گے۔پھر زندگی نے سب کو اپنی اپنی سمتوں میں بانٹ دیا۔ بچے بڑے ہوئے، ملازمتیں آئیں، مصروفیات بڑھیں اور ایک ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی وقت نکالنا پڑنے لگا۔ تب سمجھ آیا کہ اصل خوشی کسی جگہ یا چیز میں نہیں تھی؛ اصل خوشی تو اپنوں کے ساتھ ہونے میں تھی۔اور کچھ راستے جدائی کی یاد بھی اپنے اندر سمیٹے رکھتے ہیں۔کسی عزیز کو تعلیم یا ملازمت کے لیے رخصت کرنا، کسی بیٹی کو نئے گھر کے لیے الوداع کہنا یا کسی ایسے شخص کو چھوڑ کر واپس آنا جس سے دوبارہ ملاقات کا یقین نہ ہو—ان لمحوں کی کیفیت لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔وقت گزر جاتا ہے، مگر بعض رخصتیں دل میں وہیں رہ جاتی ہیں۔کبھی کسی امتحانی مرکز کا راستہ بھی برسوں پرانی گھبراہٹ واپس لے آتا ہے۔ ہاتھ میں رول نمبر سلپ، ذہن میں سوالات اور دل میں کامیابی کی دعا۔ اس وقت محسوس ہوتا تھا کہ یہی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اصل امتحان تو اس کے بعد شروع ہونا تھا۔زندگی نے ایسے سوالات بھی دیے جن کی کوئی کتاب نہیں تھی، ایسے فیصلے بھی جن کا کوئی سلیبس نہیں تھا اور ایسے نتائج بھی جنہیں کسی نمبر یا گریڈ میں نہیں ناپا جا سکتا تھا۔اسپتال کی طرف جانے والے راستے کی یاد البتہ دل پر الگ اثر ڈالتی ہے۔ کسی اپنے کی بیماری، رپورٹ کا انتظار یا ڈاکٹر کے چند الفاظ انسان کو اپنی بے بسی کا احساس دلاتے ہیں۔ ایسے لمحات میں بڑے بڑے منصوبے، دولت اور مصروفیات سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور انسان کو صرف صحت اور اپنے لوگوں کی اہمیت نظر آتی ہے۔یوں ہماری زندگی کے راستے صرف جغرافیہ نہیں رہتے۔ ان کے ساتھ جذبات جڑ جاتے ہیں۔ کوئی سڑک خوشی کی یاد بن جاتی ہے، کوئی موڑ جدائی کا، کوئی گلی بچپن کی اور کوئی راستہ کسی عزیز کی آواز اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔وقت کے ساتھ شہر بدلتے ہیں۔ دکانیں نئی ہو جاتی ہیں، پرانے درخت کٹ جاتے ہیں، عمارتیں تعمیر ہو جاتی ہیں اور کبھی پورا منظر ہی بدل جاتا ہے۔ مگر یادداشت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ ہمارے ذہن میں وہی راستہ، وہی چہرے اور وہی آوازیں محفوظ رہتی ہیں جو برسوں پہلے وہاں موجود تھیں۔شاید یہی یادوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وقت چیزوں کو بدل دیتا ہے، مگر یادیں انہیں ہمارے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔انسان جب زندگی کے ایک خاص مقام پر پہنچتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ سفر میں حاصل کی گئی چیزوں سے زیادہ قیمتی وہ لوگ اور لمحے تھے جو راستے میں ساتھ رہے۔ کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر زندگی کی اصل خوشبو اکثر انہی چھوٹے چھوٹے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے جنہیں ہم اس وقت معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔اس لیے اگر کبھی کسی پرانے راستے سے گزرتے ہوئے دل اچانک ٹھہر جائے تو اسے بے وجہ کی اداسی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے کوئی خوبصورت یاد آپ کو آواز دے رہی ہو۔ ذرا رک کر اسے محسوس کیجیے۔ شاید بچپن مسکرا رہا ہو، کوئی پرانا دوست یاد آ رہا ہو، والدین کی کوئی بات ذہن میں گونج رہی ہو یا کسی بچھڑے ہوئے اپنے کی یاد آنکھیں نم کر رہی ہو۔یادیں دراصل زندگی کا وہ حصہ ہیں جو وقت بھی ہم سے مکمل طور پر نہیں چھین سکتا۔ہم آگے بڑھتے رہتے ہیں، مگر اپنے پیچھے چھوٹے ہوئے راستے کہیں نہ کہیں دل میں ساتھ لیے چلتے ہیں۔ کبھی وہ کسی خوشبو سے جاگ اٹھتے ہیں، کبھی کسی آواز سے اور کبھی محض ایک سڑک پر دوبارہ قدم رکھنے سے۔شاید اسی لیے بعض راستوں سے گزرنا محض سفر نہیں ہوتا۔وہ اپنے ہی گزرے ہوئے وقت سے دوبارہ ملاقات ہوتی ہے۔وقت آگے بڑھ جاتا ہے، راستے بدل جاتے ہیں، لوگ بچھڑ جاتے ہیں، مگر کچھ راستے دل میں ہمیشہ آباد رہتے ہیں۔کیونکہ کچھ راستے صرف راستے نہیں ہوتے،وہ ہماری زندگی کے وہ باب ہوتے ہیں جنہیں وقت بند کر دیتا ہے، مگر دل کبھی مکمل طور پر بند نہیں کرتا۔

” کچھ راستے یاد رہ جاتے ہیں“

کمفرٹ زون کی تھپکی

” کچھ راستے یاد رہ جاتے ہیں“

احتساب یا نمائشی کاروائی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے