احتساب یا نمائشی کاروائی
زاہد اقبال ملک
کرپشن کسی بھی معاشرے کے لیے محض ایک مالی جرم نہیں بلکہ ریاستی نظام کو اندر سے کھوکھلا کرنے والی بیماری ہے۔ جب ایک عام شہری کو اپنے جائز کام کے لیے بھی سرکاری دفتر میں رشوت دینا پڑے تو نقصان چند ہزار روپے کا نہیں ہوتا بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ مجروح ہوتا ہے۔ اسی لیے پنجاب حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف حالیہ فیصلہ کن کارروائیوں کو محض چند گرفتاریوں کے بجائے ایک بڑے انتظامی امتحان کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں کرپشن کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں 54 افسران و اہلکاروں کے خلاف معطلی برطرفی گرفتاری اور مقدمات کی کارروائی کی گئی ہے جبکہ محکمہ خوراک میں ہی 48 افسران و اہلکار کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔ 14 اضلاع کے فوڈ کنٹرولرز کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ہے۔بہاولپور گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع میں محکمہ خوراک کے متعدد افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ گوجرانوالہ ڈویڑن میں محکمہ خوراک کے 11 ملازمین جن میں چار اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولرز اور کلریکل اسٹاف شامل ہیں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے باعث ملازمت سے برطرف کیے گئے جبکہ ایک سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کی برطرفی کی سفارش بھی کی گئی۔ ان اہلکاروں پر گندم کے ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل غیر اہل ملوں کو کوٹے جاری کرنے اور جعلی لائسنس مہریں اور دستخط تیار کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔یہ کارروائیاں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن کرپشن کے خلاف کسی بھی مہم کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کتنے چھوٹے اہلکار گرفتار ہوئے یا کتنے ملازمین برطرف کیے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کارروائیوں کا رخ ان طاقتور عناصر کی طرف بھی ہوگا جو بڑے پیمانے پر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں کیونکہ چند چھوٹی مچھلیوں کو قابو کرکے کرپشن فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی محکمے میں نچلے درجے کا اہلکار چند ہزار روپے کی مبینہ رشوت لیتے ہوئے گرفتار ہو جاتا ہے لیکن اسی محکمے میں بڑے مالی معاملات،ٹھیکوں،زمینوں، خریداری،بھرتیوں،لائسنسوں اور اربوں روپے کے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ قانون کی گرفت سے باہر رہیں تو پھر سوال ضرور اٹھے گا کہ احتساب کا ترازو سب کے لیے برابر ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت کی موجودہ مہم کو محض کرپشن کے خلاف کارروائی سے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے اہلکاروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ بڑے مگرمچھوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات چلائے جائیں اور اگر جرم ثابت ہو تو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔حالیہ کارروائیوں میں اس سمت کا ایک اہم اشارہ گوجرانوالہ میں سابق ڈسٹرکٹ جیل سپرنٹنڈنٹ اظہر چیمہ کے خلاف کارروائی اور مبینہ طور پر 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ریکوری ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں 20 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں اینٹی کرپشن نے ان سے یہ رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں کرپشن فری پنجاب کا نعرہ حقیقی معنوں میں امتحان بن جاتا ہے۔ اگر قانون صرف اس سرکاری ملازم تک محدود رہے جو میز کے دوسری طرف بیٹھ کر چند ہزار روپے لیتا ہے تو یہ ادھورا احتساب ہوگا لیکن اگر قانون وہاں تک بھی پہنچے جہاں کروڑوں اور اربوں روپے کے فیصلے ہوتے ہیں جہاں اختیارات کے ذریعے سرکاری وسائل کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آتے ہیں اور جہاں طاقت عہدہ یا اثر و رسوخ کسی شخص کو قانون سے بالاتر سمجھنے کی غلط فہمی پیدا کرتا ہے تو پھر اسے حقیقی احتساب کہا جا سکتا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے رشوت کے مقدمات میں ٹریپ ریڈز اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لیکن گرفتاری کسی مقدمے کا اختتام نہیں بلکہ قانونی عمل کا آغاز ہے۔ کسی بھی شخص کو جرم ثابت ہونے سے پہلے کرپٹ قرار دینا مناسب نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تحقیقات شفاف ہوں مقدمات عدالتوں میں ثابت ہوں اور مجرم قرار پانے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملے۔ کرپشن کے خلاف جنگ صرف چھاپوں اور گرفتاریوں سے بھی نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے نظام میں ایسی تبدیلیاں ضروری ہیں جہاں شہری کا کام رشوت کے بغیر ہو سرکاری فیصلوں میں شفافیت ہو اختیارات کے استعمال کا ریکارڈ موجود ہو خریداری اور ٹھیکوں کا مو¿ثر آڈٹ ہو اور شکایت کرنے والے شہری کو تحفظ حاصل ہو۔اس مہم کا ایک اور اہم پہلو یہ ہونا چاہیے کہ کرپشن سے حاصل کیا گیا مال واپس ریاست کے خزانے میں آئے۔ صرف کسی افسر کو گرفتار کر دینا کافی نہیں۔ اگر اس نے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا ہے تو رقم کی وصولی اثاثوں کی چھان بین اور قانونی انجام بھی اسی شدت سے ضروری ہے۔ عوام کو بھی اس مہم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ عام آدمی یہ نہیں دیکھتا کہ کتنی پریس ریلیز جاری ہوئیں یا کتنی گرفتاریاں ہوئیں وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کا جائز کام اب بھی رشوت کے بغیر ہو رہا ہے یا نہیں۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا طاقتور شخص بھی اتنا ہی جواب دہ ہے جتنا ایک معمولی اہلکار اور کیا بڑے مالی اسکینڈل میں ملوث شخص بھی اسی طرح قانون کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جیسے ایک معمولی رشوت خور سرکاری ملازم۔ اگر پنجاب حکومت واقعی کرپشن فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتی ہے تو اسے اس مہم کو بلاامتیاز مسلسل اور اوپر سے نیچے تک لے جانا ہوگا۔ چھوٹی مچھلیاں پکڑنا کارروائی ہے مگر بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے تک پہنچانا احتساب ہے۔ اور احتساب اس وقت مکمل ہوگا جب کسی عہدے تعلق اثر و رسوخ یا سیاسی وابستگی کی وجہ سے کسی کو رعایت نہیں ملے گی کیونکہ کرپشن کا خاتمہ صرف یہ پیغام دینے سے نہیں ہوگا کہ رشوت لینے والا پکڑا جائے گا اصل پیغام یہ ہونا چاہیے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والا اختیار کا ناجائز استعمال کرنے والا اور قومی وسائل کو لوٹنے والا خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ایک دن قانون کے کٹہرے میں ضرور کھڑا ہوگا۔ تب ہی کرپشن فری پنجاب ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوام کا قابلِ اعتماد خواب بن سکے گا۔






