آج کے مسلمان کی بے بسی اور امت کی بیداری کا سوال
صفدر علی خاں
آج کا کالم ہم عصر حاضر کے دیدہ و بینا شاعر جناب احمد نواز کے شعر سے کرتے ہیں۔۔۔۔
اے فاتحِ خیبر! تری نصرت پہ لگی ہے
اس آنکھ کی اب آخری امید علی ہے
بعض اشعار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے ، بلکہ ایک عہد کی شکست و ریخت ، ایک قوم کے زخموں ، ایک امت کی بے بسی اور اس کے دل میں باقی رہ جانے والی امید کی ترجمانی کرتے ہیں اور ہمارے خیال میں نوجوان شاعر احمد نواز کا یہ شعر بھی ایک ایسی ہی کیفیت کا اظہار ہے ، جس میں تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیت حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی شجاعت و استقامت کو یاد کرتے ہوئے آج کے مسلمان کی بے چارگی اور مایوسی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ یہ شعر پڑھتے ہوئے دل میں ایک طرف خیبر کے میدان میں اسلام کی سربلندی کی تاریخ تازہ ہوتی ہے تو دوسری طرف فلسطین کے مظلوم مسلمانوں ، غزہ کے بے گناہ بچوں ، کشمیر کے محصور انسانوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں مصیبتوں اور جنگوں سے دوچار امتِ مسلمہ کی تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ امت جس کی تاریخ میں ایمان کی قوت ، کردار کی بلندی ، علم کی روشنی ، عدل و انصاف کی حکمرانی اور شجاعت و قربانی کی بے مثال داستانیں موجود ہیں ، آج اتنی بے بس کیوں دکھائی دیتی ہے۔۔؟ وہ قوم جس نے دنیا کو علم و تہذیب کے نئے راستے دکھائے ، جس کے اسلاف نے علم ، فلسفے ، طب ، ریاضی اور سائنس کے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔۔ آج اپنے ہی مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار کیوں ہے؟ کیا ہماری امیدیں صرف ماضی کے عظیم کرداروں کی یاد سے وابستہ رہ گئی ہیں یا ہم ان کے کردار سے رہنمائی لے کر اپنے حال کو بدلنے کا
حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔۔؟
حضرت علی المرتضیٰ کی ذاتِ گرامی اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس میں شجاعت کے ساتھ علم ، قوت کے ساتھ عدل ، اقتدار کے ساتھ جواب دہی اور عبادت کے ساتھ خدمتِ خلق کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ آپﷺ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رفیق ، داماد ، اہلِ بیت کے جلیل القدر فرد اور خلفائے راشدین میں سے تھے۔ آپﷺکی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دینے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے ، حق کے ساتھ کھڑے ہونے ، کمزور کا سہارا بننے اور مشکل ترین حالات میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑنے کا نام ہے۔غزوہ خیبر کا ذکر آتا ہے تو حضرت علیؓ کی شجاعت کا تصور دلوں میں تازہ ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے موقع پر ایک ایسے شخص کو علم عطا کرنے کی بشارت دی جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اگلے روز یہ علم حضرت علیؓ کو عطا کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس واقع کو محض عسکری کامیابی داستان سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ ایمان ، عزم ، اطاعت اور مقصد سے وفاداری کی علامت بھی ہے۔
آج عالمِ اسلام کی حالت پر نگاہ ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ متعدد مسلم معاشرے جنگوں ، داخلی انتشار ، غربت ، سیاسی عدم استحکام ، معاشی کمزوری اور فرقہ وارانہ اختلاف سے بری طرح دوچار ہیں لہذا ان حالات میں یہ سوال بجا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کہاں گئی؟ ان کے وسائل ، افرادی قوت ، جغرافیائی اہمیت اور تاریخی ورثے کے باوجود وہ اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کے لیے وہ مو¿ثر کردار کیوں ادا نہیں کر پا رہے جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔۔؟ اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا جواب صرف بیرونی سازشوں میں تلاش کرنا کافی نہیں۔ بے شک عالمی طاقتوں کے مفادات ، دوہرے معیارات ، جغرافیائی سیاست اور طاقت کے غیر منصفانہ استعمال کی اپنی اہمیت ہے ، لیکن امتِ مسلمہ کو اپنے اندرونی مسائل کا جائزہ بھی لینا ہو گا۔ ہم نے اختلافات کو دشمنیوں میں ، سیاسی رقابتوں کو قومی مفادات سے بالاتر اور مسلکی شناختوں کو باہمی اخوت پر غالب کر لیا ہے۔ ہم نے اپنے وسائل کو اجتماعی ترقی کے بجائے کئی مرتبہ باہمی کشمکش میں صرف کیا ہے۔ ہمارے معاشروں میں بدعنوانی ، ناانصافی ، اقرباپروری ، کمزور ادارے اور قانون سے انحراف بھی ہماری اجتماعی قوت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
قرآنِ مجید مسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور تفرقے میں نہ پڑیں۔ یہ محض ایک مذہبی نصیحت نہیں ، بلکہ اجتماعی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔ کوئی قوم اندرونی طور پر تقسیم ہو ، اس کے ادارے کمزور ہوں ، اس کی قیادت ذاتی مفادات میں الجھی ہو اور اس کے افراد ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرتے ہوں تو وہ بیرونی چیلنجوں کا مو¿ثر مقابلہ نہیں کر سکتی۔حضرت علیؓ کی سیرت سے ہمیں سب سے پہلے اتحاد اور اصول پسندی کا سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسلمان اپنے علمی ، فقہی یا سیاسی اختلافات ختم کر دیں ، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں ، مشترکہ مسائل پر اتفاق پیدا کریں اور امت کے اجتماعی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفادات پر ترجیح دیں۔ اسلامی تاریخ کا اصل پیغام یہی ہے کہ حکومت اور اقتدار امانت ہیں ، عوام کے حقوق ذمہ داری ہیں اور عدل ریاست کی بنیاد ہے۔ اگر ہم حضرت علیؓ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں ، اداروں ، عدالتوں ، بازاروں اور حکومتی نظام میں انصاف کو فروغ دینا ہو گا۔ حقوق العباد کو ترجیح بنانا ہو گا ، اقلیتوں کے حقوق اور مخالف کی رائے کا احترام ہماری عملی ترجیحات بننی چاہیے۔مسلمانوں کی تاریخ میں علم کو ہمیشہ اہم مقام حاصل رہا ہے مگر آج متعدد مسلم معاشرے تحقیق ، جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی میں مطلوبہ مقام حاصل کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی طرح شجاعت صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں۔۔۔ کیونکہ کبھی سچ بولنا شجاعت ہے ، کبھی ظلم کے خلاف قانونی اور اخلاقی جدوجہد شجاعت
ہوتی ہے تو کبھی اپنے غصے پر قابو پانا شجاعت ہے اور اسی طرح کبھی ذاتی مفاد قربان کرکے اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنا شجاعت ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو ان تمام صورتوں میں شجاعت کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مایوسی اسلام کا پیغام نہیں۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے۔۔۔اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔
احمد نواز کے اس شعر کو پڑھتے ہیں کہ ”اے فاتحِ خیبر! تری نصرت پہ لگی ہے،اس آنکھ کی اب آخری امید علیؓ ہے“ تو یہ شعر ہمیں اپنی تاریخ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حضرت علیؓ کی محبت کو محض جذباتی وابستگی تک محدود نہ رکھا جائے کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ آج ہماری آخری امید کون ہے ، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی میراث سے کیا سیکھ رہے ہیں؟ حضرت علیؓ کی شجاعت سے حوصلہ ، ان کے علم سے بصیرت ، ان کے عدل سے انصاف اور ان کی سیرت سے کردار کا سبق حاصل کیے بغیر ہم محض تاریخی عظمت کے سہارے اپنا مستقبل نہیں بدل سکتے۔ بے شک خیبر کی فتح تاریخ کا ایک روشن باب ہے مگر آج کے خیبر ہمارے تعلیمی اداروں ، ہماری معیشت ، ہماری عدالتوں ، ہمارے کردار اور ہمارے اتحاد کے میدانوں میں بھی موجود ہیں۔ ہمیں ان میدانوں میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ جب مسلمان علم میں آگے بڑھیں گے ، اپنے اختلافات کو حکمت سے حل کریں گے ، اپنے معاشروں میں انصاف قائم کریں گے اور اپنے عمل سے اسلام کی رحمت و اخوت کا پیغام عام کریں گے، تب ان کی اجتماعی قوت بھی بحال ہوگی اور ان کی آواز بھی دنیا میں زیادہ مو¿ثر انداز میں سنی جائے گی۔تب حضرت علیؓ سے ہماری محبت صرف ایک شعر میں سمٹی ہوئی آخری امید نہیں رہے گی ، بلکہ ایک ایسے زندہ عزم میں ڈھل جائے گی جو امت کو مایوسی سے نکال کر خود اعتمادی ، عمل اور سربلندی کی راہ دکھائے گا۔کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ قومیں صرف اپنے عظیم ماضی پر فخر کرنے سے زندہ نہیں رہتیں؛ وہ اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب اپنے ماضی کی روشنی میں اپنے حال کو بدلنے اور مستقبل کی تعمیر کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔






