#کالم

بھیک: معیشت کے لیے ناسور

rafeh s

رفیع صحرائی

لاہور کی سڑکوں پر نکلیں یا کسی بھی بڑے چوک کے ٹریفک اشارے پر رکیں، تو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر دھاوا بولتے پیشہ ور بھکاریوں کے جتھے راہگیروں کے لیے اب ایک عذابِ مسلسل بن چکے ہیں۔ عورتوں، مردوں، معصوم بچوں اور خواجہ سراو¿ں پر مشتمل یہ منظم گروہ صرف ٹریفک کی روانی ہی خراب نہیں کر رہے، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی منہ چڑا رہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے گاہے بگاہے ہونے والی مہمات محض کاغذی کارروائی ثابت ہوتی ہیں جن سے یہ مصیبت وقتی طور پر تو ٹل جاتی ہے لیکن اس سنگین سماجی ناسور کی جڑیں تسلسل کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔اگر ہم بھیک مانگنے کے اس مسئلے کی تہہ میں جائیں اور قومی سطح پر اس کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ہوش اڑا دینے والے حقائق سامنے آتے ہیں۔ ملکِ عزیز کی تقریباً 25 کروڑ آبادی میں سے 4 لاکھ افراد باقاعدہ پیشہ ور بھکاری بن چکے ہیں۔ ان میں 55 فیصد خواتین، 27 فیصد معصوم بچے، 12 فیصد مرد اور 6 فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں۔اگر جغرافیائی پھیلاو¿ کی بات کی جائے تو ان بھکاریوں کا 50 فیصد کراچی میں، 16 فیصد لاہور میں، 7 فیصد اسلام آباد میں اور باقی 27 فیصد ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں سرگرمِ عمل ہے۔ یومیہ کمائی کے لحاظ سے، کراچی میں ایک بھکاری اوسطاً 2,000 سے 2,500 روپے، لاہور میں 1,600 سے 1,800 روپے اور اسلام آباد میں تقریباً 1,000 روپے روزانہ کماتا ہے۔ پورے ملک میں فی بھکاری یومیہ اوسط کمائی 900 روپے بنتی ہے۔یہ کھیل بظاہر چند سکوں کا لگتا ہے لیکن اس کے معاشی اثرات تباہ کن ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر یہ بھکاری پاکستانیوں کی جیبوں سے 32 سے 33 ارب روپے نکال لیتے ہیں۔ سالانہ یہ رقم تقریباً 120 کھرب روپے یعنی امریکی ڈالر کے حساب سے 42 سے 43 ارب ڈالر بنتی ہے!ذرا سوچیے! بغیر کسی منافع بخش اور پیداواری کام کے، محض ترس کھا کر ہم سالانہ 42 ارب ڈالر ان بھکاریوں کی نذر کر رہے ہیں۔ اس مفت کی خیرات کا خمیازہ ہمیں 21 فیصد سالانہ مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ذرا غور کیجیے، ہمارے ملک کے تقریباً 4 کروڑ افراد پر مشتمل اتنی بڑی افرادی قوت ملکی ترقی میں ہاتھ بٹانے کے بجائے کام کرنے والے طبقے پر ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔بھیک مانگنا باقاعدہ ایک منافع بخش پیشہ بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بڑے بڑے بااثر لوگ اس پیشے سے منسلک ہیں جنہوں نے اپنے اپنے بھکاریوں کی ٹیمیں بنائی ہوئی ہیں۔ کچھ بڑے لوگ بھکاریوں کی سرپرستی کر کے اور پولیس وغیرہ سے انہیں تحفظ فراہم کر کے مبینہ طور پر لاکھوں روپے مہینہ وصول کر رہے ہیں۔ بھیک مانگنا چند دہائیاں پہلے مجبوری تھی، اب یہ باقاعدہ آرٹ بن گیا ہے۔ جو بھکاری جتنا بڑا اداکار ہو گا اس کی کمائی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ بھیک اب خیرات نہیں رہی، اداکاری کا معاوضہ بن گئی ہے۔ دیہی علاقوں کے بھکاری رمضان کے مقدس مہینے میں بڑے شہروں کا رخ کیا کرتے ہیں، مسجدیں اور مارکیٹیں ان کا خاص ٹارگٹ ہوتی ہیں۔ وہ ایک مہینے میں اتنا کما لیتے ہیں جو سال بھر کے لیے کافی ہوتا ہے، یہ الگ بات کہ سال کے باقی گیارہ مہینے بھی وہ بھیک ہی مانگا کرتے ہیں۔ اب تو بھکاریوں نے اپنے کام پر انویسٹمنٹ بھی شروع کر دی ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے سعودی عرب، ایران اور عراق پہنچ جاتے ہیں۔ لوگ حج، عمرہ اور زیارتوں کے مقدس سفر پر ہوتے ہیں، ان کے دل بہت نرم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ذرا سی کوشش سے ان کی جیبوں سے رقم نکلوانا آسان ہوتا ہے۔ حکومت نے دو سال پہلے ایسے لوگوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان پر کریک ڈاو¿ن کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم یہ سلسلہ رک نہیں پایا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھکاری افراد سے کوئی معمولی پیداواری کام بھی لیا جائے تو اس سے سالانہ کم از کم 40 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگوں کی جیبوں سے نکلنے والے 42 سے 43 ارب ڈالر میں اگر ان کی محنت کی متوقع آمدنی کے 40 ارب ڈالر شامل کریں تو یہ رقم قریباً 83 ارب ڈالر بن جاتی ہے جو چند ہی برسوں میں پاکستان کو معاشی طور پر اپنے پاو¿ں پر کھڑا کر سکتی ہے اور ان افراد کو باعزت روزگار بھی فراہم کر سکتی ہے۔ دوسری طرف، گلی گلی کھلے لنگر خانے، فلاحی تنظیموں کی جانب سے مفت کھانوں کی فراہمی اور سرکاری امداد (جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بعض پہلو) نادانستہ طور پر ’ہڈ حرامی‘ کو فروغ دے رہے ہیں اور ملک کی معاشی تباہی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔اگر ہم خطے کی بات کریں تو بنگلہ دیش نے جس دن اس فرسودہ ’بھکاری سسٹم‘ کو خداحافظ کہا، اس کے صرف چار سال بعد اس کے زر مبادلہ کے ذخائر 52 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اچھی بات کی تقلید کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ آپ خود زمینی تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ کسی بھکاری کو پانچ سو روپے دیں، وہ اگلے روز پھر آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوگا، لیکن اگر کسی محنت کش مزدور کو اس کی طے شدہ اجرت سے پچاس روپے بھی زیادہ دے دیں تو وہ نہ صرف شکر گزار ہوگا بلکہ اگلے روز دگنی محنت سے کام کرے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ ملک بھر میں ہر قسم کی بھیک مانگنے پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے۔ بھیک کو ایک ناقابلِ معافی جرم قرار دیا جائے۔ مقامی انتظامیہ (یونین کونسلز، میونسپل کارپوریشنز اور ٹاو¿ن کمیٹیز) کے اہلکار سڑکوں پر نظر آنے والے ہر مرد بھکاری کو پکڑ کر اس کے ہاتھ میں جھاڑو دیں اور صفائی کے کام پر مامور کریں۔ مفت کھلانے اور خیرات کے روایتی غیر پیداواری عوامل کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔اگر ہم نے آج اس ناسور کے خلاف آہنی فیصلے نہ کیے، تو ہم اپنے بچوں کی روٹی اِن بھکاریوں کی نذر کر کے آئندہ سو سال تک بھی ذلت اور مہنگائی کی چکی میں پستے رہیں گے۔ فیصلہ آپ کا ہے کہ کیا آپ چند سالوں میں ایک مضبوط معیشت چاہتے ہیں یا اسی فرسودہ زوال کا تسلسل سے شکار رہنا چاہتے ہیں؟

بھیک: معیشت کے لیے ناسور

03/11/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے