#کالم

”کچرا کیفے “آلودگی سے بچاو کی سوچ

Untitled 5

جاویدایازخان

بچپن کی یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ردی ،پلاسٹک اور لوہے کے بدلے چھوٹی چھوٹی خوشیاں دینے والا رواج کہاں کھو گیا ہے ؟ کبھی ہمارے گھروں کی بے کار سمجھی جانے والی چیزیں بچوں کے لیے خوشیوں کا سامان بن جاتی تھیں۔ پرانے اخبار، رسائل، پلاسٹک کی بوتلیں اور لوہے کے ٹکڑے محض کباڑ نہیں ہوتے تھے، بلکہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی قیمت ہوا کرتے تھے۔ کباڑیے کی آواز سنتے ہی بچے گھروں میں ردی تلاش کرنے لگتے اور پھر اس معمولی سے لین دین کے بعد ہاتھ میں آنے والی ٹافی یا بسکٹ انہیں بڑی کامیابی محسوس ہوتی تھی۔بسا اوقات ان اشیاء کے بدلے چھوٹے موٹے کھلونے اور بچیوں کی چوڑیاں وغیرہ بھی مل جاتی تھیں۔مجھے اس ٹافی ، پھل ،بسکٹ ،تل شکری یا ابلی ہوئی شکر قندی کا ذائقہ کبھی نہیں بھولتا۔بچوں اور بچیوں کے لیے کسی کباڑیے کا محلے یا گلی میں آجانا کسی چھوٹی عید سے کم نہیں ہوتا تھا۔اس میں خوشی بھی تھی ،تجسس بھی تھا ،لین دین کا بتدائی شعور بھی اور چیزوں کی قدر پہچاننے کا ایک غیر رسمی سبق بھی ملتا تھا۔ہمارے گھر جب بہت ساری ردی جمع ہو جاتی تو امی جان گھر کی صفائی کرکے کہتیں جاوجاکر کسی کباڑیے کو بیچ آو تو ہمیں کوڑی کے بھاو بکنے والی پرانی ردی ،رسائل کی اہمیت کا انداز ہ ہونے لگا۔یوں ہم چار دوست ذرا بڑےہوے تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ چیزیں تو کباڑ میں بیچ کر پیسے بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں تو ہم چاروں دوست سینما میں فلم دیکھنے کے لیے اپنے اپنے گھر کا ایسا کباڑ بیچ کر سب سے سستی اور آگے آگے کی ٹکٹ خرید کر فلم دیکھنے لگے تھے ۔پھر رفتہ رفتہ یہ روایت اور رواج دم توڑتا چلا گیا۔اس کی وجوہات پر غور کریں تو چند اسباب ضرور سمجھ آتے ہیں جیسے طرز زندگی میں تبدیلی ،بازار کا پھیلاو،کباڑ کے خرید وفروخت کا منظم اور نقد آور نظام ،حفظان صحت کا شعور ،اور بدلتی ہوئی بچپن کی مصروفیات اور سرگرمیاں وغیرہ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ اب لوگوں کو اس کباڑ کی اہمیت کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ ہوگیا ہے وہ ان کی بازاری قیمت اور اہمیت سے آگاہ ہوچکے ہیں۔سوال پھر بھی موجود رہتا ہے کہ "ردی کے بدلے ملنے والی خوشیاں آخر کہاں کھو گئی ہیں ؟” آج گھروں میں ردی بھی جمع ہوتی ہے، کباڑیے بھی آتے ہیں، بازار بھی آباد ہیں، مگر اس لین دین سے وابستہ بچپن کی وہ معصوم خوشی کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ شاید ہم نے ترقی کے سفر میں بہت سی سہولتیں تو حاصل کرلیں، مگر زندگی کی کچھ چھوٹی چھوٹی خوشیاں کھو دیں۔یہ محض ایک پرانے رواج کے ختم ہونے کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اور معاشی طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ایک دلچسپ داستان بھی ہے۔میرا ایک بیٹا برطانیہ اور ائر لینڈ میں مقیم ہے۔وہ کہتا ہےکہ وہاں کباڑ کو تلف کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔کسی ڈسٹ بن میں کباڑ یا کچرا یا گھر کا فالتو سامان ڈال کر ضائع کرنا بسااوقات اس کباڑے کی قیمت سے کئی گنا خرچ کا باعث بن جاتا ہے اور وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔گذشتہ روز سوشل میڈیا پر اس بارے میں ایک خبر نے مجھے پھر سےبچپن اور ماضی کی اس یاد کو تازہ کردیا۔انڈیا یعنی بھارت کی ایک ریاست مدھیہ پردیش کے ایک شہر بھوپال میں صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر ایک ایسا "کچرا کیفے ” قائم کیا گیا ہے جہاں "کچرا دیں اور مفت کھانا حاصل کریں "درج ہے۔گھروں کا کچرا یا کباڑ روڈوں ،گلیوں یا کوڑا دانوں میں پھینکنے کی بجاے اسے جمع کرکے مفت کھانا حاصل کیاجاسکتا ہے بلکہ اس کچرے کے بدلے کھانے پینے کی اشیاء اور روزمرہ استعمال کی ضروریات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔۔ ہر گھر میں فالتو سامان جیسا کہ پرانے اخبار کی ردی، پلاسٹک کا سامان، پرانی کتابیں اور دیگر سامان کچرے کی حیثیت رکھتا ہے، جو لوگ عموماً پھینک دیتے ہیں۔ اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو آئندہ ایسا نہ کریں بلکہ یہ کچرا لے کر کچرا کیفے جائیں اور اس کے بدلے اپنے لیے مفت کھانا لے کر آئیں۔ تاہم یہ سہولت حاصل کرنے کے لیے بھوپال کا شہری ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ منفرد کیفے بھارت کے شہر بھوپال میں کھولے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھوپال میں کئی مقامات پر ایسے کچرا کیفے شروع کیے گئے ہیں، جن کے قیام کا مقصد شہر کو صاف ستھرا رکھنا اور کچرے کا مفید استعمال کرنا ہے۔ ان کیفوں میں صرف پلاسٹک ہی نہیں بلکہ کئی طرح کا گھریلو کچرا قبول کیا جاتا ہے۔ اس میں پرانے اخبار، کتابیں، کاغذ، گتے کے ڈبے، ای-ویسٹ اور پرانے کپڑے جیسی چیزیں شامل ہیں۔ کچرا کیفے کا یہ ماڈل کافی دلچسپ ہے، یہاں لوگ گھروں سے اکٹھا کیا گیا خشک کچرا لے کر پہنچتے ہیں۔ سامان کا وزن اور اس کا زمرہ جانچنے کے بعد اس کے بدلے پوائنٹس یا کچرا کرنسی دی جاتی ہے۔ ان پوائنٹس کا استعمال کر کے لوگ کیفے سے کھانا، چائے، کافی اور دیگر دستیاب چیزیں لے سکتے ہیں ۔اس منصوبے کا آغاز بھوپال کے 10 نمبر مارکیٹ سے ہوا، جس کے بعد بوٹ کلب اور بٹّن مارکیٹ میں بھی مراکز قائم کیے گئے۔ شہری اپنی قابلِ ری سائیکل اشیا براہِ راست ان مراکز پر جمع کرا سکتے ہیں، جبکہ موبائل ایپ کے ذریعے بھی کچرے کی تفصیلات فراہم کرنے کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا بھی ہے۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس اس منصوبے سے وابستہ ہیں اور کپڑے کے تھیلے، دستکاری کی اشیا اور ماحول دوست مصنوعات تیار کرکے فروخت کرتی ہیں۔ اس طرح صفائی کے ساتھ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بھوپال کے "کچرا کیفے "میں اب تک 2,200 کلوگرام کچرا جمع کیا جا چکا ہے، جس میں 270 کلوگرام پلاسٹک شامل ہے، جبکہ 765 شہری اس منصوبے میں باقاعدہ حصہ لینے کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ یہ منصوبہ اس سوچ کو فروغ دیتا ہے کہ جس چیز کو ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، وہ مناسب انتظام اور ری سائیکلنگ کے ذریعے دوبارہ کارآمد بن سکتی ہے۔ اگر شہری بھی اس عمل میں ذمہ داری سے حصہ لیں تو صفائی، ماحول کے تحفظ اور وسائل کے بہتر استعمال میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔پاکستان آج بدترین ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے سے دوچار ہے۔اگر غور کریں تو بڑے شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے جو ہمارے شہروں کی خوبصورتی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔آخر ہم کب تک اپنے شہروں کو کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جس پلاسٹک کو ہم سڑکوں اور نالوں میں پھینک کر اپنے ماحول کو آلودہ کرتے ہیں، وہی کسی بھوکے کے لیے روٹی کا وسیلہ بن جائے؟ جس کاغذ کو ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں، وہ کسی ضرورت مند کے گھر کا چولہا جلانے میں مدد دے؟ ضرورت صرف کچرا اٹھانے کی نہیں، سوچ بدلنے کی ہے۔ اگر ہم کچرے کو معاشی قدر، خوراک کو انسانی ضرورت اور صفائی کو قومی ذمہ داری سمجھ لیں تو شاید ہمارے شہروں کی صورت بھی بدل جائے اور بہت سے گھروں کے حالات بھی۔ آخر کیوں نہ ہم ایسی روایت کو ایک جدید قومی تحریک بنائیں جس میں کچرا دینے والا ماحول بچائے اور بدلے میں کسی ضرورت مند کے گھر کا چولہا بھی جل جائے۔کاش ہم بھی اس کچرے اور کباڑکی قیمت جان سکیں ؟کیا ہمیں بھی کچرے میں رزق تلاش کرنے کا ہنر سیکھنا چاہیے ؟کیا ہماری انفرادی سوچ ماحولیاتی تبدیلی لا سکتی ہے ؟کیا یہ کلچر ہماری بےروزگاری کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ؟ذرا سوچیں ،ذرا غور کریں تو جواب مثبت ہی آے گا۔تو پھر آئیں اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جہاد کا حصہ بن کر ملک دوستی کے لیے خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔سوچ بدلیں تو کچرا کنڈی سے کچرا کیفے تک کا یہ سفر دلچسپ بھی ہے اور فائدہ مند بھی ہے۔بےشک ہمارا دین اسلام بھی صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے