کمفرٹ زون کی تھپکی
جاویدایازخان
دنیا کے بیشتر لوگوں کی طرح میں بھی اپنے آبائی شہر یا اس کے اردگرد نزدیک ترین بانچ میں پوسٹنگ کا خواہشمند رہتا تھا۔پہلے خان پور سے بہاولپور پھر بہاولپور سے اوچشریف اور پھر اوچشریف سے احمدپورشرقیہ اور پھر شاہی والا یہ مقامات تھے جہاں سے میں روزآنہ کی بنیاد پر گھر واپس آسکتا تھا۔یوں میں نے زندگی کے پندرہ سال گزار دیے اور میں بہترین کارکردگی کے باوجود کنوئیں کا مینڈک بن کر بمشکل گریڈ تھری افسر ہی بن سکا۔پھر میرا تعلق یونین لیڈر غلام محمد ڈوگر مرحوم سے ہوا جو دوستی میں بدل گیا اور ہم نے اکھٹے عمرہ کی سعادت حاصل کی تو اس دوران انہوں نے عثمان غنی شہید (موجودہ وفاقی وزیر سعید غنی کے والد )کی موجودگی میں مجھے کہا جاوید ! تم جانتے ہو کہ "کمفرٹ زون کی تھپکی "کیا ہوتی ہے۔میں نے کہا نہیں ! تو کہنے لگے ہر انسان کو کمفرٹ زون یہ تھپکی دیتا ہے کہ تم مزید آگے نہ بڑھو تمہارے لیے یہی آرام اور سکون کافی ہے۔مزید رسک مت لو ایسا نہ ہو کہ یہ بھی گنوا بیٹھو۔گویا ناکامی کا خوف رسک لینے سے روکتا ہے۔جب کچھ کرنا چاہتے ہو تو یہ کمفرٹ زون تھپکی دیکر پھر تمہیں روک دیتا ہے۔ پھر وہ کہنے لگے تم میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں لیکن تمہاری کمزوری تمہارا کمفرٹ زون یعنی تمہارا گھر ہےاور تم گھرسے دور جانا نہیں چاہتے۔اگر ترقی کرنی ہے تو تمہیں اس کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہوگا۔میں نے کہا ناکامی سے ڈر لگتا ہے تو کہنے لگے کمفرٹ زون ناکامی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور یہ صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتا ہے۔گھر میں تو ہر انسان شیر ہوتا ہےذرا گھر سے باہر جاکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر دکھاو ۔ناکامی انسان کو توڑتی ضرور ہے مگر اکثر وہیں سے ایک نئی تعمیر کا آغاز بھی ہوتی ہے۔ناکامی آدمی کو اپنی کمزوریوں کا ا?ئینہ دکھاتی ہے ،اسے دوبارہ اٹھنے ،راستہ بدلنے اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے لیکن کمفرٹ زون وہ خاموش قید ہے جس کی سلاخیں دکھائی نہیں دیتیں۔زندگی ہمیشہ سکون میں نہیں حرکت اور کوشش میں آگے بڑھتی ہے۔زندگی کا یہی المیہ ہے کہ محفوظ رہنے کی خواہش بعض اوقات انسان کو زندگی کے اصل امکانات و انعامات سے محروم کردیتی ہے۔کمفرٹ زون کا نشہ ایسا زخم ہے جو دکھائی نہیں دیتا صرف انسان کی صلاحیتوں کو ا ہستہ آہستہ دفن کر دیتا ہے۔پرندہ اگر گھونسلے کی حفاظت کوہی زندگی سمجھ لے تو اسے اپنے پروں کی طاقت کا کبھی اندازہ نہیں ہوگا۔اسی طرح انسان بھی اگر اپنی موجودہ حالت کو آخری منزل سمجھ لے تو اس کے اندر موجود امکانات کبھی سامنے نہیں آتے۔یاد رکھنا گھروں میں نوکری کرنے والے تمہارے ساتھی اپنی اسی پوزیشن پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ترقی کرنی ہے تو اس کمفرٹ زون سے باہر نکلو۔یہ یاد رکھنا جب تک نئے سے نیا کچھ سیکھتے رہو گے ترقی کرتے رہو گے۔
جینے کا شوق ہے تو سکوں کی نہ کر تلاش
یہ زندگی کشاکش پیہم کا نام ہے
اس زمانے میںیہ بات پاکستان کے ایک یونین لیڈر اور وہ بھی پاکستا ن بھر کی یونین کا صدر اور جنرل سیکریٹری کہہ رہے تھے۔میری سمجھ میں ان کی یہ بات آگئی کہ کب تک میں اس دائرے میں گھومتا رہوں گا ؟اس طرح میں پہلی مرتبہ اپنے زون سے باہر رحیم یارخان زون جانے کے لیے تیار ہوا۔مجھے نئے شہر ،نئے ضلع ،نئے زون اور نئے سرکل جاکر بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔نئے جگہ ،نئے لوگ ،نیا ماحول مگر میں جانتا تھا کہ آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے۔اور پھر زندگی آئندہ پندرہ سال میری بہترین ترقیوں کی لازوال داستان بن گئے۔پندرہ سال میں ایک اسسٹنٹ سے افسر لیکن اگلے پندرہ سال میں وائس پریذڈنٹ اور جنرل منیجر تک کا سفر حیران کن رہا۔چار سو روپے ماہوار سےتین لاکھ کی امدنی کا تصور ہی نہ تھا۔سب سے بڑھ کر عزت وشہرت میں جو بےپناہ اضافہ ہوا وہ کبھی سوچا ہی نہ تھا۔پھر دنیا دیکھنے کا موقع ملا پورا پاکستان ہی گھوم لیا۔کمفرٹ زون کی تھپکی کہیں دور اپنی ناکامی پر پشیمان کھڑی میری رفتار کو دیکھ رہی تھی۔ہرروز نیا عہدہ ،نئے مالی وسائل ،نئے نئے لوگ ،طرح طرح کے افسر،روز کچھ نیا کرنے کو دل کرنے لگا۔راستے بدلتے رہے کبھی گر جاتے تو سنبھلنا مشکل نہ ہوتا۔زندگی کے تمام سوچے ہوے ٹارگٹ حاصل کرنے کا جنون سر پر سوار تھا۔پھر نہ دن دیکھا نہ رات وقت کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوے ہاتھ سے لیجر پر کام کرنے سے کمپیوٹر اور پھرہر جدید بینکنگ سسٹم کی مہارت اور اپنی پروفیشنل تعلیم میں بے پناہ اضافہ کرتا چلا گیا۔کچھ کر گزرنے کاجنون کمفرٹ زون کی تھپکی سے آگے نکل گیا۔آج میں اپنی نئی نسل کو کہتا ہوں کہ کمفرٹ زون کی تھپکی سے بچو یہ کمفرٹ زون بظاہر ایک خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں معمولات مانوس ہوتے ہیں، خطرات کم ہوتے ہیں، فیصلے آسان ہوتے ہیں اور انسان خود کو مطمئن سمجھتا ہے۔ لیکن اسی سکون کے اندر ایک خاموش زوال چھپا ہوتا ہے۔ انسان نئی چیزیں سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو آزمانا چھوڑ دیتا ہے، سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے خوابوں کو ”بعد میں“ کے حوالے کر دیتا ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ ابھی حالات سازگار نہیں اور کبھی کہتے ہیں ذمہداریاں بہت ہیں اور پھر اسی کشمکش میں عمر گزرتی جاتی ہے اور آخر کار وقت ہمارے سامنے کھڑا ہوکر پوچھتا ہے کہ تم نے زندگی سے کیا حاصل کیا ؟تب ہمارے پاس اکثر کامیابیوں کی فہرست نہیں بلکہ بہانوں کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے خواب ہمیشہ آرام دہ کمروں میں نہیں دیکھے گئےبلکہ بڑے فیصلےہمیشہ بے یقینی کے موسم میں کیے گئے۔ کامیاب لوگوں کی داستانوں میں کامیابی کے ابواب سے کہیں زیادہ جدوجہد، انتظار، محرومی، ٹھوکر اور ناکامی کے صفحات ہوتے ہیں۔ یہ بات صرف دولت یا پیشے تک محدود نہیں۔ تعلقات میں بھی کمفرٹ زون ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات ایسے رشتوں کو صرف اس لیے نبھاتا رہتا ہے کہ تبدیلی مشکل ہے۔ وہ اپنی ذہنی عادات میں بھی قید رہتا ہے، اپنے خیالات کو چیلنج نہیں کرتا، نئی نسل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنی پرانی کامیابیوں کو موجودہ زندگی کا سہارا بنا لیتا ہے۔سب سے خطرناک جملہ شاید یہی ہے ہم تو ہمیشہ سے ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ دنیا بدل چکی ہوتی ہے، مگر انسان اپنے پرانے طریقوں سے چمٹا رہتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی آ جاتی ہے، نئے تقاضے پیدا ہو جاتے ہیں، نئی نسل نئی زبان میں سوچنے لگتی ہے، مگر ہم اپنی پرانی عادتوں کے محل میں بیٹھے رہتے ہیں۔ پھر ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ دنیا ہم سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ کمفرٹ زون کا مسئلہ یہ نہیں کہ آرام برا ئی ہے۔ آرام زندگی کی ضرورت ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آرام منزل بن جائے اور جدوجہد اجنبی۔ انسان کو وقفہ چاہیے، مگر مستقل ٹھہراو¿ نہیں۔ اسے سکون چاہیے، مگر جمود نہیں۔ اسے تحفظ چاہیے، مگر ایسا تحفظ نہیں جو اس کے خوابوں کے دروازے بند کر دے۔ زندگی دراصل ایک دریا ہے۔ دریا بہتا رہے تو شفاف رہتا ہے، رک جائے تو پانی سڑنے لگتا ہے۔ انسان بھی سیکھتا رہے، بدلتا رہے، آگے بڑھتا رہے تو زندہ رہتا ہے؛ ورنہ عمر بڑھتی رہتی ہے مگر زندگی اندر سے چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس لیے کبھی اپنے آپ سے پوچھیں کیا میں واقعی مطمئن ہوں یا صرف عادی ہوں؟ کیا میں خوش ہوں یا صرف اپنی موجودہ حالت کا عادی ہو چکا ہوں؟ کیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق زندگی گزار رہا ہوں یا صرف اتنی زندگی گزار رہا ہوں جتنی میرے خوف نے اجازت دی ہے؟ یہ سوال شاید تکلیف دیں، مگر یہی سوال انسان کو جگاتے ہیں۔ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی زندگی کو خطرات کے حوالے کر دے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خوف کو اپنی قسمت کا مالک نہ بننے دے۔ ایک نئی کتاب پڑھنا، نئی مہارت سیکھنا، کسی نئے کام کا آغاز کرنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا، کسی مشکل گفتگو کا سامنا کرنا، کسی پرانے تعصب پر نظرثانی کرنا—یہ سب اپنے کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھنے کی شکلیں ہیں۔ زندگی میں ہر بڑا دروازہ پہلے ایک چھوٹے سے خوف کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جو دستک دینے کی ہمت کر لے، اس کے لیے راستہ کھل سکتا ہے۔ اور جو صرف دروازے کے باہر کھڑے ہو کر یہ سوچتا رہے کہ اندر کیا ہوگا، وہ ساری عمر باہر ہی رہ سکتا ہے۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی مرتبہ ناکام ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کتنی مرتبہ اپنے خوف کے باوجود کوشش کی؟ کیونکہ ناکامی انسان سے ایک موقع چھین سکتی ہے، مگر کمفرٹ زون انسان سے مواقع تلاش کرنے کی خواہش ہی چھین لیتا ہے۔جب آپ کو ناکامی دوبار کوشش کرنے کو کہتی ہے تو کمفرٹ زون سرگوشی کرتا ہے کہ "رہنے دو سب ٹھیک چل رہا ہے "اور یہی سرگوشی کبھی کبھی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جاتی ہے۔اس لیے اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو کبھی کبھی اپنے آرام کو بے آرام کرنا ہوگا۔ اپنے معمول کو توڑنا ہوگا۔ اپنے خوف کو آنکھوں میں دیکھنا ہوگا۔ ایک قدم اس راستے پر رکھنا ہوگا جہاں منزل نظر نہ آتی ہو، مگر امکانات بے شمار ہوں کیونکہ ناکامی سے گرنے والا انسان دوبارہ اٹھ سکتا ہے، لیکن کمفرٹ زون میں بیٹھا ہوا انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اسے اٹھنا بھی تھا۔دوبارہ کوشش کرو زندگی آرام گاہ نہیں، سفر ہے۔ اور سفر میں سب سے خطرناک چیز راستے کی مشکل نہیں ہوتی سب سے خطرناک چیز یہ تھپکی اور یقین ہوتا ہے کہ "ہمیں اب کہیں جانے کی یا مزید کچھ کرنے ضرورت نہیں”۔






