فٹنس سرٹیفکیٹ
جاویدایازخان
تیرہ اکتوبر کی صبح کراچی سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین شیر شاہ پنجاب کے اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی۔اس ٹرین کی چودہ بوگیاں انجن سمیت الٹنے سے افسوس ناک ابتدائی رپورٹ کے مطابق کم ازکم چھ افراد جاں بحق اور پینتیس افراد زخمی ہوے ۔گو ٹرینوں کے ڈی ریل ہونے ،انجن شوٹ ہونے اور انجن خراب اورفیل ہونے کے واقعات اب معمول بنتے جاہے ہیں لیکن یہ رواں سال کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔پہلے انجن اور ایک ا?دھ بوگی ڈی ریل ہوتی تھی اس مرتبہ تو پوری ٹرین ہی پٹری سے اتر کر الٹ گئی ہے۔یہ بھی المیہ ہے کہ اس ایک سال میں ہی ریلوے کی حادثات کی تعداد پچانوے ہو چکی ہےجن میں ست پینتالیس حاڈثات مسافر ٹرینوں کو پیش آے ہیں۔اس طرح ہمارا ریلوے دنیا بھر میں ایک سال میں سب سے زیادہ حادثات کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہے۔ وجہ ٹیکنکل ہو یا غفلت یا کچھ اور یہ وجوہات کچھ بھی ہوں بہرحال ریلوے کی ٹرینیں ،بوگیاں ،انجن سب کے لیےایک مستند اور ایسا فٹنس سرٹیفکیٹ ضرور درکار ہونا چاہیےجو گاڑی کو منزل تک لے جانے کی ضمانت بن سکے۔آج ریل کاسفر مسرت کی بجاے پریشانی کا سبب بنتا جارہا ہے۔ہمیں اربوں اور کھربوں بجٹ کے اس ادارے پر توجہ دینا ہوگی۔شاید ہمیں ایک بحفاظت سفر کے لیے نئی بوگیوں سے زیادہ نئے ٹریک کی ضرورت ہے۔ہمیں نئے اور فٹنس کے مراحل سے گزرے ریلوے انجن درکار ہیں جو گاڑی کے پہیے کو رکنے نہ دیں۔غریب کی یہ سواری توجہ مانگتی ہے۔ قانون کی گاڑی کے پہیے سب کے لیے برابر ہونے چاہییں، مگر ہمارے ہاں اکثر محسوس ہوتا ہے کہ قانون کی نگاہ کمزور کی جیب تک تو پہنچ جاتی ہے مگر طاقت ورقانون کی گرفت سے اکثر بچ نکلتے ہیں۔ ایک غریب آدمی اپنی پرانی گاڑی لے کر سڑک پر نکلتا ہے تو اس کے سامنے کاغذات، ٹیکس، جرمانوں اور فٹنس سرٹیفکیٹ کی ایک طویل فہرست کھڑی کر دی جاتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ گاڑی کی فٹنس ضروری ہے، کیونکہ آلودگی کی وجہ سے انسانی جان قیمتی ہے۔ یقیناً قیمتی ہے، پرانے ٹائر بدلو ،سسپینشن کا کام کراو ،لائٹیوں درست کراو ،انجن اتنا اچھا ہو کہ دھواں نہ دے ،گاڑی کی آواز نہیں آنی چاہیے ،بریک پرفیکٹ ہونا ضروری ہیں ،مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جان صرف سڑک پر سفر کرتے ہوئے قیمتی ہوتی ہے؟ کیا ریل گاڑی میں بیٹھنے والے مسافروں کی زندگیوں کی کوئی الگ قیمت مقرر ہے؟ گاڑی کی فٹنس کا اصول اپنی جگہ درست ہے۔ کوئی بھی ایسی گاڑی سڑک پر نہیں چلنی چاہیے جو کسی کی جان کے لیے خطرہ بن جائے۔ لیکن جب ایک غریب شخص اپنی محدود آمدنی میں گاڑی کے اخراجات پورے کرتا ہے، گھر کا چولہا جلاتا ہے اور بچوں کی فیس ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے ہر نیا خرچ ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔آج ایک نئے ٹائر کا مطلب پندرہ ہزار اور ایک مرتبہ ورکشاپ جانے کا مقصد بیس ہزار کے بل سے کم نہیں ہوتا۔گاڑیوں کے سپئیر پارٹس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی۔میرا سوال فٹنس سرٹیفکیٹ کی مخالفت کا قطعی نہیں، بلکہ اس نظام میں سہولت، انصاف اور یکساں جواب دہی کا ہے۔ دوسری طرف ریلوے کا نظام ہے، جہاں ایک ٹرین سینکڑوں مسافروں کو لے کر شہروں اور قصبوں کے درمیان سفر کرتی ہے۔ ان مسافروں میں مزدور بھی ہوتے ہیں، طالب علم بھی، ملازمت پیشہ افراد بھی اور اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے سفر کرنے والے خاندان بھی۔ وہ ریلوے پر اعتماد کرکے ٹکٹ خریدتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں منزل تک بحفاظت پہنچانا متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن کیا صرف ٹکٹ فروخت کر دینا ذمہ داری کی تکمیل ہے؟ کیا انجن، بوگیوں، بریکوں، ریلوے ٹریک، سگنلنگ سسٹم اور پھاٹکوں کی مسلسل جانچ پڑتال بھی اسی سنجیدگی سے ہوتی ہے جس سنجیدگی سے عام شہری سے قانونی تقاضے پورے کروائے جاتے ہیں؟ ستمبر 2026ء میں ریلوے حکام کی جانب سے ٹریک، انجنوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی فٹنس پر توجہ دینے کی ہدایات سامنے آئیں۔ اسی سال قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بھی ریلوے حادثات اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ریلوے کی حفاظت محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں، بلکہ انسانی جانوں سے جڑی ہوئی قومی ذمہ داری ہے۔آخر ٹرینوں کا فٹنس سر ٹیفکیٹ کون دے گا ؟یہ سوال محض طنز نہیں، جواب دہی کا تقاضا ہے۔ ریلوے کے انجنوں، بوگیوں اور پٹریوں کا معائنہ متعلقہ تکنیکی اور ریلوے حکام کی ذمہ داری ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے کو بھی حفاظتی معائنے اور متعلقہ قانونی فرائض سونپے گئے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ معائنہ کس باقاعدگی سے ہوتا ہے، خامیوں کی نشاندہی کے بعد انہیں دور کیا جاتا ہے یا نہیں، اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داروں سے جواب طلب کیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اگر ایک گاڑی کی خرابی پر اسے سڑک سے ہٹایا جا سکتا ہےیا چا لان کرکے بند کیا جاسکتا ہے تو کسی ٹرین یا ریلوے ٹریک میں سنگین نقص سامنے آنے پر حفاظتی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کی گنجائش کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ اگر ایک عام شہری سے کہا جاتا ہے کہ قانون سب کے لیے ہے تویہی اصول بڑے اداروں کے لیے بھی اتنا ہی مو¿ثر ہونا چاہیے؟۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حفاظت کے نام پر قانون نافذ کرنا اور قانون کے نام پر غریب کو پریشان کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ فٹنس کا نظام شفاف، آسان اور غیر ضروری اخراجات سے پاک ہونا چاہیے۔ شہری کو بروقت معائنہ، واضح فیس، مناسب سہولت اور اپیل کا راستہ میسر ہو۔ دوسری طرف قومی اداروں کی کارکردگی بھی محض اعلانات، وضاحتوں اور حادثے کے بعد ہونے والی کارروائیوں سے نہیں، بلکہ مسلسل نگرانی اور قابلِ تصدیق حفاظتی اقدامات سے جانچی جانی چاہیے۔ ریلوے کا مسافر جب ٹرین میں قدم رکھتا ہے تو وہ صرف ایک ٹکٹ نہیں خریدتا، وہ اپنے اداروں پر اعتماد بھی کرتا ہے۔ اس اعتماد کی حفاظت کرنا ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔آخر میں سوال پھر وہی ہے: اشرافیہ کی نئی گاڑیوں کو رعایت دے کر غریب کی پرانی گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ تو مانگا جا رہا ہے، مگر انجن، بوگیوں اور پٹریوں کی صحت و سلامتی کی ضمانت کون دے گا؟ قانون کا مقصد صرف کمزور کی جیب تک پہنچنا نہیں، بلکہ ہر شہری کی جان، مال اور عزت کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر سڑک پر چلنے والی گاڑی کی خرابی خطرہ ہے تو ریل کی پٹری پر دوڑنے والی ٹرین کی غفلت بھی معمولی معاملہ نہیں ہو سکتی۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں غریب کو قانون سے بھاگنے کی ضرورت نہ پڑے اور بڑے اداروں کو جواب دہی سے بچنے کا راستہ نہ ملے۔ کیونکہ انصاف کا اصل امتحان یہ نہیں کہ قانون کمزور پر کتنا سخت ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت ور اور کمزور، دونوں کے لیے اس کا معیار کتنا یکساں ہے۔گاڑی ہو یا ٹرین ،فٹنس کا تقاضہ کاغذ کا ایک سرٹیفکیٹ نہیں،انسانی زندگی کے احترام کا نام ہے۔شہر کی پرانی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہوں یا پھر ریلوے کے پرانے اور بوسیدہ ٹریک یہ کب گاڑیوں اور ٹرینوں کے لیے محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں ؟






