#کالم

سورہ النور کا بھولا ہوا پیغام

atiya zafar

عطیہ ظفر

کیا سورہ النور صرف حجاب کا درس دیتی ہے؟جب بھی حجاب کا ذکر اتا ہے ہمارے ذہن میں فورا سورہ نور کی ایات کا تصور ابھرتا ہے بلاشبہ سورہ النور میں حجاب ،نگاہوں کی حفاظت اور حیائ کے واضح احکامات موجود ہیں لیکن کیا اس سورہ کا پیغام صرف حجاب تک محدود ہے ؟ ہرگز نہیں سورہ النور دراصل مدنی معاشرتی آئین ہے جس میں ایمان والوں کو بتایا کہ اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کے نظام کو قائم کیے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں یہی وہ سورہ ہے جو انسانی عزت ،عورت کے وقار ،خاندان کے استحکام اور زبان کے احتیاطی اصولوں کی حفاظت کے لیے نازل ہوئی سورہ کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ایک سورہ ہے جسے ہم۔نے نازل کیا اور اس کے احکام کو فرض کیا اس میں واضح آیات اتاری تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ،، سورہ نور کا آغاز اللہ نے غیر معمولی اعلان سے نہیں کیا بلکہ بتایا ہے کہ اس سورہ کے احکام اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہیں یعنی اللہ نے یہاں اخلاق کو قانون کا درجہ دیا ہے یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ دنیا کے زیادہ تر قوانین جسمانی جرائم پر تو سزائیں دیتے ہیں لیکن قرآن کا یہ اصول ہے کہ روحانی جرائم (مثلاً الزام،زنا،بےحیائی افواہ )بھی معاشرتی تباہی لاتے ہیں اس لیے اسے روکنا فرض ہے زنا جیسی گندی معاشرتی برائی سے بچنے کے لیے زنا کار مرد اور عورت دونوں کو سوکوڑے مارنے کی سزا ہے یہ ایک آیت قرآن کے چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں سزا صریح الفاظ میں بیان کی گئی ہے اس سزا کا مقصد انتقام نہیں بلکہ حفاظت ہے معاشرے کو اخلاقی انارکی سے بچانے کے لیے اسلام نے زناکو محض ایک نجی فعل نہیں سمجھا بلکہ اسے سماجی بیماری قرار دیا ہے کیونکہ جب عفت مٹ جاتی ہے تو خاندان نسل اوراعتمادکا نظام ٹوٹ جاتا ہے سورہ النور ایک نہایت اہم موضوع تہمت اور کردار کشی پر بات کرتی ہے کسی پاک دامن شخص خصوصاََ عورت پر تہمت لگانا معمولی بات نہیں سورہ نور آیت چار میں واضح کہا گیاہے کہ ,,جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو ان کے لیے اسی (80)کوڑوں کی سزا ہے٬، (چار گواہ نہ لانے کی سورت میں ) ان کی گواہی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اس سلسلے میں اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک واقعات میں سے ایک حادثہ ء افک ،، ہے جب کچھ منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ پر الزام لگایا یہ واقعہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کو زخمی کر گیا مدینہ کی سوسائٹی ہل گئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حضرت عائشہ کی پاکیزگی کا اعلان فرمایا سورہ نور آیت 11اور12(,,جو لوگ یہ بہتان گھڑ لاتے ہیں یہ تم میں سے ایک گروہ ہے اسے تم اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے خیر ہی ہےان میں سے ہر شخص کے لیے اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا اور ان میں سے جس نے بہتان کا بڑا حصہ اٹھایا اس کے لیے بڑا عزاب ہے ۔جب تم نے بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے دلوں میں اچھا گمان کیوں نہ کیا یہ کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے ،،)یہ ایات تاریخی عدالتی مثال بن گئیں کہ کوئی الزام بغیر ثبوت کے معتبر نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہا کہ یہ واضح بہتان ہے یعنی مومن کا فطری درعمل شک نہیں بلکہ دفاع ہونا چاہیے ہر دور میں اگر امت کسی افواہ کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھاتی ہے تو وہ ایمان کی روشنی کو ماند کرتی ہے آیت 15میں اللہ فرماتے ہیں ,,تم اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہنے لگے جن کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا ،،یہ آیت انسانی رویے کی نفسیاتی جڑ کھولتی ہے انسان دوسروں کی عزت پر بات اس لیے کرتا ہے تاکہ خد کو برتر محسوس کرے لیکن قرآن نے اس طرزفکر کو باطنی بیماری قرار دیا ہے اور علاج قرآن کی گہری تعلیم ہے بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے مسلے پر بھی اسلامی تعلیمات حساس اور ذمہ دار رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہیں بچیوں کے ساتھ زیادتی ایک سنگین ظلم ہے اور معاشرے کی زمہ داری ہے کہ بچوں کی حفاظت کرے ان کی بات سنے اور مجرم کو قانون کے مطابق سزا دلوائے آئیے اس یوم حجاب پہ عہد کریں کہ حیاءکو فروغ دیں گے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے قرآن کے بتائے ہوئے پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے حجاب ڈے کا اصل پیغام یہی ہے کہ عزت صرف عورت کی ذمہداری نہیں بلکہ معاشرے کی امانت ہے۔

سورہ النور کا بھولا ہوا پیغام

اجڑے گلشن، سوگوار ہوا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے