#کالم

اجڑے گلشن، سوگوار ہوا

Untitled 6

سہیل بشیر منج

?پمز ہسپتال کا وہ روشن وارڈ جو ننھی مسکراہٹوں اور زندگی کی امیدوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا لمحوں میں آہ و بکا اور گہرے ماتم کی تاریک گلی میں تبدیل ہو گیا معصوم بچوں کی سانسیں بچانے والے آلات کی بے  حسی اور انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی نے چودہ  خاندانوں کے چراغ گل کر دیے جن کی روشنیاں ان کے ماو¿ں باپ کی آنکھوں میں بستی تھیں جن آکسیجن سلنڈروں کو زندگی کی روانی بحال کرنی تھی وہی اچانک ناکارہ ہو گئے اور دم توڑتے بچوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہوا میں مدد کے لیے تڑپتے رہے لیکن نظام کی مردہ دلی کے باعث کوئی مسیحا ان کی التجا نہ سن سکا ۔ہسپتال کے گلتے سڑتے اور بظاہر جدید ترین نظام کا پول اس وقت کھلا جب لائف سپورٹ سسٹمز نے کام کرنا بند کر دیا اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا کوئی بیک اپ موجود ہی نہ تھا  تکنیکی آلات کے باقاعدہ معائنے اور حفاظتی جانچ کو کاغذات کے پلندوں میں دفن کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک ایسا دردناک ہلاک خیز واقعہ جنم پایا جس نے پورے ملک کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا  یہ محض کسی تکنیکی خرابی یا تقدیر کا کھیل نہیں تھا بلکہ سالہا سال سے پلنے والی اس انتظامی نااہلی کا حتمی نتیجہ تھا جو انسانی زندگیوں سے زیادہ دفتری کاغذی کارروائیوں کو اہمیت دیتی ہے ۔جب اقتدار اور انتظامی سائے میں بیٹھے لوگ چھوٹے حادثات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تو انجام اسی طرح ماو¿ں کی گودیں اجڑنے کی صورت میں سامنے آتا ہے  ان تڑپتے بچوں کے لیے ہسپتال کا ہر لمحہ ایک ایسا عذاب بن گیا جس کی تلخی زندگی بھر ان کے والدین کے دلوں پر نقش رہے گی  نظام کی اس بے حسی نے معصوم سانسوں کا سودا کر کے جو گہرا زخم دیا ہے وہ کبھی نہیں بھر سکتا اور تاریخ ہمیشہ اس سانحے کو انسانی غفلت اور حکومتی سرد مہری کے سیاہ ترین باب کے طور پر یاد رکھے گی۔دنیا کے مہذب معاشروں خصوصاً برطانیہ میں اگر ایسا دلخراش سانحہ پیش آتا تو پورے این ایچ ایس سسٹم میں زلزلہ آ جاتا اور وزیرِ صحت سمیت تمام اعلیٰ حکام فوراً مستعفی ہو کر اپنے آپ کو قانونی احتساب کے لیے پیش کر دیتے وہاں محض ایک سیکرٹری کو معطل کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش ہرگز نہ کی جاتی بلکہ آزادانہ پبلک انکوائری قائم کر کے مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمات درج کیے جاتے  ہمارے ہاں ایک سرکاری افسر کی صرف معطلی متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے اب وقت آ گیا ہے کہ محض ردو بدل کا ڈرامہ بند کیا جائے اور حادثے کے ہر چھوٹے بڑے ذمہ دار کو تلاش کر کے نوکری سے برطرف کیا جائے اور انہیں ایسی سخت سزائیں دی جائیں جو آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بن سکیں۔پاکستان کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں انتظامی غفلت اور طبی کوتاہی کے باعث معصوم پھولوں جیسے بچوں کا دم توڑ جانا محض اتفاق نہیں بلکہ صریحاً سنگین جرم ہے مگر افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ایسے دلخراش واقعات کے بعد روایتی طور پر ذمہ داران کو صرف معطل کر کے معاملے کو دبا دیا جاتا ہے  جن غمزدہ والدین کے  لخت جگر ان کے ہاتھوں میں دم توڑ جائیں ان کے دکھ کا اندازہ لگانا بظاہر ناممکن ہے لیکن اس اندوہناک المیے پر قلم اٹھاتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے اور روح تک کانپ اٹھتی ہے محض معطلی کا یہ کھوکھلا رواج اب ختم ہونا چاہیے اور حادثے کا سبب بننے والے نااہل عملے اور انتظامی سربراہان کے خلاف غیر ارادی قتل اور مجرمانہ غفلت کے تحت فوری طور پر فوجداری مقدمات درج کیے جائیں  ان سنگدل اور لاپروا ڈاکٹروں نرسنگ اسٹاف اور ذمہ دار ایڈمنسٹریٹرز کو صرف نوکری سے نکالنا کافی نہیں بلکہ پاکستان میڈیکل کونسل کو ان کے میڈیکل لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دینے چاہئیں  قانونی عمل کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچا کر ان مجرموں کو سخت ترین قید کی مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ یہ عدالتیں اور فیصلے آنے والی نسلوں کے لیے ایک عبرتناک نظیر بن سکیں جب تک ہم ان بے حسی کے پتلوں کو سخت سزاو¿ں کے کٹہرے میں نہیں لائیں گے تب تک کسی تڑپتی ہوئی ماں کی گود کو اجڑنے سے نہیں بچایا جا سکے گا اور نہ ہی کسی مظلوم باپ کے آنسوو¿ں کا مداوا ہو سکے گا۔ہسپتالوں کے جن بستروں پر زندگی کی سانسیں بحال ہونی چاہئیں وہاں جب لاپرواہی کی سرد مہر تاریکی چھا جائے تو انسان کا قانون اور انسانیت دونوں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے  معصوم بچوں کے بجھتے ہوئے چراغوں اور تڑپتے ہوئے وجودوں کی چیخیں آج بھی ہر حساس دل کو جھنجھوڑ رہی ہیں اور اس اندوہناک حقیقت کا ماتم کر رہی ہیں کہ ہماری بے حسی نے پھول سے بچوں کو موت کی آغوش میں دھکیل دیا  اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض غم و غصے کا اظہار کرنے کے بجائے ہسپتالوں کے پورے نظام کی بنیادوں کو تبدیل کریں ہر سرکاری ہسپتال میں آکسیجن سپلائی لائف سپورٹ سسٹمز اور حساس سینسرز کا چوبیس گھنٹے فعال رہنے والا بیک اپ قائم کرنا کسی احسان کی مانند نہیں بلکہ یہ انسانی زندگیوں کی بقا کا لازمی تقاضا ہے  اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے اندرونی اثر و رسوخ سے پاک ایک بالکل آزاد اور بااختیار ہیلتھ کیئر آڈٹ باڈی کی تشکیل بے حد ضروری ہے جو روزمرہ کی بنیاد پر طبی آلات اور خدمات کے معیار کی کڑی نگرانی کرے  جب تک ہم اپنے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف پر ڈیوٹی کے طویل اور تھکا دینے والے اوقات کار کا بوجھ کم نہیں کریں گے اور انہیں جدید ترین ایمرجنسی ہینڈلنگ کی تربیت فراہم نہیں کریں گے تب تک غفلت کا یہ خونخوار اڑدہا یوں ہی بے گناہ جانوں کو نگلتا رہے گا ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ ہر ضائع ہونے والی سانس کے پیچھے کسی ماں کی اجڑی ہوئی دنیا اور کسی باپ کی ٹوٹی ہوئی کمر  کا درد چھپا ہوتا ہے  اگر ہم نے آج بھی ان تحفظاتی تدابیر اور تکنیکی اصلاحات کو ایمانداری سے نافذ نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی ہم ان تڑپتی روحوں کا سامنا کرنے کے قابل رہیں گے۔

اجڑے گلشن، سوگوار ہوا

پاکستان کی منزل کس طرف؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے