#کالم

نئے صوبے اور پنجاب کا مسئلہ

safdar ali khan 1

صفدر علی خاں

پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے تو بحث نقشے پر کھینچی جانے والی نئی لکیروں سے شروع ہو کر سیاست کے ایوانوں میں جا پہنچتی ہے۔ پنجاب کا نام آتے ہی سوال مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جس کی آبادی، رقبہ، معیشت اور سیاسی وزن اسے ملک کی سب سے بڑی انتظامی اکائی بناتی ہے، کیا وہ واقعی ایک مرکز سے اس کے ہر شہر، ہر ضلع اور ہر بستی کی ضرورت کو یکساں طور پر سمجھا اور پورا کیا جا سکتا ہے؟ یا پھر مسئلہ پنجاب کے بڑا ہونے سے زیادہ اس انتظامی نظام کا ہے جس نے اختیار کو لاہور کے گرد محدود کر رکھا ہے؟جبکہ یہ حقیقت جان لینا ضروری ہے کہ لاہور سے باہر بھی پنجاب ہے۔جو محرومیوں اور پسماندگی کے باعث خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لاہور پنجاب ضرور ہے ، مگر پورا پنجاب لاہور نہیں۔ لاہور کی روشنیاں ، بلند عمارتیں اور تیز رفتار زندگی اگر ترقی کی تصویر ہیں تو ان سے بہت دور وہ کھیت ، قصبے اور شہر بھی اسی پنجاب کا حصہ ہیں جہاں آج بھی بنیادی سہولتوں ، روزگار ، تعلیم اور صحت کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ چنانچہ جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کی بحث کو محض سیاست ، لسانی شناخت یا اقتدار کی تقسیم کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے یہ سوال بھی کرنا ہو گا کہ کیا ایک عام شہری کو حکومت اور انتظامیہ اس کے دروازے پر دستیاب ہے؟ اسی لیے نئے صوبوں کی بحث جب بھی شروع ہوتی ہے ، سب سے زیادہ توجہ پنجاب پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ آبادی ، معاشی حجم اور سیاسی اثر و رسوخ کے اعتبار سے پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ لیکن اسی حقیقت نے ایک بنیادی سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کیا ایک ایسا صوبہ جس کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہو ، اسے ایک ہی انتظامی مرکز سے مو¿ثر طور پر چلایا جا سکتا ہے؟پنجاب سے شام کو چلنے والی تمام بسوں اور ٹریفک کا رخ لاہور کی جانب ہو جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کے مسائل کا حل لاہور جاے? بغیر ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں ا?ج یہ سوال پنجاب کے خلاف نہیں بلکہ پنجاب کے اندر موجود انتظامی عدم توازن کے بارے میں ہے۔نئے صوبوں کی بحث دراصل نقشے کی تقسیم سے زیادہ اختیار ، وسائل اور ترقی کی منصفانہ تقسیم کا سوال ہے۔تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلوں میں کمی لائی جاسکے۔عوام اور حکومت میں فوری رابطہ ممکن ہو سکے۔
لاہور ایک بڑا سیاسی ، تعلیمی ، طبی اور معاشی مرکز ہے لیکن لاہور کی ترقی کو پورے پنجاب کی ترقی سمجھ لینا ایک خطرناک سادہ کاری ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع ، سرحدی اور دور افتادہ علاقے ، زرعی خطے اور چھوٹے شہر اپنی الگ ضروریات رکھتے ہیں۔ ان علاقوں کے لیے لاہور سے بننے والی ہر پالیسی یکساں طور پر موزوں نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر علاقے کی ترجیحات بلکل مختلف اور الگ الگ ہیں۔ پنجاب کی تقسیم کے حامیوں کی بنیادی دلیل یہی ہے کہ ایک بڑے صوبے کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر کے فیصلہ سازی کو مقامی ضرورتوں کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ اس سے جنوبی اور مغربی علاقوں کو اپنی ترقیاتی ترجیحات طے کرنے کا زیادہ اختیار مل سکتا ہے۔ لیکن اس تجویز کو صرف صوبائی شناخت کی بنیاد پر پیش کرنا بھی مناسب نہیں۔ اگر نیا صوبہ صرف نام بدلنے کا منصوبہ ہو اور اختیارات وہیں رہیں جہاں پہلے تھے تو عام آدمی کے لیے فرق معمولی ہوگا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ انتظامی مرکز بھی منتقل ہو ، بجٹ سازی کا اختیار بڑھے ، مقامی ادارے مضبوط ہوں اور مقامی معیشت کو فروغ دیا جائے۔ پنجاب کی تقسیم کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ اگر نئے انتظامی مراکز قائم ہوتے ہیں تو ان علاقوں میں انفراسٹرکچر ، تعلیم ، صحت ، صنعت اور خدمات کے نئے مراکز پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس طرح لاہور ، فیصل آباد ، ملتان یا راولپنڈی جیسے بڑے مراکز پر بڑھتا ہوا دباو¿ کم کیا جا سکتا ہے۔بےروزگاری میں کمی اور کاروبار میں وسعت کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔لیکن اس عمل میں پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انتظامی حدود تبدیل ہو سکتی ہیں مگر ثقافتی تعلقات ختم نہیں ہوتے۔ نئے صوبوں کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے ایک ہی وفاق کے اندر تعاون کرنے والی اکائیاں بنانا ہوگا۔ پنجاب کے بارے میں اصل سوال یہ نہیں کہ اسے تقسیم کرنا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب کے ہر شہری کو برابر مواقع ، بہتر حکمرانی اور ریاست تک آسان رسائی کیسے دی جائے؟ اگر موجودہ انتظامی ساخت اس مقصد میں رکاوٹ ہے تو اصلاحات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ نئے صوبے بنانا کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں اور نہ ہی اسے سیاسی نعروں کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ تاریخ ، جغرافیہ ، معیشت ، وسائل ، انتظامی استعداد اور سب سے بڑھ کر عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ اگر نیا صوبہ صرف نئے عہدے ، نئی اسمبلی اور نئی سیاسی اشرافیہ پیدا کرے تو نقشے کی تبدیلی عام آدمی کی زندگی نہیں بدل سکتی۔اسی لیے اشرافیہ ایسے یونٹ بنانا چاہتی ہے جہاں ان کا تسلط اور حکمرانی کسی نہ کسی شکل میں قائم رہے۔کبھی بہاولپور صوبہ ،کبھی جنوبی پنجاب صوبہ تو کبھی سرائیکی صوبے کا نعرہ اسی تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔لیکن اگر نئی انتظامی اکائیاں اختیار کو مرکز سے عوام کے قریب ، وسائل کو ضرورت کے مطابق اور ترقی کو چند بڑے شہروں سے نکال کر دور دراز علاقوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں تو پھر نئے صوبوں کی بحث کو محض سیاسی سازش کہنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔پنجاب کی تقسیم دراصل اختیارات کی تقسیم کا دوسرا نام ہے۔دور دراز علاقوں کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے انتظامی یونٹ اہم قرار دئیے جاسکتے ہیں۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ پنجاب کو تقسیم کیا جائے یا نہیں۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب کے لوگوں کو ان کا حق ، اختیار اور ترقی کہاں سے ملے گی؟اور کیسے ملے گی ؟ کیونکہ لاہور پنجاب کا دل ضرور ہے ، مگر پنجاب کی دھڑکن صرف لاہور میں نہیں ، ملتان سے بہاولپور ، ڈیرہ غازی خان سے میانوالی اور ہر اس گاو¿ں تک سنائی دیتی ہے جہاں ایک عام آدمی آج بھی یہ پوچھ رہا ہے کہ حکومت آخر ہمارے دروازے تک کب آئے گی؟جس کا حل بظاہر ایسے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل میں نظر ا?تا ہے۔بڑھتی ہوئی ?ابادی اور اس ا?بادی کے مطابق سہولیات کی فراہمی مقامی طور پر بہتر کی جاسکتی ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ عوام کی سہولت بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

نئے صوبے اور پنجاب کا مسئلہ

پاکستان کی منزل کس طرف؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے