ڈیجیٹل پولیسنگ اور عوامی اعتماد
مرزا رضوان
کسی بھی فلاحی اور متمدن معاشرے میں امن و امان کا قیام اور قانون کی بالادستی کا بنیادی انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عام شہری اور پولیس کے درمیان رابطہ کتنا شفاف، آسان اور مضبوط ہے۔ وطنِ عزیز میں روایتی طور پر پولیس اور عام آدمی کے درمیان ایک نادیدہ دیوار حائل رہی ہے، جسے "تھانہ کلچر”، نوکر شاہی کی رکاوٹوں اور دفتری پیچیدگیوں سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔ عام شہری اکثر اپنے مسائل، شکایتیں اور تکالیف لے کر اعلا حکام تک پہنچنے سے کتراتے تھے یا پھر انہیں رسائی حاصل نہیں ہو پاتی تھی۔ لیکن موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو نکھار دیا ہے، وہاں پولیسنگ کے انداز میں بھی ایک انقلابی اور خوش آئند تبدیلی کی کرنیں نمودار ہو رہی ہیں۔ لاہور جیسے صوبائی دارالحکومت میں، جہاں کی آبادی سوا کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور شہری و معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جرائم کی نوعیت بھی پیچیدہ ہو چکی ہے، وہاں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا نیا اقدام ایک روشن مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔30 اگست بروز اتوار کو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کی جانب سے شروع کی جانے والی پہلی آن لائن فیس بک کھلی کچہری نے عوامی رابطہ کاری کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس ڈیجیٹل کچہری میں 10 ہزار سے زائد شہریوں کی بھرپور اور فعال شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اپنے مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں اور اگر انہیں ایک محفوظ، آسان اور شفاف پلیٹ فارم مہیا کیا جائے تو وہ بلا خوف و خطر اپنی آواز اعلی حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کھلی کچہری کی سب سے منفرد، اثر انگیز اور تحسین کے قابل بات یہ تھی کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے محض پیغامات وصول کرنے یا روایتی دفتری کمنٹس تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ پیغامات بھیجنے والے شہریوں کو خود پرسنل فون کالز کیں اور ان کے مسائل و تظلمات کو براہِ راست سنا ساتھ ہی فوری احکامات بھی دئیے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس نے نہ صرف عام شہریوں کا اعلا احکام اور پولیس کے ادارے پر اعتماد بحال کیا ہے بلکہ ماتحت عملے اور تفتیشی افسران کو بھی یہ واضح اور سخت پیغام دیا ہے کہ عوامی مسائل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر اب برداشت نہیں کی جائے گی۔یہ اقدام محض اتوار کی ایک آن لائن سرگرمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک مربوط تزویراتی (Strategic) اصلاحاتی سوچ کارفرما ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران جہاں اتوار کو آن لائن کھلی کچہری کے ذریعے گھروں میں بیٹھے شہریوں، خواتین اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک پہنچ رہے ہیں، وہاں روزانہ کی بنیاد پر اپنے دفتر میں کھلی کچہری کے انعقاد کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ دفتر میں آنے والے ہر سائل کی بات توجہ سے سننا، معاملے کی باریکی کو سمجھنا، فوری احکامات جاری کرنا اور پھر ان احکامات پر ہونے والے عمل درآمد کا خود تعاقب کرنا (Follow-up) ایک ایسا ماڈل ہے جس نے روایتی سرخ فیتا شاہی (Red Tapism) کا خاتمہ کر دیا ہے۔ جب کسی ادارے کا سربراہ خود فیلڈ میں ایکشن موڈ میں دکھائی دیتا ہے تو تھانوں کی سطح پر ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کی کارکردگی میں بھی خود بخود تندہی، شفافیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔اس ساری صورتحال میں ایک انتہائی اہم پہلو ڈی آئی جی آپریشنز کا وہ دوٹوک پیغام اور اپیل ہے جس میں انہوں نے شہریوں سے کہا کہ "منشیات اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے پولیس کا ساتھ دیں۔” جدید دنیا میں کمیونٹی پولیسنگ (Community Policing) کو ہی جرائم کی سرکوبی کا سب سے موثر اور پائیدار ہتھیار مانا جاتا ہے۔ پولیس کا نظام کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو جائے، وہ شہر کی ہر گلی، ہر محلے اور ہر موڑ پر اس وقت تک مکمل نگران نہیں بن سکتی جب تک مقامی آبادی خود پولیس کی آنکھ اور کان نہ بن جائے۔ نوجوان نسل کو منشیات جیسی زہریلی دیمک سے بچانا، قمار بازی، اسٹریٹ کرائم اور دیگر سماجی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا صرف ایک ادارے کا کام نہیں بلکہ یہ ریاست اور شہریوں کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ جب شہری خود کو پولیس کا حلیف اور مددگار سمجھیں گے تو جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور قبضے داروں کے لیے معاشرے میں چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔اگر ہم لاہور جیسے تاریخی اور کثیر ا?بادی والے شہر کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو شاہدرہ کے داخلی راستوں سے لے کر رائے ونڈ، گلبرگ، اندرون شہر اور ماڈل ٹاو¿ن کے علاقوں تک، جرائم کی نوعیت اور چیلنجز مختلف ہیں۔ اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، گاڑیوں کی چوری، منشیات کی سپلائی اور بااثر مافیاز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن فیصل کامران کے عزم اور اب تک کے اقدامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کا بنیادی ہدف شہرِ لاہور کو ہر قسم کے جرائم سے پاک کرنا اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس عزم کی تکمیل کے لیے فیس بک کھلی کچہری کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات ایک زبردست "لائیو انٹیلی جنس” کا کام کر رہی ہیں۔ شہری براہِ راست اپنے علاقوں میں موجود کالی بھیڑوں، منشیات کے اڈوں اور جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس پر ڈی آئی جی آپریشنز کے فوری احکامات کے تحت فوراً چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔تھانہ سطح پر اصلاحات اور احتساب کے بغیر امن و امان کا قائم ہونا ممکن نہیں۔ اس آن لائن کچہری کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہو رہا ہے کہ عام شہری کو ایس ایچ او یا محرر کی من مانی یا عدم تعاون کی شکایت کے لیے بار بار تھانوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑتے۔ وہ بلا جھجھک اپنی بات ڈی آئی جی تک پہنچا دیتا ہے۔ اس سے ماتحت عملے میں خود بخود احتساب کا خوف پیدا ہوا ہے، اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی، رشوت ستانی یا بدسلوکی کی صورت میں کوئی بھی اہلکار بچ نہیں سکے گا۔ فوری احکامات اور فوری ایکشن کا یہ تسلسل اگر اسی جذباتی اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ جاری رہا تو یہ لاہور پولیس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا یہ اقدام پولیسنگ کے ایک نئے، جدید اور عوام دوست دور کا آغاز ہے۔ 10 ہزار سے زائد شہریوں کا ایک ہی دن میں آن لائن جڑنا اس بات کی گواہی ہے کہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ٹوٹا ہوا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ تاہم اس سلسلے کو مزید پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کی شکایات پر ہونے والے ایکشن کا ڈیٹا بھی باقاعدگی سے عام کیا جائے تاکہ اس نظام پر عوامی اعتماد دائمی شکل اختیار کر سکے۔ اگر لاہور کو واقعی ایک محفوظ، پرامن اور جرائم سے پاک شہر بنانا ہے تو فیصل کامران کا یہ ڈیجیٹل اور عملی ماڈل صوبے کے دیگر تمام اضلاع کے لیے بھی مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ عوام کی شراکت داری، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال اور کمانڈر کا جرات مندانہ فوری ایکشن۔یہ وہ تین عناصر ہیں جو ایک محفوظ اور جرائم سے پاک لاہور کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔






