#کالم

ہیمان سے خالی شام۔۔۔۔

naveed mirza

محمد نوید مرزا

اشرف جاوید اردو کے ممتاز شاعر کے طور پر اہنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔انھوں نے ادب کی تمام معروف اصناف حمد ،نعت،سلام ،غزل اور نظم میں طبع آزمائی کی ہے۔اس کے علاوہ ان کی نثری کاوشیں بھی قابل قدر اور تحسین کے لائق ہیں۔شاعری کے علاوہ ان کی کالم نگاری ،تحقیق اور خاکہ نگاری کے ضمن میں خدمات بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔وہ سیاسیات،سماجیات اور عالم منظر نامے پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔اب تک ان کی شاعری و دیگر موضوعات پر درجن سے زائد کتب شائع ہو کر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔جب کہ چند کتب زیر ترتیب و زیر اشاعت کے مراحل میں ہیں۔اس وقت میرے سامنے ان کا نیا شعری مجموعہ،پیمان سے خالی شام ہے۔اپنے منفرد نام ہی کی طرح اس کتاب کی شاعری بھی مختلف رنگ اور جدید فکر سے آراستہ ہے۔کتاب میں صرف شاعر کا طویل دیباچہ بعنوان ،احباب جسے کار سخن کہتے ہیں، کے نام سے شامل ہے،جس میں انھوں نے ادب،سیاست اور اردو شاعری خاص طور غزل کے خدوخال اور اس کے محاسن اور جدید دور میں اس کے نئے طور اطوار پر بھی گفتگو کی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے دنیا پر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔ان کا یہ دیباچہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ،جو ان کی شاعری سے ہٹ کر ایک نقاد کی فکر انگیز تحریر ہے۔نئے زمانے کی شاعری پر لکھتے ہوئے کہتے ہیں،،نیا زمانہ ہے،اس کے طور اطوار بھی نئے ہیں۔اب تو شاعری کے عناصر بھی ،طلوع ہوتی ہوئی،نئی زندگی کے وسیع تر تناظر میں موجود عناصر میں تلاش کرنا ہوں گے،کیوں کہ غزل زخمی ہرن کی چیخ اور عورت سے محض روایتی گفتگو کی حدود سے آگے نکل آئی ہے،ہمیں بھی آگے نکل کر سوچنا ہو گا،،یہ ایک فکر انگیز تحریر ہے ،جسے آپ بھی ضرورپڑھیں۔۔۔اب آئیے اشرف جاوید صاحب کی شاعری پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔یہ کتاب بنیادی طور پر غزل کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔جس کے آغاز میں حمد،نعت اور پھر سلام کے اشعار شامل کئے گئے ہیں۔۔۔آئیے چند شعر دیکھتے ہیں۔۔۔
ہو لامکاں،مکاں ہو ،ٹھکانے اسی کے ہیں
دیر و حرم اسی کے،زمانے اسی کے ہیں
رکھتا ہے تاک تاک میں ،پھر چوکتا نہیں
جو بھی ہدف ہیں،جو بھی نشانے اسی کے ہیں
مانگتا اور کیا مدینے میں
مل گیا جب خدا مدینے میں
آپ کے پاو¿ں چھو کے ہوتی گئی
خاک،خاک شفا مدینے میں
سارا ہی رستہ روشنی ہے
اسوہ نبی کا روشنی ہے
دنیا کے کالے ضابطوں میں
خطبہ اسی کا روشنی ہے
گھر گھر میں جس کا نور جلانے لگے چراغ
دنیا اسی کے گھر کا بجھانے لگے چراغ
اس کے بعد اس مجموعے میں غزل کا طویل سفر شروع ہوتا ہے۔اشرف جاوید کی غزل میں جدید دنیا کے سارے مسائل پر نظر رکھی گئی ہے۔وہ موضوعات کی رنگا رنگی سے آراستہ ہو کر نت نئے مفہوم سے مزین شعر کہتے ہیں۔اشرف جاوید کی غزل جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے لیکن ہمیں ان کے ہاں روایت کی پاسداری بھی نظر آتی ہے۔وہ دنیائے شعر و ادب کےکلاسیک اور آج کے شعرائ کا مطالعہ کر چکے ہیں،جس نے ان کی سوچ اور فکر کو وسعت عطا کی ہے۔ان کے ہاں تخلیقی وفور ،پختگی ،زبان و بیان اور اظہار کی خوب صورتی ایک ساتھ موجود ہے۔اپنے پہلے مجموعے نخل نوا سے لے کر پیمان سے خالی شام تک ان کا شعری سفر نہایت خوبصورتی اور روانی سے جاری و ساری ہے اور آئیندہ بھی رہے گا۔اس بات کی تصدیق کے لئے آئیے ان کے چند شعر دیکھتے ہیں،،
روک لے بڑھ کے ،یہ امکان کھلا رکھتا ہوں
باندھتا ہوں کبھی سامان کھلا رکھتا ہوں
شاید آ جائے کسی روز سہولت پا کر
راستہ جو بھی ہو آسان ،کھلا رکھتا ہوں
کبھی گھروں میں پرندے بھی گھر بناتے تھے
اب ان کے واسطے پنجرہ بنانا پڑتا ہے
زندگی بھر کسی ظالم کو سلامی نہیں دی
زندگی بھر ہی زمانے کا گنہ گار بنا
فقیر و شاہ کی بازی بھی اپنی اپنی ہے
کسی کی جان ،کسی کے خزانے لگ جائیں
روتا ہو گا کوئی دریا کے کنارے بیٹھا
گھل کے آنے لگا اشکوں کا نمک پانی میں
صحرا کوسبزہ زار کیا اس کی یاد میں
پودا ہر اک قدم پہ لگانا پڑا مجھے
افلاس میں ہے خلق خدا کی گڑی ہوئی
پھر بھی امیر شہر کو اپنی پڑی ہوئی
رعایا کے حصے کا تھا رزق جو بھی
وہ شاہوں کے منہ کا نوالا ہوا ہے
آپ نے دیکھا ہر شعر کسی ایسی حقیقت کا آئنہ دار ہے،جس سے ہم گذر رہے ہیں یا گذر چکے ہیں۔میں ،پیمان سے خالی شام کی اشاعت پر جناب اشرف جاوید کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ویل ڈن

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے