#کالم

ماں چلی جائے تو گھر نہیں، ایک پوری دنیا اجڑ جاتی ہے

abu baker saqiu

ابوبکر صدیق

ماں… یہ صرف ایک لفظ نہیں، محبت، شفقت، دعا، سایہ اور پوری کائنات کا نام ہے۔ انسان دنیا میں آنے سے پہلے جس محبت میں پرورش پاتا ہے، وہ ماں کی محبت ہے، اور دنیا سے جانے تک جس دعا کے سائے کی ضرورت رہتی ہے، وہ بھی ماں کی دعا ہوتی ہے۔آج جب میری والدہ محترمہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں تو دل جیسے کسی ایسے خلا میں اتر گیا ہے جہاں الفاظ بھی بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ آنکھیں بار بار دروازے کی طرف دیکھتی ہیں کہ شاید وہ آواز آئے گی، شاید ماں پکاریں گی، شاید وہی شفقت بھرا چہرہ نظر آ جائے گا… مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں اب اس دنیا میں نہیں۔ماں کی وفات کا دکھ عجیب ہوتا ہے۔ انسان لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوتا ہے، باتیں بھی کرتا ہے، مسکراتا بھی ہے، مگر دل کے اندر ایک خاموش ماتم جاری رہتا ہے۔ زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے، سورج طلوع ہوتا ہے، شام ڈھلتی ہے، لوگ اپنے معمولات میں مصروف رہتے ہیں، مگر جس شخص کی ماں دنیا سے چلی جائے، اس کے لیے وقت جیسے ایک لمحے پر رک جاتا ہے۔مجھے آج اپنی والدہ صاحبہ کی بے شمار باتیں یاد آ رہی ہیں۔ ان کی محبت، ان کی دعائیں، ان کی نصیحتیں، ان کی شفقت، ان کی فکر… وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن کی قدر شاید ہم ان کی زندگی میں اتنی محسوس نہیں کر پاتے، مگر ان کے جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں ان کی موجودگی کتنی بڑی نعمت تھی۔ماں کے ہاتھ کا کھانا صرف کھانا نہیں ہوتا، اس میں محبت شامل ہوتی ہے۔ ماں کی ڈانٹ صرف ڈانٹ نہیں ہوتی، اس میں فکر چھپی ہوتی ہے۔ ماں کی خاموشی بھی ایک دعا ہوتی ہے اور ماں کی مسکراہٹ اولاد کے لیے دنیا کی سب سے بڑی خوشی۔آج وہ سب کچھ یاد آ رہا ہے۔
کاش وقت واپس آ جائے…
کاش ایک بار پھر ماں کے پاس بیٹھ سکوں…
کاش ایک بار پھر ان کے ہاتھ چوم سکوں…
کاش ایک بار پھر ان کی آواز سن سکوں…
لیکن موت وہ حقیقت ہے جس کے سامنے انسان بے بس ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے:
ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
ہماری والدہ محترمہ بھی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئی ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں، صدقہ جاریہ کریں اور ان کی نیکیوں کو آگے بڑھائیں۔یا اللہ! میری والدہ صاحبہ کی کامل مغفرت فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، قبر کو جنت کا باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرما، ان کی تمام لغزشوں سے درگزر فرما، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما اور ہمیں صبرِ جمیل عطا فرما۔ماں کی قبر پر پھول رکھ دینے سے بڑھ کر اگر کوئی تحفہ ہے تو وہ اولاد کی دعا ہے۔آج میری والدہ صاحبہ میرے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی دعائیں، ان کی تربیت اور ان کی محبت میرے وجود کا حصہ ہیں۔ ماں جسمانی طور پر رخصت ہو سکتی ہے، مگر اولاد کے دل سے کبھی رخصت نہیں ہوتی۔وہ گھر جس میں ماں کی آواز گونجتی تھی، اب خاموش ہے۔وہ جگہ جہاں ماں بیٹھتی تھیں، اب خالی ہے۔مگر دل میں ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔ماں مر نہیں جاتی…ماں اولاد کی یادوں، دعاو¿ں اور کردار میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ میری پیاری والدہ محترمہ کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔

ماں چلی جائے تو گھر نہیں، ایک پوری دنیا اجڑ جاتی ہے

ہیمان سے خالی شام۔۔۔۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے