#کالم

"نکاح مشکل، فتنے آسان — ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟”

Untitledwwwee1 copy

ایم فاروق انجم بھٹہ

آج ہمارے معاشرے کا ایک ایسا المیہ ہے جس پر جتنی گفتگو کی جائے کم ہے۔ ہم اپنی بیٹیوں کے لیے اچھا، بااخلاق، ذمہ دار اور دین دار شوہر چاہتے تو ہیں، مگر جب ایسا رشتہ سامنے آتا ہے تو ہماری ترجیحات اچانک بدل جاتی ہیں۔ ہمیں دینداری کے ساتھ اچھی تنخواہ، بڑی گاڑی، شاندار گھر، اعلیٰ لباس، بیرونِ ملک سفر اور معاشرتی نمود و نمائش بھی چاہیے۔ یوں نکاح، جو اسلام میں آسان اور بابرکت عمل قرار دیا گیا، ہم نے اسے رسم و رواج، مطالبات اور مالی توقعات کے بوجھ تلے مشکل بنا دیا ہے۔یہ سوال آج ہر والدین کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ اگر ایک نوجوان نماز کا پابند ہے، قرآن سے تعلق رکھتا ہے، حلال روزی کمانے کی کوشش کرتا ہے، اخلاق اچھے ہیں، ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے اور اپنی زندگی سادگی سے گزارنا چاہتا ہے تو کیا صرف اس لیے وہ ہماری بیٹی کے قابل نہیں کہ اس کے پاس مہنگی گاڑی یا عالیشان گھر نہیں؟ایک ماں کی پریشانی کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ اس کا بیٹا تیس، بتیس یا پینتیس برس کا ہو چکا ہے۔ حافظِ قرآن ہے، عالم ہے، امامت کر لیتا ہے، بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے، تہجد کا اہتمام کرتا ہے اور حلال رزق کے لیے محنت کرتا ہے۔ کئی سال سے والدین اس کے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہیں، مگر اکثر جگہوں سے ایک ہی جواب آتا ہے: “معذرت، ہمیں کچھ اور چاہیے۔”دوسری طرف ایک بیٹی کے بارے میں جب رشتہ آتا ہے تو سوال ہوتا ہے: لڑکا کتنی تنخواہ لیتا ہے؟ گاڑی کون سی ہے؟ اپنا گھر ہے یا نہیں؟ ہمیں کتنے تحائف دے گا؟ شادی کتنی شاندار ہوگی؟ ہنی مون کہاں کروائے گا؟ اس کی سوشل لائف کیسی ہے؟یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ان سب کے درمیان دین، کردار، اخلاق، ذمہ داری اور امانت داری کہیں بہت پیچھے رہ جائیں تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی بیٹی کے مستقبل کا انتخاب کس بنیاد پر کر رہے ہیں۔سب سے زیادہ تکلیف دہ تضاد یہ ہے کہ بعض اوقات ہم کہتے ہیں: “ہمیں دین دار لڑکا چاہیے، مگر مولانا نہیں۔ نماز پڑھتا ہو، مگر بہت زیادہ مذہبی نہ ہو۔ شریف ہو، مگر مدرسے سے وابستہ نہ ہو۔ داڑھی ہو تو بہت زیادہ نمایاں نہ ہو۔” گویا ہمیں دین چاہیے، مگر دین دار انسان نہیں۔یہ رویہ صرف لڑکوں کے مستقبل کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔ جب ایک نیک، تعلیم یافتہ، محنتی اور بااخلاق نوجوان کو صرف کم آمدنی یا سادہ طرزِ زندگی کی وجہ سے بار بار مسترد کیا جاتا ہے تو اس کی شادی میں تاخیر ہوتی ہے۔ دوسری طرف اگر نوجوانوں کے لیے حلال راستہ مشکل بنا دیا جائے تو معاشرے میں فتنوں کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسلام نے اسی لیے نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دی ہے۔یاد رکھیے، نکاح جتنا مشکل ہوگا، معاشرتی مسائل اتنے ہی بڑھیں گے؛ اور نکاح جتنا آسان ہوگا، خاندانوں کے لیے استحکام کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر عالم یا دین دار شخص لازماً بہترین شوہر نہیں ہوتا، جیسے ہر زیادہ کمانے والا شخص لازماً برا شوہر نہیں ہوتا۔ اصل معیار انسان کا کردار، دیانت، ذمہ داری، مزاج، اخلاق، عورت کے حقوق کا شعور اور اللہ کا خوف ہونا چاہیے۔ دین داری کا مطلب صرف ظاہری حلیہ نہیں بلکہ معاملات میں سچائی، زبان میں نرمی، گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ذمہ داری نبھانے کا جذبہ بھی ہے۔اسی طرح نوجوانوں کو بھی صرف یہ شکایت نہیں کرنی چاہیے کہ معاشرہ ہمیں قبول نہیں کرتا۔ انہیں اپنی اصلاح بھی کرنی ہوگی۔ اگر آپ دین دار ہیں تو اپنے اخلاق کو بھی خوبصورت بنائیں۔ نرم گفتگو کریں، بڑوں کا احترام کریں، چھوٹوں سے محبت کریں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، حلال روزی کے لیے محنت کریں اور عورت کو زندگی کی شریک سمجھیں، ماتحت نہیں۔اور والدین کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے: بیٹی کی شادی کو اپنی سماجی حیثیت کا مظاہرہ نہ بنائیں۔ جہیز، نمود و نمائش، غیر ضروری رسومات اور لاکھوں روپے کے اخراجات نے کتنے ہی خاندانوں کو مالی دباو¿ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر لڑکا اور اس کے والدین سادگی سے نکاح کے لیے تیار ہیں تو یہ کمزوری نہیں، بلکہ قابلِ تحسین بات ہے۔اسلامی تاریخ ہمیں سادگی اور برکت کا خوبصورت تصور دیتی ہے۔ حضرت فاطمہ? اور حضرت علی? کی ازدواجی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ گھر میں دنیاوی آسائشیں محدود تھیں، مگر محبت، ایمان، قربانی اور اللہ کی رضا موجود تھی۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گھر کی خوشی صرف مال و دولت سے نہیں بنتی۔ہمیں اپنی بیٹیوں کو بھی یہ سمجھانا ہوگا کہ زندگی صرف سوشل میڈیا کی خوبصورت تصویروں کا نام نہیں۔ مہنگے ریسٹورنٹ، بیرونِ ملک سفر، برانڈڈ لباس اور ہزاروں لائکس زندگی کی ضمانت نہیں۔ اصل سکون اس گھر میں ہوتا ہے جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، جہاں عزت ہو، اعتماد ہو، وفا ہو اور اللہ کی یاد ہو۔اسی طرح یہ تصور بھی درست نہیں کہ صرف عالم یا دین دار ہونے کی وجہ سے انسان میں کوئی خامی نہیں ہو سکتی۔ رشتہ کرتے وقت مکمل تحقیق ضروری ہے۔ خاندان، کردار، روزگار، مزاج، تعلیم، عادات اور ذمہ داری کے بارے میں اطمینان کیا جائے۔ لیکن اگر تمام بنیادی معاملات درست ہوں تو صرف کم مالی حیثیت یا سادہ پیشے کی وجہ سے ایک اچھے رشتے کو مسترد کرنا دانش مندی نہیں۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی بیٹیوں کے لیے شوہر تلاش کر رہے ہیں یا معاشرے کو دکھانے کے لیے ایک “پیکیج”؟ہمیں بیٹی کے لیے ایسا شوہر چاہیے جو اسے عزت دے، مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے، اس کے حقوق پہچانے، حلال رزق کے لیے محنت کرے اور اللہ سے ڈرتا ہو۔ اگر ایسا نوجوان ہمارے سامنے موجود ہے تو صرف اس لیے اسے رد نہ کریں کہ اس کے پاس ابھی بڑی گاڑی یا محل نما گھر نہیں۔گاڑی کل آ سکتی ہے، گھر بھی وقت کے ساتھ بن سکتا ہے، آمدنی بھی بڑھ سکتی ہے؛ لیکن اچھا کردار، سچی محبت، دیانت اور ایمان ایسی دولتیں ہیں جن کی قیمت روپے سے نہیں لگائی جا سکتی۔علماء، والدین اور نوجوان سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ علمائ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کریں، نوجوان اپنے کردار کو بہتر بنائیں، والدین غیر ضروری مطالبات ختم کریں اور معاشرہ سادگی کو عزت دے۔آج اگر ہم نے نکاح کو آسان نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہماری غلطیوں کی قیمت ادا کریں گی۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں بیٹی کی عزت اس کے شوہر کی گاڑی سے نہ ہو، داماد کی قدر اس کی تنخواہ سے نہ ہو اور شادی کی کامیابی ہال کی سجاوٹ یا جہیز کی مقدار سے نہ ناپی جائے۔آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ “ہماری بیٹی کو کیسا شوہر ملے؟” اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹی کے لیے کن اقدار کو ترجیح دے رہے ہیں؟آئیے آج عہد کریں کہ نکاح کو آسان بنائیں گے، جہیز اور نمود و نمائش کی حوصلہ شکنی کریں گے، دین داری کے ساتھ اخلاق اور کردار کو ترجیح دیں گے، اور اپنی اولاد کے لیے ایسا شریکِ حیات تلاش کریں گے جو دنیا کے سفر میں بھی ساتھ دے اور آخرت کے سفر میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ ہماری بیٹیوں کے نصیب میں نیک، صالح، بااخلاق اور ذمہ دار شوہر عطا فرمائے، ہمارے نوجوانوں کو نیک اور باکردار شریکِ حیات عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے میں نکاح کو آسان، پاکیزہ اور بابرکت بنائے۔آمین ثم آمین۔

"نکاح مشکل، فتنے آسان — ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟”

ہیمان سے خالی شام۔۔۔۔

"نکاح مشکل، فتنے آسان — ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟”

25/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے