"ماں کی کوکھ سے ایک مقدمہ”
رانا طارق مسعود
میں ابھی پیدا ہوا ہوں۔۔۔۔۔میں نے ابھی آنکھیں بھی پوری نہیں کھولیں۔میرے ہاتھ میں نہ ووٹ ہے، نہ قلم، نہ اختیار۔پھر بھی…میرا نام پہلے ہی ایک قرض نامے میں کیوں لکھ دیا گیا ہے؟اے میری سرزمین کے حکمرانو!میں تم سے ایک نوزائیدہ بچے کی حیثیت سے نہیں، آنے والی نسلوں کے وکیل کی حیثیت سے سوال کرتا ہوں۔میرے پیدا ہونے سے پہلے میری آزادی کس نے گروی رکھی؟کس نے میری آنے والی کمائی پر دستخط کیے؟کس نے میری تعلیم، میری روزی، میری عزت اور میرے خوابوں کو بین الاقوامی قرضوں کی فائلوں میں قید کر دیا؟میں نے تو ابھی "امی” کہنا بھی نہیں سیکھا…مگر دنیا نے مجھے پہلے ہی "مقروض شہری” لکھ دیا۔میں نے تو ابھی ایک قدم بھی نہیں چلایا…مگر میرے کندھوں پر اربوں کے قرض کا بوجھ رکھ دیا گیا۔یہ کیسا انصاف ہے؟جو قرض میں نے لیا نہیں…جس معاہدے پر میں نے دستخط کیے نہیں…جس عیاشی میں میں شریک تھا نہیں…اس کی قسطیں میری نسل کیوں ادا کرے؟اگر قرض ہسپتال بنانے کے لیے تھا…اگر قرض اسکول آباد کرنے کے لیے تھا…اگر قرض قوم کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لیے تھا…تو پھر میری گلی میں اندھیرا کیوں ہے؟میرا اسکول خستہ حال کیوں ہے؟میرا باپ بے روزگار کیوں ہے؟اور میری ماں مہنگائی کے ہاتھوں بے بس کیوں ہے؟اے اقتدار کے ایوانو!تم نے قرض لیا…اقتدار بھی تم نے کیا…پروٹوکول بھی تم نے لیا…فیصلے بھی تم نے کیے…مگر حساب میری نسل کیوں دے؟یاد رکھو!کسی قوم کی سب سے بڑی غربت خزانے کا خالی ہونا نہیں، بلکہ اس کے بچوں کا مقروض پیدا ہونا ہے۔اور سب سے بڑی ناانصافی یہ نہیں کہ ایک انسان پر ظلم ہو…بلکہ یہ ہے کہ جو ابھی بول بھی نہیں سکتا، اس کے مستقبل پر بھی قرض کی مہر لگا دی جائے۔آج میں صرف ایک بچہ ہوں۔کل میں اس قوم کا نوجوان بنوں گا۔اور ا±س دن میرا سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ:”ملک پر کتنا قرض ہے؟”میرا سوال یہ ہوگا:”یہ قرض لینے والوں کا احتساب کہاں ہے؟”کیونکہ قومیں قرض سے نہیں مرتیں…قومیں ا±س دن مرنا شروع ہوتی ہیں، جب حکمران اپنے آج کو بچانے کے لیے بچوں کا کل گروی رکھ دیتے ہیں۔






