#کالم

میلاد محمد کیا ہے؟

Untitled 13456

امجد علی

شوق و نیاز و عجز کے سانچے میں ڈھل کے ا
یہ کوچہءحبیب ہے پلکوں سے چل کے ا
میلاد مصطفیٰ صرف ایک دن کی خوشی کا نام نہیں، یہ اس احسان عظیم کی خوشی ہے جس سے رب کائنات نے انسانیت کو نوازا۔ اللہ عزوجل نے اپنے محبوب، اپنے آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ کریم کو انسانوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔۔گویا اندھیروں سے بھری ہوئی کائنات کے دامن میں ہدایت کا چمکتا منور سورج اتار دیا۔یہ رب رحیم کی وہ نعمت خاص ہے جو بلاشبہ انمول ہے، وہ تحفہ بے مثل ہے جس کی قدر لفظوں کے پیمان میں نہیں سما سکتی۔ قرآن خود اس نعمت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی منانی چاہیے۔ اور اہل ایمان کے لیے اس سے بڑھ کر فضل و رحمت کیا ہوگی کہ رحمت للعالمین دنیا میں تشریف لے آئے۔ اللہ کے اس رواں دواں دائمی بحر رحمت دوعالم سے اپنے قلوب و چشم کے کٹوروں کو بھر میں فکر نظر کی وسعت افلاکی کے لیے اپنے رب کی اسی رحمت بیکنار کے سامنے دامن پھیلا دیں بھر میں اس در سے کبھی کوئی خالی نہیں پلٹا۔۔میلاد کیا ہے؟ میلاد، مصطفیٰ کی تعریف ہے، تذکرہ ہے، نعت ہے، محبت ہے، عقیدت ہے، اور دل کی وہ کیفیت ہے جس میں نام محمد آتے ہی روح پر بہار اتر آتی ہے اس گلشن میں غنچے اور کلیاں کھل جاتے ہیں مہک اٹھتے ہیں۔میلاد یہ ہے کہ زبان پر نام محمد آئے تو دل ادب سے جھک جائے۔۔۔آنکھوں میں محبت کی نمی اتر آئے۔۔روح پر مدینے کی خوشبو محسوس ہو۔۔اور لب بے اختیار درود و سلام سے مہک اٹھیں۔میلاد صرف چراغاں کا نام نہیں، انسانی وجود کے طاقچے میں موجود چراغ (دل) کو ذکر نبی سے روشن کرنے کا نام ہے۔میلاد صرف محفل سجانے کا نام نہیں، اپنے باطن میں محبت مصطفیٰ کی محفل سجانے کا نام ہے۔میلاد صرف آواز بلند کرنے کا نام نہیں، اپنے کردار کو اس ہستی کی تعلیمات کے سامنے جھکا دینے کا نام ہے۔ حضور کے راستے میں آپ کے نقش قدم پر چلتے اپنا سب کچھ (نفسانی خواہشات کی پوری دنیا) سرنڈر کرنے نام ہے۔ عقیدتوں اور وفاو¿ں کی اس تابندہ بستی میں خسارے تھوڑی ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے۔۔۔ذکر مصطفیٰ قرآن کے دامن میں بکھرے ہوئے ان موتیوں کی طرح ہے جنہیں پڑھتے ہوئے مومن کا دل بار بار اپنے محبوب کی طرف مطیع ہو کر متوجہ ہوتا ہے۔قرآن جہاں آپ کی شان بیان کرتا ہے،جہاں آپ کے اخلاق کی گواہی دیتا ہے،جہاں آپ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے،جہاں آپ پر اللہ اور فرشتوں کے مسلسل درود بھیجنے کا ذکر آتا ہے۔۔۔اور ہمیں بھی اسی کا حکم دیا ہےوہاں دل مومن کے لیے محبت کا ایک نیا دروازہ کھلتا ہے۔پس جس دل نے قرآن کی آیات میں اپنے محبوب خدا ? کا ذکر پڑھ کر ادب سے باطن میں اپنا سر جھکا دیا، محبت سے دل نے وضو کر لیا، اور خاموشی سے درود و سلام پیش کر دیا، وہ دل بھی میلاد کی دائمی سجی روشن محفل میں شریک ہے۔یاد محمد ہی میلاد محمد ہے۔جس لمحے دل نے کہا۔۔۔ یا رسول اللہ !وہ لمحہ بھی میلاد ہے۔جس لمحے آنکھ نے مدینے کا تصور کیا اور نم ہوگئی،وہ لمحہ بھی میلاد ہے۔جس لمحے زبان نے درود پڑھا اور دل نے کہا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،وہ لمحہ بھی میلاد ہے۔جس لمحے کسی نے آپ کی سیرت پاک کا سن کر اپنے کردار کی اصلاح کا ارادہ کیا،وہ لمحہ بھی میلاد ہے۔ جب کسی دل میں محبت مصطفیٰ ایسی اتر جائے کہ اس کی گفتگو میں ادب، اس کے اخلاق میں رحمت، اس کے معاملات میں دیانت، اور اس کی زندگی میں سنت کی خوشبو آنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ اس دل میں میلاد کا چراغ جل چکا ہے۔ اس امتی نے دل و جاں سے آقاء کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سردار مان لیا ہے اور اللہ عزوجل کے حکم کے عین مطابق اپنے ہر کام میں اپنے نبی کے فیصلے کو خوش دلی سے اپنا لیا ہے۔۔میلاد دراصل اس محبت کا اقرار ہے جو ذرے کو کل سے اگر ہو جائے۔ محبت جو صرف زبان پر نہیں، کردار میں بھی دکھائی دے۔میلاد اس صبح کی یاد ہے جب تاریخ انسانیت کا سب سے روشن باب کھلا۔۔اپ کریم آقاء عرش سے فرش پر تشریف ائے۔ زمین کے جس جس حصے کو آپ کے نعلین کے بوسے نصیب ہوئے وہی حصے ہیں جن پر جنت کو بھی رشک آتا ہے۔ وہ صبح جس نے عرب کے ریگزار سے ایسا آفتاب طلوع کیا جس کی روشنی قیامت تک دلوں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔وہ تشریف لائے تو دلوں کو زندگی ملی، انسانیت کو سمت ملی، اخلاق کو بلندی ملی، مظلوم کو آواز ملی، غلام کو عزت ملی، اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو رب تک پہنچنے کا راستہ ملا۔یہی تو وجہ ہے کہ محبت کرنے والا جب آپ کا ذکر سنتا ہے تو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں سنتا۔وہ رحمت کے نزول کی یاد سنتا ہے،وہ ہدایت کے طلوع کی یاد سنتا ہے،وہ محبوب خدا کی آمد کی خوشی محسوس کرتا ہے۔اے دل اگر تجھے میلاد کی حقیقت پوچھنی ہو تو اپنے اندر جھانک۔ پہلے نام محمد کی عظمت جان کو ہر جگہ اسم اللہ عزوجل کے ساتھ ہے حتی کہ عرش معلی پر بھی لکھا ہوا ہے۔ عرش الیہ پر ہر نبی سے انہیں کی معاونت کا عہد کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا ورق ورق انہیں کی نعت سے مزین ہے جو خالق کائنات نے خود اتاری ہے۔ لہذا۔۔۔جہاں نام محمد پر ادب ہے، وہاں میلاد ہے۔جہاں درود ہے، وہاں میلاد ہے۔جہاں سیرت ہے، وہاں میلاد ہے۔جہاں سنت سے محبت ہے، وہاں میلاد ہے۔جہاں اخلاق مصطفیٰ کو زندگی میں اتارنے کی کوشش ہے، وہاں میلاد ہے۔میلاد ایک تاریخ نہیں۔۔ ایک کیفیت ہے۔میلاد ایک محفل نہیں۔۔ ایک محبت ہے۔میلاد ایک رسم نہیں۔۔ ایک نسبت ہے۔میلاد دین (محبت) نہیں۔۔۔ ایمان کی تکمیل ہےمیلاد صرف زبان کا ذکر نہیں۔۔ دل کا سفر ہے۔درحقیقت میلاد نبی تو دل کی جنت زمیں سے پھوٹتا ٹھنڈے، میٹھے اور چاندی کی طرح بوند بوند چمکتے جھلملاتے شفاف پانیوں کا چشمہ عقیدت کا نام ہے جو اب زم زم کی طرح تسلسل سے بہتا بے مثل چشمہ ہے۔ ایام اوئل میں دین اسلام قبول کرنا، نبی محتشم کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنا بھی کامل و اصل میلاد تھا۔۔ یہی وہ صفت ہے جو تکمیل ایمان کرتی ہے مومن کے ظاہری اعمال اسی باطنی محبت، اور عشق سے مکمل ہوتے ہیں ورنہ عمل دھرے رہ جاتے ہیں۔ایک مومن کے ہر عمل کی منزل و منتہا محمد مصطفیٰ کی محبت، مصطفیٰ کی اطاعت، مصطفیٰ کی سیرت، اور مصطفیٰ کے وسیلے سے اپنے رب کی رضا کا حصول ہے۔بس اسی لیے دل کہتا ہے۔۔یاد محمد ہی میلاد محمد ہےذکر محمد ہی دل کی بہار ہے۔اور محبت محمد وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان اپنے رب کی طرف چلنا سیکھتا ہے۔ یعنی صراط مستقیم کا راستہ مل جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے خلق، گفتار، کردار اور ہر ادا میں محبت مصطفیٰ کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے