#کالم

ٹرمپ کی جنونیت

aurang zaib awan

اورنگزیب اعوان

امریکہ کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے. ایشیائی ممالک میں یہ تصور پایا جاتا ہے. کہ امریکہ ہم سے ترقی میں سو سال آگے ہے. امریکی قوم خوشحال زندگی گزارتی ہے. دنیا اس کی ترقی پر رشک کرتی ہے. اس کے باوجود امریکی حکمران ہمیشہ دنیا میں انسانیت کے قتل عام میں ملوث رہے ہیں. موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سلسلہ میں سابقہ صدور سے برتری رکھتے ہیں. انہوں نے اپنے دونوں دور اقتدار میں انسانیت کا جس قدر ناحق خون بہایا ہے. اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی. خود کو طاقتور ثابت کرنے کے لیے کسی کا خون بہانا ضروری نہیں. آپ کا حسن سلوک بھی کسی کے دل کو فتح کر سکتا ہے. آپ کی ترقی پر دنیا حیران و پریشان ہے. آپ کے پاس تمام وسائل ہیں. جو ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہونے چاہیے. پھر آپ دنیا میں جنگ و جدل کا ماحول کیوں بنائے رکھتے ہیں. کیا آپ کرائے کے قاتل بن کر کسی کی منشائ کی تکمیل کر رہے ہیں. جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں. جنگ میں دونوں فریقین کا نقصان ہوتا ہے. ایک فریق کا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے. تو دوسرے کے معاشی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے. اپنی وقتی کامیابی پر جشن منانے والے بھی معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں. امریکہ اس وقت شدید ترین مالی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے. وہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے اس سے کبھی جنگ تو کبھی اس پر معاشی پابندیاں عائد کرتا ہے. اس کو ایران سے خطرہ کیا ہے. یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے. اگر وقتی طور پر یہ بات مان بھی لی جائے. کہ ایران اٹیمی طاقت حاصل کر لیتا ہے. تو کیا ہو گا. دنیا میں پہلے بھی سات اٹیمی طاقتیں موجود ہیں. انہوں نے امریکہ کا کیا نقصان کر دیا ہے. اٹیمی طاقت حاصل کرنا کوئی بری بات نہیں. ہر قوم کو حق حاصل ہے. کہ وہ دفاعی لحاظ سے خود کو مضبوط کرے. اگر ایران بھی ایسا کر رہا ہے. تو اس میں اچنبھے کی بات کیا ہے. پاکستان بھی اٹیمی طاقت ہے. اس نے یہ طاقت کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے حاصل نہیں کی. بلکہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے اٹیمی طاقت حاصل کی ہے. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنونیت کی کیفیت سے باہر نکل کر سوچنا ہوگا. کہ ان کے ملک و قوم کے لیے کیا بہتر ہے. کیا ہر وقت جنگی صورتحال میں مبتلا رہنا اس کے ملک و قوم کے لیے بہتر ہے. یا امن بھائی چارگی کی فضا میں بہتری ہے. دنیا امریکہ کی ترقی کی وجہ سے اس کی عزت کرتی ہے. نہ کہ خوف کی وجہ سے. جس دن امریکی حکمران اس بات کو سمجھ جائے گے. دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی. اپنی طاقت اور خوف سے کوئی کسی سے وقتی عزت تو حاصل کر سکتا ہے. مگر دیرپا نہیں. دنیا میں جس جس حکمران نے بھی جنونیت کا مظاہرہ کیا ہے. اس کے ملک و قوم کو نقصان ہی پہنچا ہے. امن و اشنی کا درس دینے والے ممالک کی عوام ہمیشہ سکون کی نیند سوتی ہے. جبکہ اس کے مقابلہ میں جنگ کا ماحول پیدا کرنے والے ممالک کی عوام ہمیشہ بے سکونی کا شکار رہتی ہے. کسی کے گھر کو آگ لگا کر انسان خود بھی چین سے نہیں سو سکتا. جلتے گھر سے اڑنے والی راکھ اس کے آشیانہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے. دنیا میں مقابلہ بازی ہونی چاہیے. ہتھیاروں سے نہیں. بلکہ ٹیکنالوجی ،علم ، معاشی و معاشرتی تجارت ،فنون لطیفہ کے میدان میں ایک دوسرے کو مات دینے کا مقابلہ ہونا چاہیے. ماضی میں بھی کئی حکمرانوں نے اپنی جنونیت کی وجہ سے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے. آج ان حکمرانوں کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا. بلکہ قاتل ،پاگل، جنونی کے القابات سے پکارا جاتا ہے. ڈونلڈ ٹرمپ ایک ترقی یافتہ ملک اور پڑھی لکھی قوم کا حکمران ہے. پھر یہ کس راستہ پر گامزن ہو گیا ہے. جس کا انجام سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں. ایرانی عوام کسی کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں. بلکہ اپنی سلامتی کا دفاع کرنا ہے. اگر اتنی سے بات کو امریکہ سمجھ جائے. تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی. ہر وقت خود کو اور اپنی قوم کو جنگی ماحول میں مبتلا کیے رکھنا کسی صورت عقل مندی نہیں. خدارا ہوش کے ناخن لیں. خود کو اور دنیا کو سکون و چین سے جینے دیں.

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے