#کالم

حقوق العباد سے فلاحی ریاست تک

safdar ali khan 1

صفدر علی خاں

دنیا کی جدید ریاستوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت بڑی نمایاں نظر آتی ہے کہ جن معاشروں نے انسانی حقوق ، قانون کی حکمرانی ، سماجی انصاف اور شہریوں کی فلاح کو اپنی ریاستی ترجیحات میں شامل کیا ، وہ نسبتاً زیادہ منظم ، پ±رامن اور خوشحال معاشرے بن گئے۔ وہاں ریاست اپنے شہریوں کو صرف سڑکیں ، عمارتیں اور ادارے ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ ان کے جان و مال ، عزت ، آزادی ، صحت ، تعلیم اور بنیادی ضروریات کے تحفظ کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ یہی تصور آج ”فلاحی ریاست“ کے نام سے دنیا میں ایک قابلِ قبول اصول بن چکا ہے۔مگر یہاں ایک سوال ہمارے سامنے پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اس معاملے میں دنیا کے لیے سب سے بڑی مثال کیوں نہ بنے؟۔۔۔ کیونکہ اسلام کوئی ایسا مذہب نہیں جو صرف عبادات تک محدود ہو۔ اسلام انسان اور انسان کے تعلق ، فرد اور معاشرے کے رشتے ، حکمران اور عوام کی ذمہ داری ، کمزور اور طاقتور کے حقوق ، دولت مند اور غریب کے درمیان انصاف اور ریاست کے فرائض کے بارے میں واضح رہنمائی دیتا ہے۔ اسلام نے حقوق العباد کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ نماز ، روزہ اور دیگر عبادات اپنی جگہ ، لیکن کسی انسان کا حق مارنا ، ظلم کرنا ، دھوکا دینا ، خیانت کرنا ، کسی کی عزت پامال کرنا یا کمزور کا استحصال کرنا اسلام کی روح کے منافی ہے اور اسلام ان عوامل کی سخت مخالفت و ناپسندکرتا ہے۔قرآن مجید کا بنیادی پیغام ہی عدل و احسان کے گرد گھومتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بے شک اللہ عدل ، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔“ لہذا یہ محض ایک مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی اصول ہے۔ عدل ریاست کا ستون ہے اور احسان معاشرے کی روح۔
رسول اکرم نے مدینہ میں جو معاشرہ تشکیل دیا، اس کی بنیاد محض مذہبی شناخت پر نہیں بلکہ عدل ، ذمہ داری ، بھائی چارے ، انسانی وقار اور باہمی حقوق پر تھی۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات ہو یا یتیموں ، مسکینوں ، بیواو¿ں اور ضرورت مندوں کی کفالت ، پڑوسی کے حقوق ہوں یا مزدور کے حقوق ، حکمران کی جواب دہی ہو یا کمزور کے لیے انصاف۔۔۔اسلام نے معاشرے کے ہر طبقے کو ذمہ داری کا احساس دیا ہے۔اسلامی فلاحی معاشرے کا تصور دراصل یہ ہے کہ کوئی شخص صرف اس لیے بے سہارا نہ رہ جائے کہ وہ غریب ہے ، کمزور ہے یا اقتدار کے ایوانوں تک اس کی رسائی نہیں۔ زکوٰةکا نظام اسی اجتماعی ذمہ داری کی علامت ہے لہذا صدقات ، خیرات ، وقف ، وراثت اور معاشی انصاف کے اصول اسی مقصد کو تقویت دیتے ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں گردش کرتی نہ رہ جائے بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات بھی عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ فلاحی معاشرہ صرف غریب کو راشن دینے کا نام نہیں۔ اصل فلاح یہ ہے کہ انسان کو انصاف ملے ، اس کی عزت محفوظ ہو ، اس کے بچوں کو تعلیم ملے ، بیمار کو علاج میسر ہو ، محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا حق ملے اور کسی طاقتور کو کمزور کا حق چھیننے کی اجازت نہ ہو۔
ہم مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں ، لیکن کیا ہم قانون کی پابندی کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں؟۔۔۔ہم حقوق العباد کی بات کرتے ہیں ، مگر کیا ہم قطار میں کھڑے ہونے ، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنے ، سرکاری املاک کی حفاظت کرنے ، ٹیکس ادا کرنے ، ملاوٹ سے بچنے ، ناپ تول میں دیانت رکھنے اور اپنے ماتحت کارکن کو اس کی پوری اجرت دینے کو بھی عبادت سمجھتے ہیں؟۔۔۔اگر ہم کسی غریب کا حق کھا کر مسجد میں نوافل ادا کریں تو یہ ہمارے کردار کا تضاد ہے۔ اگر ہم رشوت دے کر اپنا کام نکلوا لیں اور پھر مذہبی اقدار کی بات کریں تو یہ بھی ایک اجتماعی منافقت ہے۔ اگر ہم سڑک پر قانون توڑیں ، بجلی یا پانی چوری کریں ، سرکاری وسائل کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں اور پھر اسلامی معاشرے کا دعویٰ کریں تو ہمیں اپنے دعوے اور عمل کے درمیان فاصلے کو دیکھنا ہوگا کیونکہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلامی معاشرہ صرف شکل ، لباس ، عبادت گاہوں اور مذہبی نعروں سے نہیں بنتا بلکہ اسلامی معاشرہ کردار سے تشکیل پاتا ہے۔
ایک اسلامی ریاست کی اصل خوبصورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا شہری یہ یقین رکھے کہ اگر اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو قانون اس کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ جب غریب اور امیر کے لیے عدالت کا دروازہ یکساں ہو گا۔ جب حکمران خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے اور جب سرکاری افسر عوام کو اپنا محکوم نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھے۔ جب پولیس طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے شہری کے تحفظ کی علامت بنے۔ جب استاد تعلیم کو کاروبار نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھے اور ڈاکٹر مریض کو صرف ایک گاہک نہ سمجھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور جدید فلاحی ریاست کے بہت سے اصول ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام نے ان اقدار کو صدیوں پہلے ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا تھا لیکن شائد ہم اسے بھول گئے ہیں۔ ہمیں مغرب سے انسانی حقوق کا تصور مستعار لینے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے دین کی تعلیمات کو اپنے اجتماعی کردار میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا نے اگر قانون کی حکمرانی ، سماجی تحفظ اور شہری حقوق کے کچھ اصول اختیار کرکے ترقی کی ہے تو ہمارے لیے اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں ، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے دینی اصولوں کے باوجود ان میدانوں میں پیچھے کیوں ہیں؟۔۔۔ اسلامی ریاست کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست صرف مذہبی قوانین کے نفاذ کا دعویٰ کرے بلکہ اسلامی ریاست کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ اس کے شہری کو انصاف کتنا ملتا ہے ، غریب کی عزت کتنی محفوظ ہے ، یتیم اور بیوہ کتنے محفوظ ہیں ، مزدور کو اس کا حق کتنی دیانت سے ملتا ہے ، حکمران کتنا جواب دہ ہے اور قانون طاقتور و کمزور کے لیے کتنا یکساں ہے۔لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک ایسی ریاست کی ضرورت ہے جہاں قانون خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس سے مانا جائے۔ جہاں شہری یہ سمجھیں کہ ٹریفک قانون کی پابندی بھی اجتماعی حق کی حفاظت ہے ، ٹیکس دینا بھی قومی ذمہ داری ہے ، سرکاری املاک کی حفاظت بھی امانت ہے ، کسی کی عزت بچانا بھی حقوق العباد ہے اور کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھانا بھی دینی فریضہ ہے۔ آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اسلام کو صرف اپنی انفرادی عبادات تک محدود رکھیں گے یا اس کی اجتماعی روح کو بھی اپنی ریاست ، سیاست ، معیشت ، عدالت ، تعلیم اور روزمرہ زندگی میں جگہ دیں گے۔ اسلامی معاشرے کو دنیا کا سب سے زیادہ فلاحی ، قانون پسند ، بااخلاق اور انسان دوست معاشرہ ہونا چاہیے۔کیونکہ اس کے پاس ان اصولوں کی صرف سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک واضح اخلاقی اور دینی بنیاد بھی موجود ہے۔اصل مسئلہ اسلام کی تعلیمات میں نہیں ، ہماری ترجیحات اور ہمارے کردار میں ہے۔جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ دوسرے انسان کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے ، قانون کی پابندی بھی دیانت ہے ، کمزور کی مدد بھی دین ہے ، ریاستی امانت کی حفاظت بھی فرض ہے اور انصاف صرف عدالت کا نہیں بلکہ ہر فرد کا اخلاقی فریضہ ہے ، اس دن اسلامی معاشرہ محض ایک نعرہ نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے سامنے ایک زندہ مثال بن کر کھڑا ہوگا اور شاید یہی وہ مقام ہو جہاں دنیا ہم سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ اسلام کیا سکھاتا ہے؟۔۔۔ خود یہ کہنے پر مجبور ہو کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا معاشرہ ایسا ہوتا ہے۔

حقوق العباد سے فلاحی ریاست تک

غلط فہمی کہ خوش فہمی

حقوق العباد سے فلاحی ریاست تک

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے