#کالم

غلط فہمی کہ خوش فہمی

Untitled 14

ناصر نقوی

مایوسی اسی لیے گناہ قرار پائی کہ سب کچھ زمین پر بسنے والوں کے بس میں نہیں، کوئی تو ہے جو نظام زندگی چلا رہا ہے پھر بھی ہمیں یاد نہیں رہتا کہ جو دروازے زمین والوں کی تدبیروں سے بند ہوتے ہیں ان سے بڑے دروازے آ سمان والے کے فضل سے کھل جاتے ہیں ،وہ دیکھ رہا ہے، ایسا کچھ نہیں جو اس سے پوشیدہ ہو اور ایسا بھی کچھ نہیں جو اس کے اختیار سے باہر ہو ،نیت کی درستگی مثبت سوچ اور انداز بدل لیں، سب تبدیل ہو جائے گا لیکن اس کے لیے صدق دل اور پرعزم ہونا انتہائی ضروری ہے جبکہ ہماری عادات و اطوار بالکل مختلف ہیں ہم جنازہ دیکھ کر مردے کو کندھا دینا افضل سمجھتے ہیں اگر ہم اسی طرح زندوں کو سہارا دینا افضل سمجھ لیں تو یقینا زندگی آ سان ہو جائے گی لیکن کیا ہو سکتا ہے غم زندگی سے نجات ملے تو کسی دوسرے کی زندگی کی فکر کریں کچھ نہ کرنے کے ہزاروں بہانے، پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ زندگی امتحان لیتی ہے قدم قدم پر اور ہم اپنی عقل و دانش سے اسے ہر بار چکمہ دے کر آ گے پاس کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ہم جانتے ہیں کہ سدا بادشاہت مالک کائنات کی لیکن پھر بھی فکر مند اپنی اپنی چھوٹی بڑی بادشاہت کی کرتے ہیں اگر بندہ صرف بندہ،، ہی بن جائے تو بھی مسائل حل ہو سکتے ہیں مکمل نہ بھی سہی کمی کی تو گارنٹی ہے لیکن آ دم زادہ تو اسی اکڑ میں ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے یہ زمین و آسمان اس کے لیے بنائے گئے نسخہ کیمیا قر آ ن مجید میں مالک خود کہہ رہا ہے کہ اسے تسخیر کرو، پہنچو جہاں تک پہنچ سکتے ہو، دراصل آ دم زادے خوش فہمی میں باقی تمام تر حدود بھول گئے اور غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ جو کچھ ہے سب ہمارے لیے منصب و مقام ملا تو سب چور اچکے، لٹیرے نظر آ نے لگے، مال و دولت مقدر بنا تو سب ان سے کمتر ہو گئے، کسی کو یہ بات یاد نہیں رہتی کہ وقت ایک سا نہیں رہتا آ پ بدلیں یا نہ بدلیں وقت بدل جاتا ہے حالانکہ صرف سیاست کے رنگ ہی پرکھ لیں تو یہ واضح نظر آ جائے گا کہ ماضی کے حکمران کتنی مرتبہ پابند سلاسل رہے اور پھر حالات نے کروٹ لی اور اقتدار نصیب بنا، اس وقت بھی ایک سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل کا مہمان ہے کیا کسی نے ماضی سے کچھ سیکھا؟ تو میرا خیال ہے کہ ہم نے تو دشمن کی سازش سے ملک کو دو لخت ہوتے دیکھا بھائی سے بھائی جدا ہو گیا لیکن نہ دشمن کو سبق سکھا سکے اور نہ ہی خود سیکھنے کی کوشش کی، وجہ صرف یہ ہے کہ غلط فہمی اور خوش فہمی میں فرق بہت معمولی سا ہے اور آ دم زادے ذرا سی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا لے کر تازہ دم ہو جاتے ہیں حالات و واقعات کا جائزہ لے کر حکمت عملی بنانے کی بجائے پہلا نعرہ لگاتے ہیں موسم بدلا، رت بدلی، حالات تیزی سے بدلیں گے، حکمرانوں کی آ رام گاہ اور ٹھکانہ جیل ہو گی اور انہیں لگ پتہ جائے گا ،بانی تحریک انصاف کے کھلاڑی کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں اس لیے کہ انہیں سیاست سے سروکار ہرگز نہیں، انہیں بانی سے پیار ہے اور پیار اندھا ہوتا ہے انہیں یہ سبق یاد ہے کہ ان کا لیڈر حقیقی مسیحا ہے اور وہ ملک و ملت کو درپیش مسائل و مشکلات سے نجات دلائے گا کیونکہ وہی سچا اور کھرا عوامی لیڈر ہے اس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکمرانوں نے گٹھ جوڑ کر کے ہاتھ کر دیا لیکن وہ تین سال سے زیادہ جیل کاٹ کر دلیری اور بہادری سے اب بھی چیلنج بنا ہوا ہے اسی لیے اس کے ساتھ تاریخ کا بدترین ظلم و ستم رواں ہے پھر بھی وہ ڈٹ کر کھڑا ہے اس لیے کہ عوامی مینڈیٹ اس کے ساتھ ہے 2018 میں بھی اس نے بڑے بڑے سیاسی برج الٹا دیے تھے اور الیکشن 2024 میں بھی وہ سب پر بھاری رہا لیکن اسے سازش کے تحت اقتدار سے روک دیا گیا بانی کا فرمان تھا کہ جیل میں چور اور کرپٹ لوگوں کو رکھا جاتا ہے اور وہاں اے سی او رٹی وی جیسی سہولیات کی کیا ضرورت ہے ، مرضی کا کھانا ڈاکوو¿ں کا حق نہیں،، اسی طرح فرمایا کرتے تھے کہ قوم کے مجرموں کو جیل میں ڈالو تو فورا بیمار ہو جاتے ہیں،، یہ ارشادات ایسی خوش فہمی میں کیے گئے جیسے وقت کی لگامیں،، ان کے ہاتھ میں ہوں لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ سب غلط فہمی تھی تمام تر سہولیات حاصل کرنے کے بعد بھی الشفاء انٹرنیشنل،، میں علاج کاھنگامی مطالبہ علیمہ خان نے کیا اور آ خر کار سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ہسپتال منتقل کرانے کا فیصلہ بھی دے دیا اور نتیجہ جو نکلا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، ڈاکٹر عظمی کہتی ہیں بقول عمران آ نکھ بہتر ہے اور صحت قابل رشک، کھلاڑی خوش ہو گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی پذ یرائی کی اور دعوی کیا کہ ابھی پہلی بات مانی گئی ہے ہمیں عدالتوں ہی سے انصاف ملے گا اندرون ملک بلکہ بیرون ملک کے کھلاڑیوں نے بھی یکطرفہ فتح اور کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے مٹھائی کے آ رڈر دے دیئے لیکن حسب سابق کسی نے فیصلہ آ نے اور اسے بغور پڑھنے کی زحمت نہیں کی، کھلاڑیوں کی خوشیوں نے یہ تاثر مضبوط کر دیا کہ ڈھیل اور ڈیل کا وقت آ گیا ہے تاہم دعوی یہ کیا گیا کہ نظام چل نہیں رہا، اتحادیوں میں وزیر داخلہ نے شرلی چھوڑ کر سب کچھ بے نقاب کر دیا اس لیے حکومتی ذمہ داروں کو مجبورا بانی کے لیے سہولت کا راستہ نکالنا پڑا ہے، چیئرمین گوہر خان کا دعوی تھا کہ عدالتی فیصلے پر عمل ہونے دیں، کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو رہی، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کہتے تھے کہ اگر بانی جیل سے ہسپتال منتقل نہ کیے گئے تو توہین عدالت ہوگی وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ عدالتی حکم اختیار سے تجاوز ہے، چیف کمشنر اسلام آ باد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے متعلقہ جیل قوانین کو مدنظر نہیں رکھا اور نہ ہی منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے کیے لہذا ایسے ریلیف سے مساوی سلوک کے آ ئینی اصول متاثر ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کہتے ہیں معاملہ قانونی ہے سیاست نہیں ہونی چاہیے، بانی کو پہلے بھی طبی سہولیات میسر ہیں اور آ ئندہ بھی اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تین رکنی بیج کے فیصلے میں باقاعدہ میڈیکل بورڈ بنانے، خان کی بہن اور معالج کو شامل کرنے کا بھی کہا گیا ہے لیکن کئی اگر مگر شامل ہے جس کا مطلب تھا بورڈ کےفصیلے پر واپس جیل بھی بھیجا جا سکتا ھے جو بدقسمتی سے ملک کے نامور اور ممتاز وکلائ کی ٹیم اور عظیم قانون دان گوہر خان ، سلمان اکرم راجہ کو نظر نہیں آ ئے لیکن اس صورتحال میں بزرگ اور ضعیف سکہ بند سیاستدان باغی جاوید ہاشمی کو بیماری کی حالت میں بھی سب کچھ دکھائی دے گیا انہوں نے برملا کہہ دیا عدالتی فیصلے پر جشن منانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر دستا ویزات بانی نے دیکھ لیں تو وہ خود واپس جیل جانے کا فیصلہ کر لیں گے اس لیے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی لمحے کوئی مشروط فیصلہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، اب فیصلہ کریں کہ ان حالات میں میڈیکل بورڈ بانی کے لیے بننا ضروری ہے کہ تحریک انصاف کے ماہرین قانون کی آ نکھوں اور ذہانت کی ٹیسٹ کے لیے بھی اپنے پرائے ڈاکٹرز پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا جائے؟ مفاہمتی اور مصالتی لیڈروں کا خیال ہے کہ انہیں مذاکرات، بات چیت اور ڈائیلاگ کے نام پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے جبکہ معاملات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ ہر مرتبہ قائدین، ہمشیرگان اور ماہرین غلط فہمی کا شکار ہو کر خوش فہمی میں نہ صرف خود مبتلا ہوجاتے ہیں بلکہ اس کی غلط تشہیر سے بانی فین کلب،، کی خواتین و حضرات کوایک نئی ٹرک کی بتی خود ہی دکھا دیتے ہیں، صدر زرداری 11 سال قید میں رہے نواز شریف، شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور تو اور مریم نواز کو بھی جیل بھیجا گیا لیکن وقت نے کروٹ لی اور منظر بدل گیا فی الحال سیاسی موسمی حالات بدلتے محسوس نہیں ہو رہے حالانکہ سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے 80 سالہ صدر تحریک انصاف پرویز الہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے آ ج آ زادفضا میں گھوم رہے ہیں مونس الہی تمام تر مقدمات اور الزامات کے باوجود بیرون ملک مزے میں ہیں لیکن ایسا جب ہی ممکن ہوا جب کوئی ضد اور انا سے نہیں، سیاسی انداز میں بات کرنے پر رضامند ہوا، علاج معالجہ بانی ہی نہیں ہر قیدی کا حق ہے وہ اپنے دور میں جو جو کچھ چھیننے کی بات کرتے تھے اس سے زیادہ مراعات حاصل ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جائز ناجائز وہ مملکت اور قانون کے سزا یافتہ قیدی ہیں اور ان پر سانحہ نو9.مئی کی منصوبہ بندی پر بھی فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور بھی بہت سے فیصلے ابھی ہونے باقی ہیں کیونکہ مائی باپ،، فیض حمید سزا پا چکے ہیں پھر یہ سوچنا کہ اچانک بغاوت کی سلیٹ صاف ہو جائے گی،غلط فہمی ھے کیونکہ حالات چغلی کھا رہے ہیں کہ ابھی کچھ نہیں ہوگا جو کچھ اچانک نظر آ نے پر مٹھائیاں، جشن اور بیانیہ دکھائی دیتا ھے وہ محض خوش فہمی اور سراب ہے حقیقت نہیں ساڑھے تین سالوں میں مینڈیٹ اور مقبولیت کا بھوت بھی نکل جانا چاہیے صرف سب خوش فہم لوگوں کی عینک کے نمبر بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غلط فہمی اور خوش فہمی کا حقیقی جائزہ لے سکیں۔

غلط فہمی کہ خوش فہمی

22/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے