پیپلزپارٹی کا مقامِ اعراف ؟
نعیم مسعود
خیال نہیں تھا کہ بات اتنی دور تک نکل جائے گی اور پیپلزپارٹی و مسلم لیگ نواز کی "باہمی ضرورت” کو نِگل جائے گی۔ اور دونوں ایسے دو راہے پر آ کھڑے ہوں گے جہاں سے آگے چل کر جانے کیلئے جمہوری کندھوں کے بجائے بیساکھیاں ہی رہ جائیں گی۔ بیساکھیوں سے دو چار قدم کی مسافت کا عمل تو ہو سکتا ہے تاہم دن بھر چلنے اور رات بھر آگے بڑھنے یا منزل پانے کی امید ٹوٹنا فطری بات ہے۔ کیا 14 مئی 2006 کا لندن میں باندھا گیا رختِ سفر دلِ ناداں کیلئے پاو¿ں بھاری کرنے لگا ہے؟مسئلہ دراصل ہے کیا ؟ کیوں میثاقِ جمہوریت کا پوری تیاری سے یاد کیا گیا سبق سب بھولنے لگے ہیں؟ کیا آزاد جموں کشمیر میں میاں نواز شریف کے ماسٹر اسٹروک سے جیتا ہوا الیکشن 2026 پیپلزپارٹی کی طبع نازک پر اس قدر ناگوار گزرا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے ملاقاتیں کرنے اور راہ و رسم کا مصمم ارادہ کر لیا ہے؟ کیا واقعی پیپلزپارٹی خوش فہمی کے اس گھوڑے پر سوار ہوگئی تھی کہ جس کی چاپ گلگت بلتستان کے بعد آزاد جموں کشمیر کا الیکشن جتوانے کا عندیہ دینے لگی ؟یہ تمام سوالات بڑے سادہ ہیں، اور جوابات اس سے بھی سادہ: مسئلہ دراصل یہ ہے کہ امیر مقام اور رانا ثناءاللہ دو اہم نون لیگی کردار ہیں۔ یہ امیر مقام وہ صاحب اور وزیر ہیں جن کا تجربہ اور دوستانہ پرویز مشرف اور قاف لیگ سے بھی بڑا "معتبر” تھا، اور اقتدار کی بالکونیوں میں ٹہلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ رانا ثنااللہ کی ابتدائی سیاست کا آنگن پیپلزپارٹی تھا وہ سیاست میں مزاحمت کے سکہ بند استعارہ ہیں۔ پیپلزپارٹی میں صوبائی سیاست تک محدود تھے، اور جب نون لیگ میں آئے انہوں نے شہباز شریف کے زیر سایہ صوبائی سیاست ہی کا بیڑا اٹھایا اور کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔ 2018 میں ممبر قومی اسمبلی لیکن جونہی بانی تحریک انصاف کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو آصف علی زرداری انہیں وزیر داخلہ بنانے میں نون لیگ سے بھی زیادہ جلدی میں نکلے۔ اور بعد میں ان کی ناقص کارکردگی پر پچھتائے بھی۔ 2024 کا الیکشن یہ ڈاکٹر نثار جٹ سے ہار گئے اور اب مزید "ترقی” کر کے وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر ہیں، امیر مقام امور کشمیر کے وزیر ہیں۔ قبل از آزاد کشمیر الیکشن امیر مقام نے خوب تانے بانے ب±نے کہ پیپلزپارٹی شکست سے دوچار ہوئی بعد از الیکشن رانا ثنااللہ کی مہربانیوں سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز میں تلخی بڑھی۔ ویسے تو آزاد کشمیر میں شکست کھانے کا پیپلزپارٹی کو خود شوق بھی تھا کہ جب پیپلزپارٹی کو وزارت عظمٰی ملی چوہدری یاسین اور چوہدری لطیف اکبر میں ٹھن گئی۔ اور لاٹری فیصل راٹھور کی نکل آئی۔ بہرحال اس وقت وزارت عظمٰی لینے کے بجائے الیکشن میں جانا چاہئے تھا کیونکہ تین وزرائے اعظم عبدالقیوم نیازی، سردارتنویرالیاس اور انوارالحق تھوڑی تھوڑی مدت میں فارغ ہوتے رہے کہ اس قدر سیاسی پیچیدگیاں تھیں۔ اوپر سے اپوزیشن کا وجود ہی ختم ہونے پر غیر سیاسی و غیر جمہوری ماحول بن گیا اور اس سائیڈ ایفیکٹ سے عوامی اپوزیشن کے طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا وجود پنپا۔ پھر پیپلز پارٹی نے فیصل راٹھور کے مقامی معاہدے کو نظرانداز کیا جو خواجہ طارق سعید سابق ممبر کشمیر کونسل سے ہوا۔ خواتین اسپیشل سیٹ ٹکٹ پر بھی تنازع کھڑا ہو گیا۔ پھر فیصل راٹھور کی جیت بھی متنازع قرار پائی۔ گویا پیپلزپارٹی نے بنیادی طور پر گلگت بلتستان اور کشمیر کے سیاسی فلسفے کے فرق کو جانتے ہوئے بھی نظرانداز کیا کہ دونوں کی تاریخ اور اٹھان میں فرق ہے۔ جی بی صوبائی مضبوطی، آئینی حیثیت اور اسلام آباد میں شراکت چاہتا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اپنے جھنڈے ، اپنے ایوانِ وزیراعظم اور ایوانِ صدر کی علمبرداری کا خواہاں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نتائج کا منتظر ہے۔ پھر یہ بھی کہاں کی دانشمندی تھی پیپلزپارٹی کو شکست والے حلقوں میں دھاندلی نظر آئی اور وزیراعظم فیصل راٹھور کی دھونس دھاندلی میں پوترتا نظر آئی۔ یہاں ہی تو امیر مقام کی فتح ہوئی جو انہوں نے راٹھور صاحب کیلئے فتح کی بنیاد کھلی رکھی ! بہرحال کشمیر میں امیر مقام کی سیاست نے سہ جہتی فتح دی لیکن رانا ثنا اللہ نے بلا ضرورت رنجشوں کو تقویت بخشی اور میثاق جمہوریت کا قلع قمع ہوتا نظر آنے میں جہاں اور بھی عوامل ہیں وہاں رانا صاحب بھی ایک عمل ہیں۔ رانا ثنااللہ کا لیول ہنوز میثاق جمہوریت والا یے نہ مرکزی سیاست والا۔ وہ کچھ غصے میں کہہ جاتے ہیں پھر اس پر مٹی ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں مگر وہ سب نون لیگ کو بہرحال ان دنوں سوٹ کر رہا ہے۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری بلاشبہ ایک زیرک ، مقبول اور ایک مستقبل رکھنے والے لیڈر ہیں مگر ایوان صدر اور سینٹ چیرمین شپ نزاکتوں کو ادراک بھی ضروری ہے۔ پھر کشمیر اور پنجاب میں ایک گہرا سیاسی و انتظامی اور جغرافیائی و نفسیاتی تعلق بھی ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ پنجاب پیپلزپارٹی کو نئے لوگ اور نئی قیادت میسر آئے کہ پنجاب پیپلزپارٹی سو فیصد ناکام ہے، آخر پی پی پی کب تک مقتدر فوبیا اور مقتدرانہ داستانوں کے پیچھے چھپے گی؟ گورنر ہاو¿س نے بھی مدد کی انتہا کردی مگر۔۔۔ اسے پی ٹی آئی پنجاب سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔۔۔ دائیں بازو کے دانشوران کی مسلسل پوجا اور جاگتے ہوئے سپنے لاہور اور پنجاب پیپلزپارٹی کا وہ وتیرہ ہے جو سیاسی افیون لینے کے مترادف ہے، یہ بلاول بھٹو کو دھوکہ دیتے ہیں تاہم اس ضمن میں زرداری صاحب کی خاموشی ناقابل فہم ہے! بہرحال راقم نے اگست 2020ئ میں تحریر کیا تھا، "اب بلاول آخری جمہوری امید؟” ، اہلِ نظر نے بعد ازاں دیکھا بھی۔۔۔ تمنائیں اپنی جگہ تاہم مئی 2006 والا میثاقِ جمہوریت کا سفر ہنوز نیند، بھوک اور انتظار پر کنٹرول کے اعادے اور ارادے کا کہہ رہا ہے۔ سیاسی ایکوسسٹم سائرن بجا رہا ہے۔ اور تاریخ دروازہ کھٹکھٹا کر کہہ رہی ہے معاملہ تحریک انصاف کا ہو یا مسئلہ 28 ویں ترمیم ، کہیں دھاندلی کا اندیشہ ہو یا بین الاقوامی سندیسہ سب سے پہلے غیر مستقل مزاج سیاستدان استقلال سے دامن گیر ہوں اور جمہوری وضع داری کو 18 ویں ترمیم کی عینک لگا کر دیکھیں تو سہی۔ بصورتِ دیگر شومئی قسمت اور معلقی، جنت نہ ملے مقام اعراف ہی رہ جائے تو کیا؟






