#کالم

بہاولپور ضمنی الیکشن۔۔شخصیت ،نظریہ ،صوبہ اور کارکردگی

javeed ayaz

تحریر :۔ جاویدایازخان

چنددنوں سے ہمارے میڈیا پر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جارہی ہے۔ٹی وی چینلزاور سوشل میڈیا پر یہ بحث بڑے زور وشور سے جاری ہے۔کبھی صوبوں کی بات کی جاتی ہے تو کبھی انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ہوتی ہے۔یہ موضوع تب سے زیر بحث ہے جب سے ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کا س بارے? میں بیان اور تجویز سامنے آئی ہے۔اور اس بارے میں اٹھائیس ویں ترمیم کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔باوجود بے شمار ٹاک شوز اور میڈیا رپورٹس کے عام آدمی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے درمیان فرق جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔بہاولپور کے لوگ صوبے کا مطالبہ تو طویل عرصے سے کررہے ہیں مگر بہت کم لوگ صوبوں اور انتظامی یونٹس کے بنیادی فرق کو سمجھ سکے ہیں۔میں مختصرا” بتادوں کہ صوبہ موجودہ صوبے کی آئینی تقسیم سے وجود میں آنے والی ایک نئی وفاقی اکائی ہوتا ہے جبکہ انتظامی یونٹ بنیادی طور پر انتظام حکومت کو عوام کے قریب اور موثر بنانے کے لیے بنایا جاتا ہے۔تاکہ سابقہ صوبوں میں رہتے ہوے عوامی مسائل مقامی طور پر بہتر طریقے اور سہولت سے حل کئے جا سکیں۔اگر کسی بڑے صوبے کو مزید ڈویڑن ،ضلع اور تحصیل یا کسی نئے انتظامی خطے میں تقسیم کیا جاے تو اس سے لازما” کوئی دوسرا صوبہ وجود میں نہیں آتا۔گویا ہر نیا صوبہ ایک انتظامی تبدیلی بھی ہوتا ہے لیکن ہر نیا انتظامی یونٹ نیا صوبہ نہیں ہوتا۔ایسے موقع پر جب یہ بحث زوروں پر ہے بہاولپور شہر میں ضمنی الیکشن کا ہونا بہت سے سوال اٹھا دیتا ہے۔بہر حال اگر صوبے یا انتظامی یونٹ کا مطالبہ انتحابی نتیجے میں نمائیاں طور پر ووٹوں کو متاثر کرتا ہے تو سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام کہ بہاولپور کی علاقائی شناخت کو محض جذباتی نعرہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔صوبے یا انتظامی یونٹ کا مطالبہ صرف شناخت کا مسئلہ نہیں یہ روزگار ،اختیار ،عوسائل اور اپنے فیصلے خود کرنے کا مسئلہ ہے۔یقینا” نئے صوبے یا انتظامی یونٹس عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے مزید کم کرنےمیںمعاون ثابت ہو نگے۔ مجھ سے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ کیا بہاولپور کے موجودہ ضمنی الیکشن جوجناب ملک محمد اقبال چنڑمرحوم کی خالی ہونے والی سیٹ پر ستائیس ستمبر کو ہونے جارہے ہیں اور جس میں اب تک کی اطلاع کے مطابق اس علاقے کی بہت سی نامور اور باثر سیاسی شخصیات کے حصہ لینے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔اور دوسری جانب نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بازگشت اور بحث بھی زور پکڑ رہی ہے۔ایسے میں کیا صوبوں اور انتظامی یونٹس کا شور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے ؟ میں کوئی بڑا سیاسی تجزیہ کار یا تبصرہ نگار تو نہیں ہوں لیکن ایک عام شہری کی طرح میری راے میں صرف صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث ہی الیکشن پر اثر انداز نہیں ہو گی بلکہ بہاولپور کے یہ الیکشن اس سے قبل ہونے والے تمام انتخابات سے الگ اور جدا ہوں گے جس میں نئے ووٹرز اور نوجوان کا ووٹ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اس الیکشن کی مہم بھی شاید سابقہ الیکشن سے ہٹ کر روائتی طریقے کی بجاے جدید اور ڈیجیٹل طریقوں سے زیادہ کی جاے گی۔اس الیکشن میں شخصیت ،نظریہ ،کار کردگی اور صوبہ بہاولپور یہ سب عوامل زیادہ اہم ہو نگے۔شخصیت میں امیدوار کی ذاتی حیثیت اور تعلق یا خاندانی مقبولیت اور برادری کا ووٹ جبکہ نظریے میں اس کی جماعتی وابستگی اور ملکی سطح پر اس سیاسی جماعت کی مقبولیت اہم ہوگی اور تیسری جانب کارکردگی جس میں ان کے سابقہ ادوار میں ان کی یا سیاسی جماعت کی کارکردگی بھی شامل ہو گی جبکہ آخری وجہ بہاولپور کی صوبائی حیثیت کا دیرینہ مطالبہ یا الگ انتظامی یونٹ کا قیام بھی ہوگی۔وہیں ایک بہت بڑا عنصر جناب ملک محمد اقبال چنڑ مرحوم کی عام آدمی تک رسائی اورانفرادی اور اجتماعی طور ان کے لیے کارکردگی ،ان کی طویل نظریاتی وسیاسی وابستگی اور ان کے بچوں سے ہمدردی اور محبت کا اظہار بھی ہوگا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کو بھی اپنے نوجوانوں کی ہمدردیاں بدستور حاصل ہیں جبکہ پی پی پی کا نظریاتی ووٹ بھی اٹل ہے۔بظاہر مقابلہ مسلم لیگ نون ،پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو گا اور شاید ان جماعتوں کی مقبولیت کا امتحان بھی ہو گا۔البتہ کوئی آزاد امیدوار بھی یہ توازن متاثر کرسکتا ہے۔موجودہ مہنگائی اور غربت کی صورتحال بھی عام آدمی کی سوچ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔بہاول پور محب وطن لوگوں کا مسکن اور ،باہمی رواداری ،احترام محبتوں کا شہر ہے۔یہاں سیاسی اختلاف کبھی ذاتی رنجش میں نہیں بدلتے۔سیاسی اختلاف صرف سیاست تک محدود رہتے ہیں ورنہ ہر مشکل گھڑی میں سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔اس لیے کسی محاذ آرائی کی توقع ہرگز نہیں ہے۔البتہ ایک طویل عرصے سے بلدیاتی نظام نہ ہونے سے یہاں کے صاف پانی ،بےروزگاری ،سیوریج ،صفائی،تعلیم ،صحت ،واسا کے بل اور گلیوں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے مسائل اسقدر بڑھ چکے ہیں کہ شاید ہر امیدوار کو اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل دینا ضروری ہو گا۔مختصر یہ کہ اس ضمنی الیکشن میں اصل مقابلہ شاید چار نعروں کے درمیان بن رہا ہے۔صوبہ ،شخصیت ،کارکردگی اور سیاسی نظریہ ! اب ستائیس ستمبر کو نتیجہ بتاے گا کہ بہاولپور کا ووٹر ان چاروں میں سے کس کو زیادہ وزن دیتا ہے۔جو ں جوں انتخابات کا وقت نزدیک آتا چلا جاے گا اور جوڑ توڑ اور سیاسی سرگرمیاں تیز ہو ں گیں تو درست صورتحال سامنے آسکے گی۔اس دھرتی کے سپوت یہ سب امیدوار ہمارے اپنے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ جو بھی امیدوار کامیاب ہو یہ الیکشن ہمارے علاقے کے لیے خیر وبرکت اور ترقی کا باعث بنے۔یہاں کی محرومیاں ختم کرنے اور یہاں کی بےروزگاری میں کمی لانے کی خوشخبری ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک پاکستان میں باہمی قومی یکجہاتی اور اتحاد کا باعث بنے اور بہاولپور شہر کی تعمیر وترقی میں نمائیاں اضافہ کا بھی باعث ہو۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے