ٹیرف کی جنگ، چین کا راستہ اور امریکہ کی نئی ”ڈیجیٹل سرحد“
ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق
دنیا میں جنگوں کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب طاقت کا اظہار توپ، ٹینک، بحری بیڑے اور جنگی جہازوں سے کیا جاتا تھا، مگر اکیسویں صدی میں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک ایسی جنگ بھی جاری ہے جس میں گولیاں کم اور ٹیرف، پابندیاں، بندرگاہیں، سپلائی چین، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشمکش اسی نئی عالمی جنگ کی ایک نمایاں مثال ہے۔ تازہ امریکی الزامات نے اس کشمکش کو ایک اور دلچسپ مگر تشویش ناک موڑ دے دیا ہے۔امریکی انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی مصنوعات کو تیسرے ممالک کے ذریعے امریکہ پہنچا کر ان پر عائد بھاری محصولات سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاو¿س سے منسوب تازہ رپورٹ کے مطابق چالیس سے زیادہ ممالک اس مسئلے کے دائرے میں آتے ہیں اور ان میں امریکہ کے قریبی تجارتی شراکت دار بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں کینیڈا، میکسیکو، جاپان، یورپی یونین اور بعض ایشیائی ممالک کا ذکر سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ امریکی انتظامیہ کے الزامات اور تخمینے ہیں، متعلقہ ممالک کی جانب سے ہر الزام کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یورپی یونین نے بھی کسٹمز فراڈ کے خلاف تعاون کی بات کرتے ہوئے اس تصور سے اختلاف کیا ہے کہ وہ منظم انداز میں چین کو امریکی محصولات سے بچنے میں مدد دے رہی ہے۔اصل مسئلہ Transshipment یعنی سامان کو کسی تیسرے ملک کے راستے بھیج کر اس کی اصل شناخت یا تجارتی حیثیت تبدیل کرنے کا ہے۔ بین الاقوامی تجارت میں کسی تیسرے ملک سے سامان گزرنا بذاتِ خود جرم نہیں۔ دنیا کی سپلائی چین اسی طرح کام کرتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی چینی مصنوعات کو محض اس لیے کسی دوسرے ملک لے جایا جائے کہ وہاں معمولی تبدیلی، پیکنگ یا لیبلنگ کرکے اسے اس ملک کی پیداوار ظاہر کیا جائے اور یوں امریکہ میں داخلے کے وقت چین کے لیے مقرر کردہ زیادہ ٹیرف سے بچا جا سکے۔مثال کے طور پر اگر چین میں تیار ہونے والی کوئی چیز براہِ راست امریکہ بھیجنے پر زیادہ محصول کی زد میں آتی ہے، لیکن وہی چیز پہلے کسی دوسرے ملک پہنچائی جائے، وہاں معمولی کام کے بعد نیا ”ملکِ پیدائش“ ظاہر کردیا جائے اور پھر امریکہ روانہ کردی جائے تو امریکی حکام اسے ٹیرف سے بچنے کی ایک ممکنہ ترکیب سمجھتے ہیں۔ امریکی رپورٹوں کے مطابق بعض مصنوعات تقریباً مکمل حالت میں تیسرے ملک پہنچتی ہیں، جہاں محدود پراسیسنگ کے بعد ان کی نئی تجارتی شناخت ظاہر کی جا سکتی ہے۔یہ معاملہ چند کنٹینروں تک محدود نہیں بتایا جا رہا۔ امریکی انتظامیہ کا تخمینہ ہے کہ اس عمل سے امریکہ کو سالانہ تقریباً 19 سے 26 ارب ڈالر تک محصولات کا نقصان ہوسکتا ہے۔ مختلف مطالعات اور تخمینوں میں مشتبہ یا transshipped تجارت کی مجموعی مالیت کے اعداد اس سے کہیں زیادہ بھی بتائے گئے ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کسی ایک عدد کو قطعی حقیقت سمجھنے کے بجائے مختلف تخمینوں میں فرق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔امریکہ نے پہلے ہی ٹیرف سے بچنے کے لیے کی جانے والی transshipment کے خلاف سخت قانونی راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔ جولائی 2025 کے وائٹ ہاو¿س حکم نامے کے تحت ایسی اشیا جنہیں امریکی کسٹمز حکام ٹیرف سے بچنے کے لیے transship کیا گیا قرار دیں، ان پر 40 فیصد اضافی ad valorem ڈیوٹی اور دیگر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس حکم میں امریکی حکام کو ایسے ممالک اور مخصوص تنصیبات کی فہرست بھی وقفے وقفے سے جاری کرنے کی ہدایت دی گئی جو محصولات سے بچنے کی اسکیموں میں استعمال ہوں۔لیکن اس پوری کہانی کا سب سے اہم اور مستقبل سے متعلق پہلو مصنوعی ذہانت ہے۔امریکہ اب کسٹمز اور تجارتی نگرانی میں AI کے استعمال کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔ تازہ امریکی رپورٹوں میں ایک AI نظام کا ذکر سامنے آیا ہے جسے “Detective Border” کہا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد عالمی تجارتی ڈیٹا، سامان کے سفر، مصنوعات کے مبینہ ملکِ پیدائش اور دوسرے تجارتی اشاروں میں غیر معمولی patterns تلاش کرنا ہے تاکہ مشتبہ shipments کی نشاندہی کی جاسکے۔یہاں سے عالمی تجارت کا ایک بالکل نیا دور شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ماضی میں کسٹمز افسر کنٹینر کھولتا تھا، کاغذات دیکھتا تھا اور سامان کی نوعیت کا تعین کرتا تھا۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ کنٹینر بندرگاہ تک پہنچنے سے پہلے ہی کمپیوٹر اس کے پورے سفر کا تجزیہ کرچکا ہو۔ مصنوعی ذہانت دیکھ سکتی ہے کہ سامان کہاں تیار ہوا، کس بندرگاہ سے نکلا، درمیان میں کہاں رکا، کسی ملک کی برآمدات اچانک کیوں بڑھیں، اس ملک کی اپنی پیداواری صلاحیت کتنی ہے اور درآمد کیے گئے خام مال اور برآمد ہونے والی تیار مصنوعات میں کوئی غیر معمولی تعلق تو موجود نہیں۔فرض کیجیے ایک ملک تاریخی طور پر کسی خاص الیکٹرانک مصنوعات کی بہت معمولی مقدار برآمد کرتا رہا ہے، لیکن چین پر امریکی ٹیرف بڑھنے کے فوراً بعد اسی ملک کی امریکہ کو اس مصنوعات کی برآمد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ روایتی نظام میں اس تبدیلی کی مکمل چھان بین میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن جدید ڈیٹا اینالیٹکس اور AI اسے فوری طور پر مشتبہ pattern کے طور پر نشان زد کرسکتے ہیں۔یوں اب سرحد صرف زمین پر کھینچی ہوئی لکیر نہیں رہے گی، بلکہ ڈیٹا بھی سرحد بن جائے گا۔امریکہ اور چین کی موجودہ تجارتی کشمکش کو محض دو ملکوں کا مسئلہ سمجھنا بھی غلط ہوگا۔ چین گزشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کی فیکٹری بن چکا ہے۔ لاتعداد امریکی، یورپی، ایشیائی اور افریقی کمپنیاں چینی سپلائی چین سے براہ راست یا بالواسطہ جڑی ہوئی ہیں۔ چینی پرزہ کسی دوسرے ملک میں جا کر تیار مصنوعات بن سکتا ہے، پھر وہ مصنوعات تیسرے ملک سے امریکہ پہنچ سکتی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی چیز کا حقیقی ”ملکِ پیدائش“ کس بنیاد پر طے کیا جائے۔یہی Rules of Origin کا بنیادی مسئلہ ہے۔اگر موبائل فون کے پرزے پانچ ملکوں سے آئیں، assembly چھٹے ملک میں ہو اور برانڈ ساتویں ملک کا ہو تو اسے کس ملک کی پیداوار کہا جائے گا؟ یہ سوال اب محض تکنیکی نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست، محصولات اور قومی سلامتی کا سوال بن گیا ہے۔یہاں امریکی پالیسی کے سامنے بھی ایک مشکل موجود ہے۔ اگر rules of origin ضرورت سے زیادہ سخت کردیے جائیں تو حقیقی اور جائز عالمی تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ کمپنیوں پر کاغذی کارروائی اور compliance کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے امریکی مارکیٹ تک رسائی مشکل ہوسکتی ہے اور بالآخر ان اخراجات کا ایک حصہ صارف کو مہنگی اشیا کی شکل میں برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری طرف چین کے نقط? نظر سے دیکھا جائے تو واشنگٹن کی مسلسل تجارتی پابندیاں اور بلند محصولات آزاد تجارت کے امریکی دعووں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ چین طویل عرصے سے یہ مو¿قف اختیار کرتا آیا ہے کہ تجارتی اختلافات کو یک طرفہ پابندیوں کے بجائے مذاکرات اور بین الاقوامی تجارتی اصولوں کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ امریکہ کا مو¿قف اس کے برعکس یہ ہے کہ اگر اصل ملک چھپا کر ٹیرف سے بچا جائے تو یہ آزاد تجارت نہیں بلکہ تجارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔حقیقت شاید ان دونوں بیانیوں کے درمیان موجود پیچیدہ عالمی سپلائی چین میں پوشیدہ ہے۔اس ساری صورتحال میں پاکستان کے لیے بھی اہم سبق موجود ہے۔ امریکہ کے 2025 کے reciprocal tariff نظام میں پاکستان کے لیے 19 فیصد شرح بھی درج کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدلتی امریکی تجارتی پالیسی سے پاکستان الگ نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کو اس نئی دنیا میں اپنی برآمدات بڑھانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے، لیکن یہ ترقی شفاف اور حقیقی صنعتی پیداوار پر مبنی ہونی چاہیے۔اگر چین سے کوئی تیار شدہ چیز پاکستان آئے، یہاں صرف اس کا لیبل یا پیکنگ تبدیل ہو اور اسے پاکستانی مصنوعات ظاہر کرکے امریکہ بھیج دیا جائے تو مستقبل کا AI پر مبنی کسٹمز نظام ایسی سرگرمیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ آسانی سے شناخت کرسکتا ہے۔ اس کا نقصان صرف ایک برآمد کنندہ کو نہیں بلکہ پورے ملک کی تجارتی ساکھ کو پہنچ سکتا ہے۔لیکن اسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع بھی موجود ہے۔اگر عالمی کمپنیاں چین سے باہر اپنی supply chains متنوع کرنا چاہتی ہیں تو پاکستان ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان، آئی ٹی، انجینئرنگ، زرعی پراسیسنگ اور دوسری صنعتوں میں حقیقی سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم ”لیبل بدلنے والی معیشت“ کے بجائے value addition والی معیشت بنیں۔ہمیں خام مال درآمد کرکے صرف دوبارہ برآمد کرنے کے بجائے ملک میں صنعت، ٹیکنالوجی، ہنر، تحقیق اور مقامی پیداوار بڑھانی ہوگی۔ آنے والے زمانے میں Certificate of Origin محض ایک مہر شدہ کاغذ نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے پورا ڈیجیٹل ریکارڈ، خام مال کی تفصیل، پیداواری مراحل، کمپنی کا ڈیٹا اور shipment history دیکھی جا سکے گی۔یہ تبدیلی ایک اور اہم سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ کیا AI کو عالمی تجارت کا نیا منصف بنایا جا سکتا ہے؟مصنوعی ذہانت بہت بڑے ڈیٹا میں ایسے تعلقات تلاش کرسکتی ہے جو انسان کے لیے دیکھنا مشکل ہیں، لیکن AI بھی غلطی کرسکتی ہے۔ اگر کسی جائز کمپنی کی shipment کو algorithm مشتبہ قرار دے دے تو اس کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے AI کی مدد سے کسٹمز نگرانی ضرور ہونی چاہیے، لیکن آخری قانونی فیصلہ شفاف تحقیقات، قابلِ اعتراض شواہد اور اپیل کے حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ٹیکنالوجی قانون کی معاون ہوسکتی ہے، قانون کا متبادل نہیں۔امریکہ اور چین کی یہ کشمکش دراصل ہمیں بتا رہی ہے کہ عالمی طاقت کا تصور تبدیل ہورہا ہے۔ مستقبل میں وہ ملک زیادہ طاقتور ہوگا جس کے پاس صرف میزائل نہیں بلکہ semiconductor technology، بندرگاہیں، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، مالیاتی نظام اور عالمی supply chains پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی ہوگی۔امریکہ چین پر ٹیرف لگا سکتا ہے، چین نئی منڈیاں تلاش کرسکتا ہے، کمپنیاں پیداوار دوسرے ملکوں میں منتقل کرسکتی ہیں اور سامان نئے راستوں سے منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر امریکہ ان راستوں کو AI سے تلاش کرے گا اور جواب میں کاروباری دنیا مزید نئے راستے تلاش کرے گی۔ گویا یہ بلی اور چوہے کا ایسا کھیل ہے جس میں ہر نئی پابندی ایک نئی تجارتی حکمت عملی پیدا کرتی ہے۔اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ چین امریکی ٹیرف سے کتنی کامیابی سے بچ سکتا ہے یا امریکہ کتنی shipments پکڑ سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا مسلسل بڑھتی ہوئی تجارتی دیواروں کے ساتھ معاشی استحکام برقرار رکھ سکے گی۔عالمی تجارت اعتماد پر چلتی ہے۔ اگر ہر کنٹینر مشکوک، ہر تجارتی شراکت دار ممکنہ سہولت کار اور ہر ملک دوسرے ملک کے لیے معاشی خطرہ بن جائے تو تجارت کا پورا ڈھانچہ مہنگا اور پیچیدہ ہوجاتا ہے۔”Detective Border“ شاید مشتبہ کنٹینر تلاش کرلے، مگر مصنوعی ذہانت دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد پیدا نہیں کرسکتی۔ یہ کام بالآخر سفارت کاری، منصفانہ تجارتی اصولوں اور مذاکرات ہی کو کرنا ہوگا۔آج جنگ بندرگاہوں پر بھی لڑی جارہی ہے، کنٹینروں کے اندر بھی، کمپیوٹر کے algorithms میں بھی اور مصنوعات پر لگے چھوٹے سے Made in لیبل پر بھی۔ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ معاشی جنگ میں فتح صرف اس کی نہیں ہوتی جو دوسرے پر زیادہ ٹیرف لگا دے؛ اصل کامیابی اس ملک کی ہے جو اپنی صنعت مضبوط کرے، ٹیکنالوجی میں آگے بڑھے، اپنی برآمدات قابلِ اعتماد بنائے اور بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اپنے قومی مفاد کے لیے دانش مندانہ جگہ پیدا کرے۔پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے۔ دوسروں کی تجارتی جنگ میں راستہ بننے کے بجائے ہمیں اپنی پیداوار، اپنی شناخت اور اپنی برآمدی طاقت بنانی ہوگی۔ کیونکہ آنے والے زمانے میں سرحد پر صرف کسٹمز افسر نہیں بیٹھا ہوگا، مصنوعی ذہانت بھی دیکھ رہی ہوگی کہ مال کہاں سے آیا، کہاں سے گزرا اور حقیقت میں بنا کہاں تھا۔






