لاہور کے رنگ، شاعری کے سنگ
شاہد بخاری
بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل ننکانہ صاحب نے محمد شاہد حنیف، ایم اے لائبریری سائنس کی تحقیق و ترتیب پر مشتمل ایک تاریخی نوعیت کی کتاب ”لاہور کے رنگ شاعری کے سنگ “ شائع کی ہے جو کہ نہ صرف لاہور کے بارے میں لکھی گئی شاعری کا مجموعہ ہے بلکہ یہ شاعری اس بات کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ لاہور ایک ایسا شہر جس کی تاریخ، میں محبت کے علاوہ روحانیت، مزاح، سیاست، جدائی، رفاقت وغیرہ کے بہت سے پہلو چھپے ھوئے ہیں۔ لاہور سے محبت اور چاہت کی وجہ سے لاہور ایسا شہر ھے جس کی تاریخ، و فضا میں شعر وسخن کی ادبی روایات و علمی میراث بکھری ہوئی ہے۔
اس کتاب کا ھر ورق اس بات کی گواہی دیتا نظر آتا ہے کہ لاہور کے بارے میں محققین، مو?رخین اور عام لکھاریوں کے علاوہ اس کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، ادب،مذہب کے بارے میں شعرا کرام نے بھی اپنے دلی جذبات کا بھر پور اظہار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ لاہور کے بارے میں اقبال راہی کے اشعار ملاحظہ کیجیے:
یہ ہے زندہ دلوں کا ایک مرکز
یہاں موجود ہے خوشی کی لہر
اس میں کوئی نہیں ہے شک راہی
میرے لاہور سا نہیں کوئی شہر
کتاب میں شامل لاہور سے محبت کے حوالے سے ناصر کاظمی کا معروف شعر پڑھیے اور لطف ا±ٹھائیے:
شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
صدر،انجمن اساتذہ جموں کشمیر سید زاہد حسین نعیمی یوں رقم طراز ہیں: ”فاضل مو لف نے بھولے بسرے دیوانوں اور مخطوطوں سے ان اشعار کو ڈھونڈ نکالا، جو لاہور کی شاعرانہ وراثت کو ایک محفوظ گھر دے دیتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے زمانے میں، جب شہر کی گلیاں بھیج پتھر ہو رہی ہیں، یہ کتاب ایک نرم یادگار ہے جو شاعری کو شہر کی نبض بنا دیتی ہے۔ محققین، شاعر اور لاہور کے عاشقوں کے لیے یہ ایک انمول ہدیہ ہے، جو انہیں شہر کی گہرائیوں میں غوطہ لگانے کی دعوت دیتا ہے۔ “
محمد نور المصطفیٰ نورانی لکھتے ہیں: ”محمد شاہد ، جو خود ایک محقق ہیں، نے ا±ردو، فارسی، پنجابی اور عربی زبانوں کے منتخب اشعار کو ایک جگہ اکٹھا کر کے شہر لاہور کی منظوم تاریخ ایسے رقم کر دی ہے جیسے ایک ماہر جوہری نے بکھرے موتیوں کو ایک ھار میں پرو دیا ہو۔ یہ کتاب نہ صرف ادبی دنیا کا خزانہ ہے بلکہ لاہور کی ر±وح کو سمجھنے کا ایک جادوئی دروازہ بھی، جو قاری کو شہر کی گلیوں میں گھما کر اس کی شاعرانہ گہرائیوں تک لے جاتا ہے۔“
پروفیسر عبدالغفور چودھری لکھتے ہیں: ”اس کتاب میں لاہور کے مختلف پہلوو¿ں پر قدیم و جدید شعرائ کی نظمیں اور اشعار شامل ہیں۔ہر ایک نے خوب لکھا ہے۔ان حضرات کی شاعری سے بھی پتہ چلتا ہے کہ کہ لاہور واقعی باکمال تاریخی، علمی،تمدنی، ثقافتی، مسکن مصنّفین و فاتحین ہے۔یہ قیام گاہ فاتحینِ اسلام سلطان محمود غزنوی، سلطان شہاب الدین غوری اور ظہیر الدین بابر رھا ہے۔ کتاب میں معروف و ممتاز شاعر حفیظ جالندھری کی قدیم نظم جو کہ 1927ء میں شائع ہوئی تھی، بھی شامل کی گئی ہے۔ کئی سو کتب و رسائل و جرائد سے تلاش کردہ یہ شعری مواد نہ صرف لاہور کی حیثیت کو واضح کرتا ہے بلکہ شعرائے کرام کی محبت کو بھی ا±جاگر کرتا ہے۔
زیر نظرکتاب کے بارے میں پروفیسر شبیر حسین زاہد کی حسب حال نظم ملاحظہ ہو:
نظم و نثر میں اس کے ہیں تذکرے بہت
ایسا یہ خوش خصال ہے سارے جہان میں
لکھی گئی اس پہ ہیں سینکڑوں کتب
تاریخ ماضی حال ہے سارے جہان میں
شاہد حنیف بھائی نے مرتب کی ہے جو کتاب
مرقع باجمال ہے سارے جہان میں
کتاب میں شامل استاد عدم کی ایک نظم کے اشعار ملاحظہ کیجیے:
پھولوں کی قبائیں ہیں … لاہور کی گلیوں میں
مہکے ہوئے گیسو ہیں … بہکے ہوئے ا?ہو ہیں
لہکے ہوئے پہلو ہیں … لاہور کی گلیوں میں
شفاف شرابیں ہیں …
بے داغ کتابیں ہیں
باریک نقابیں ہیں …
لاہور کی گلیوں میں
ڈاکٹر فخر عباس کا درج ذیل شعر لاہور سے محبت کی عکاسی کس انداز میں کررہاہے، ملاحظہ کیجیے:
یہ جو لاہور سے محبت ہے … یہ کسی اور سے محبت ہے
جنگ ستمبر1965ئ کے حوالے سے رئیس امروہوی اپنے مشہور نغمے میں لاہور کے باسیوں کوگرم جوشی سے سلام پیش کررہے ہیں:
خطہ? لاہور! تیرے جاں نثاروں کو سلام
شہریوں کو غازیوں کو شہسواروں کو سلام
زاہد اقبال بھیل رقم طراز ہیں کہ: ”لاہور کی شناخت صرف اس کی گلیوں، بازاروں اور تاریخی عمارتوں سے نہیں بنتی، بلکہ اس شہر کی روح اس کے شاعروں کی شاعری اور اس کے مفکروں کی فکر میں رچی بسی ہوئی ہے۔
لاہور کی یادوں کے حوالے سے رحمان فارس کے اشعار پڑھیے اور لطف لیجیے:
دانہ پانی ڈھونڈنے سب جا بسے ہیں د±ور دیس
کیا زمانہ تھا کہ سارے دوست تھے لاہور میں
فیض ، منٹو اور منیر ، اقبال ، ناصر اور ندیم
ہائے کیا کیا ولولے آباد تھے لاہور میں
دو ہی شہروں میں ہیں اچھی آنکھیں، ہندوستانیو!
یا تمھارے لکھنو میں یا مرے لاہور میں
جانے کس آسیب کا سایہ ہے میرے شہر پر
آج کل لگتے نہیں ہیں قہقہے لاہور میں
±±زیر نظر کتاب کے ناشر، زاہد اقبال بھیل ہیں، جسے محمد شاہد حنیف نے 240 صفحات پر مرتب کیا ہے۔ اس میں 81 اردو شاعروں، 3 عربی شاعروں، 34 پنجابی شاعروں اور 20 فارسی شاعروں کا کلام شامل ہے۔ جن صفحات پر خالی جگہ رہ گئی تھی، وہاں لاہور سے متعلقہ جو اشعار درج کیے گئے گئے ہیں، وہ بھی خاصی تعداد میں ہیں۔اس خوبصورت کتاب کی ترتیب و تدوین، اشاعت اور پیشکش کے حوالے سے مرتب، ناشر صد مبارک کے مستحق ہیں۔ ا±مید ہے کہ اس کے نئے ایڈیشن میں مزید شاعری تلاش کرکے شامل کر لی جائے گی۔






