جشنِ آزادی یا آزادیِ ہنگامہ
ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق
ہر خوشی کو منانے کا ایک انداز، ایک قرینہ اور ایک تہذیب ہوتی ہے۔ خوشی اگر دوسروں کے لیے تکلیف بن جائے، جشن اگر کسی کی جان خطرے میں ڈال دے، تفریح اگر کسی بیمار کی اذیت بڑھا دے اور آزادی کا اظہار اگر قانون، اخلاق اور معاشرتی ذمہ داری سے آزادی میں بدل جائے تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ہم آخر کس سمت جا رہے ہیں۔14 اگست 2026 کو پاکستان نے اپنا 79 واں یومِ آزادی منایا۔ ملک بھر میں قومی پرچم لہرائے گئے، عمارتیں سبز و سفید روشنیوں سے سجائی گئیں، ملی نغمے گونجے اور لوگوں نے بھرپور جوش و جذبے سے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ بلاشبہ زندہ قومیں اپنے قومی دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور نئی نسل کو اپنی آزادی کی قدر و قیمت سے آگاہ کرتی ہیں، لیکن سوال جشن منانے کا نہیں بلکہ جشن منانے کے طریقے کا ہے۔ اس مرتبہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بہت سی ویڈیوز اور سڑکوں پر دکھائی دینے والے مناظر نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا ہم آزادی اور بے لگامی کے درمیان موجود باریک مگر انتہائی اہم لکیر بھولتے جا رہے ہیں۔کہیں نوجوان موٹر سائیکلوں کے سائلنسر اتار کر سڑکوں پر شور مچا رہے تھے، کہیں بڑے بڑے باجے بجائے جا رہے تھے اور کہیں چوراہے ایسی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے تھے جن میں قومی وقار اور اجتماعی نظم کم اور ہنگامہ زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔ بعض مقامات پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس انداز میں جشن مناتے اور رقص کرتے دکھائی دیے کہ یہ احساس ہی باقی نہیں رہا کہ قومی دن محض تفریح کا موقع نہیں بلکہ ایک قوم کی تاریخ، قربانیوں اور اجتماعی وقار کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ مرد ہو یا عورت، قومی تہوار پر عوامی مقامات میں ہمارا لباس، گفتگو اور طرزِ عمل ہماری تہذیبی اقدار اور قومی وقار کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ کسی ایک طبقے یا صنف کو نشانہ بنانا مقصود نہیں، اصل بات یہ ہے کہ آزادی کے نام پر معاشرتی حدود اور دوسروں کے حقوق فراموش نہیں کیے جاسکتے۔اس مرتبہ ایک اور افسوس ناک رجحان بھی نمایاں طور پر سامنے آیا۔ سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک اور دوسری ویڈیو ایپس کے لیے منفرد اور وائرل ویڈیو بنانے کی خواہش میں بعض نوجوانوں نے جشن کو باقاعدہ تماشے میں بدل دیا۔ ایک دوسرے پر پانی کی بوتلیں پھینکی گئیں، پانی اچھالا گیا اور ایسی حرکات کی گئیں جن سے نہ صرف سڑکوں پر بدنظمی پیدا ہوئی بلکہ بعض جگہ دوسروں کو بھی زبردستی اس تفریح کا حصہ بنا لیا گیا۔ بعض ویڈیوز میں لڑکیاں پانی میں بھیگے ہوئے لباس میں سڑکوں اور عوامی مقامات پر رقص کرتی دکھائی دیں اور اردگرد موجود لوگ انہیں موبائل فونز میں ریکارڈ کرتے رہے۔ سوال کسی کی ذات یا صنف پر تنقید کا نہیں بلکہ اس اجتماعی رویے کا ہے جس میں چند لائکس، ویوز اور فالوورز کے لیے قومی تہوار کے وقار، اپنی نجی حدود اور دوسروں کے حقِ سکون کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبول ہونے کی خواہش اگر انسان سے تہذیب، احتیاط اور ذمہ داری چھین لے تو یہ تفریح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے۔ہماری نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ کام جو موبائل کیمرے کے سامنے دلچسپ نظر آئے، ضروری نہیں کہ وہ مہذب اور قابلِ تقلید بھی ہو۔ ٹک ٹاک ویڈیو کے چند ہزار ویوز چند دن میں بھلا دیے جاتے ہیں، مگر کسی قومی دن کی اجتماعی تصویر دیر تک معاشرے کی شناخت بنی رہتی ہے۔ پانی کی بوتلیں ایک دوسرے پر پھینکنا، راہ گیروں کو تنگ کرنا، سڑکوں پر رقص اور ہجوم لگا کر ٹریفک روک دینا، محض ویڈیو بنانے کے لیے خطرناک حرکات کرنا اور پھر انہیں سوشل میڈیا پر کامیابی سمجھ کر پیش کرنا ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نئی نسل کو شہرت کا کون سا تصور دے رہے ہیں۔ والدین، تعلیمی اداروں اور خود سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔سب سے زیادہ تکلیف دہ مناظر وہ تھے جن میں بعض بچے اور نوجوان بے زبان جانوروں، خصوصاً کتوں کے کانوں کے قریب بڑے بڑے باجے بجا کر لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔ جانور بول نہیں سکتے، شکایت نہیں کرسکتے، مگر درد، خوف اور تکلیف ضرور محسوس کرتے ہیں۔ کسی بے زبان جانور کو صرف اپنی تفریح یا سوشل میڈیا کی ویڈیو بنانے کے لیے اذیت دینا جشن نہیں بلکہ ہماری اجتماعی تربیت پر سوالیہ نشان ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ رحم، ہمدردی اور احساس بھی ایک مہذب قوم کی پہچان ہیں۔اسی طرح بعض ویڈیوز میں گھریلو گیس سلنڈر کے ساتھ باجا لگا کر گیس کھول دینے اور مسلسل انتہائی بلند آواز پیدا کرنے جیسے خطرناک طریقے بھی دکھائی دیے۔ شاید کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اردگرد کوئی بیمار ہوسکتا ہے، کوئی بزرگ دل کا مریض ہوسکتا ہے، کوئی نومولود بچہ سو رہا ہوسکتا ہے یا کوئی شخص ایسی تیز آواز برداشت کرنے کے قابل نہ ہو۔ اپنی چند لمحوں کی خوشی کے لیے پورے محلے کا سکون برباد کردینا آزادی نہیں۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ میرے پاس موٹر سائیکل ہے تو میں اس کا سائلنسر نکال کر پورے شہر کو اپنی موجودگی کا احساس دلاو¿ں، نہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہارن، باجوں اور چیخ پکار سے دوسرے شہریوں کا سکون چھین لیا جائے۔پھر ہماری سڑکوں کا حال دیکھیے۔ ہر سال قومی تہواروں پر نوجوانوں کی ایک تعداد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے ساتھ ایسے کرتب اور رفتار کا مظاہرہ کرتی ہے جیسے اس روز ٹریفک قوانین بھی چھٹی پر ہوں۔ ون ویلنگ، تیز رفتاری، خطرناک اوور ٹیکنگ، موٹر سائیکل پر مقررہ تعداد سے زیادہ افراد کا بیٹھنا، بغیر ہیلمٹ سفر اور کم عمر بچوں کا گاڑیاں چلانا کسی جشن کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ چند لمحوں کا جوش بعض اوقات پوری زندگی کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔اسی جشنِ آزادی کے ماحول میں لاہور کی کینال روڈ، ہربنس پورہ کے قریب ایک المناک حادثے میں پانچ افراد جان سے گئے اور ایک بچہ زخمی ہوا۔ تیز رفتار گاڑی بے قابو ہوکر درخت سے ٹکرائی اور چند لمحوں میں کئی گھروں کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سڑک کا حادثہ محض ایک عدد نہیں ہوتا۔ ہر حادثے کے ساتھ کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی، کسی عورت کا شوہر، کسی بچے کا باپ یا کسی خاندان کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ ہم جشن منانے گھر سے نکلتے ہیں، مگر ہماری بے احتیاطی کی وجہ سے کسی گھر میں صفِ ماتم نہیں بچھنی چاہیے۔یہاں والدین کی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ کم عمر بچے کے ہاتھ میں موٹر سائیکل یا گاڑی کی چابی تھما دینا محبت نہیں بلکہ بعض اوقات اسے ایسے خطرے کے حوالے کرنا ہے جس کی سنگینی کا اسے خود اندازہ نہیں ہوتا۔ اگر بچے صبح سویرے گاڑیاں لے کر نکل جائیں اور والدین کو خبر تک نہ ہو کہ وہ کہاں ہیں اور کس انداز میں گاڑی چلا رہے ہیں تو ہمیں اپنے گھریلو نظم اور تربیت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ بچوں کی خوشیوں میں شریک ہونا ضروری ہے لیکن نگرانی، رہنمائی اور حدود کا تعین بھی والدین ہی کی ذمہ داری ہے۔لیکن ساری ذمہ داری بچوں اور والدین پر ڈال کر حکومت اور انتظامیہ بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ اگر حکومتیں سیاسی اجتماعات اور جلسوں جلوسوں کے لیے سڑکیں بند کرسکتی ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کرسکتی ہیں اور مخصوص سرگرمیوں کو ضابطوں کا پابند بنا سکتی ہیں تو قومی تہوار کے موقع پر واضح اور مو¿ثر سیفٹی پلان کیوں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ 13 اور 14 اگست کو ون ویلنگ، بغیر سائلنسر موٹر سائیکل چلانے، کم عمر ڈرائیونگ، خطرناک ریس، غیر معمولی شور، عوام کو اذیت پہنچانے والے باجوں اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کے خلاف خصوصی کارروائی ہونی چاہیے۔ اسپتالوں، رہائشی علاقوں اور حساس مقامات کے گرد شور کے قوانین پر سختی ضروری ہے۔ یہ آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ آزادی کو مہذب اور محفوظ بنانا ہے۔اسی طرح سوشل میڈیا کے دور میں انتظامیہ کو ایک نئی حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اب بعض خطرناک سرگرمیاں صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ ویڈیو بنا کر وائرل ہونے کے لیے کی جاتی ہیں۔ نوجوان جتنا غیر معمولی کام کرے، اسے اتنے زیادہ ویوز ملنے کی امید ہوتی ہے۔ یہی خواہش بعض اوقات خطرناک ڈرائیونگ، سڑکوں پر ہنگامہ، پانی پھینکنے، دوسروں کو ہراساں کرنے اور نامناسب حرکات کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی سرگرمیوں پر بروقت توجہ دینی چاہیے، مگر اس سے بھی زیادہ ضروری سماجی تربیت ہے، کیونکہ ہر مسئلے کا حل پولیس نہیں ہوسکتی۔ہمیں جشنِ آزادی منانے کی اپنی ثقافت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو خوشی منانے سے روکنے کی نہیں بلکہ انہیں بہتر راستے دینے کی ضرورت ہے۔ وہ سبز و سفید لباس پہنیں، قومی پرچم لہرائیں، ملی نغمے گائیں، گھروں اور گلیوں کو سجائیں، دوستوں کے ساتھ تقریبات کریں، تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور بھرپور جشن منائیں، لیکن ایک اصول یاد رکھیں کہ میری خوشی کسی دوسرے کے لیے سزا نہ بنے۔موٹر سائیکل کا سائلنسر نکالنے کے بجائے اس پر پاکستان کا پرچم لگایا جاسکتا ہے۔ ون ویلنگ کے بجائے محفوظ سائیکل ریلی منعقد کی جاسکتی ہے۔ بے ہنگم شور کے بجائے ملی نغموں کی تقریب ہوسکتی ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کے لیے پھول لے جائے جاسکتے ہیں، یتیم بچوں کے ساتھ جشن منایا جاسکتا ہے، خون کے عطیات دیے جاسکتے ہیں، پودے لگائے جاسکتے ہیں، محلے صاف کیے جاسکتے ہیں اور شہدائ کے اہل خانہ کو سلام پیش کیا جاسکتا ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے تقریری، تحریری اور مصوری کے مقابلے منعقد کیے جاسکتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے قومی دنوں کو قومی تربیت کے مواقع بنانے کے بجائے بڑی حد تک تفریح کے دن بنا دیا ہے۔ ہمارے بچوں کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ 14 اگست کو سبز لباس پہننا ہے، جھنڈیاں لگانی ہیں اور ملی نغمے چلانے ہیں، مگر یہ کم بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کیوں بنا، اس کے لیے کتنی قربانیاں دی گئیں اور آزادی کے ساتھ شہری ذمہ داری کیا ہوتی ہے۔ سکولوں میں بچوں کو یہ بھی سکھایا جانا چاہیے کہ ایک اچھا پاکستانی سڑک پر قانون نہیں توڑتا، سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچاتا، جانوروں کو اذیت نہیں دیتا، بیماروں اور بزرگوں کے سکون کا خیال رکھتا ہے اور اپنی تفریح کے لیے کسی دوسرے انسان کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالتا۔میڈیا اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ اگر قومی دن کے موقع پر صرف شور، موٹر سائیکلوں، ہجوم، رقص اور بے ہنگم تفریح کو جشن کی علامت بنا کر پیش کیا جائے گا تو نئی نسل بھی اسی کو جشن سمجھے گی۔ ہمیں ایسی مثالیں نمایاں کرنی چاہئیں جن میں نوجوان کسی بزرگ کی مدد کررہا ہو، کوئی بچہ پودا لگا رہا ہو، نوجوان خون عطیہ کررہے ہوں، کسی شہید کے گھر قومی پرچم پہنچایا جارہا ہو اور طلبہ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کررہے ہوں۔ قومیں صرف نعرے لگانے یا وائرل ویڈیوز بنانے سے عظیم نہیں بنتیں، ان کا اجتماعی کردار انہیں عظیم بناتا ہے۔آزادی دراصل ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔ جو قوم آزادی کے ساتھ ذمہ داری نہیں سیکھتی وہ رفتہ رفتہ آزادی اور انارکی کا فرق بھول جاتی ہے۔ ٹریفک سگنل پر رکنا بھی حب الوطنی ہے، قانون کا احترام بھی حب الوطنی ہے، بیمار کے آرام کا خیال رکھنا بھی حب الوطنی ہے، جانور پر رحم کرنا بھی حب الوطنی ہے، قومی املاک کی حفاظت بھی حب الوطنی ہے اور اپنے بچے کو خطرناک ڈرائیونگ سے روکنا بھی وطن سے محبت ہے۔ہمیں اپنی نئی نسل کو سمجھانا ہوگا کہ پاکستان نے ہمیں آزادی دی ہے، کسی دوسرے انسان کی آزادی، عزت اور سکون چھیننے کا لائسنس نہیں دیا۔ حکومت کو بھی آئندہ قومی تہواروں کے لیے پولیس، ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور والدین کو ساتھ ملا کر ایسی حکمتِ عملی تیار کرنی چاہیے جس میں جشن بھی ہو، خوشی بھی ہو، مگر قانون اور انسانی جان کا احترام سب سے مقدم رہے۔79 برس بعد ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے آزادی کا مفہوم اپنی نئی نسل تک کس شکل میں پہنچایا ہے۔ کیا آزادی صرف سبز لباس، جھنڈی، باجا، موٹر سائیکل، ہارن، ٹک ٹاک ویڈیو اور رات بھر شور کا نام ہے یا آزادی نظم، شعور، ذمہ داری، احترام، قانون اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کا نام بھی ہے۔پاکستان ہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی امانت ہے۔ اس امانت کا احترام صرف قومی پرچم لہرانے سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے ہوگا۔ جشن ضرور منائیے، بھرپور منائیے، اپنے بچوں اور دوستوں کے ساتھ منائیے، تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیے، مگر ایسا جشن منائیے جس کے بعد کسی گھر میں ماتم نہ ہو، کسی ماں کی گود خالی نہ ہو، کسی مریض کی تکلیف نہ بڑھے، کسی جانور کو اذیت نہ پہنچے، کسی راہ گیر کا سکون برباد نہ ہو اور کسی کو ہماری چند لمحوں کی تفریح کی قیمت اپنی جان یا عزت سے نہ چکانی پڑے۔ہمیں آزادی ملے 79 برس ہوگئے ہیں، اب آزادی منانے کا سلیقہ بھی سیکھ لینا چاہیے۔






