نئے صوبوں کی پرانی بازگشت
محمد شعیب احمد بھٹی
پاکستان میں جب بھی عوامی مسائل، انتظامی اصلاحات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بحث چھڑتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام کی پرانی بازگشت کی کمزور ترین آوازیں بھی بلند ہونے لگتی ہیں۔ بظاہر یہ مطالبہ عوامی فلاح کے نام پر کیا جارہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف انتظامی سرحدیں تبدیل کرنے سے عوام کی تقدیر بھی بدل جائے گی؟ کیا مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، تعلیم، صحت اور انصاف کے بحران صرف نئے صوبے بنانے سے ختم ہو جائیں گے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصل توجہ نظامِ حکمرانی کی اصلاح پر مرکوز ہونی چاہیے، نہ کہ نئی بیوروکریسی کے قیام پر۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یعنی بے شک اللہ تعالیٰ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ ریاست کا بنیادی فرض بھی یہی ہے کہ وہ عوام کو عدل، سہولت اور آسانیاں فراہم کرے۔ اگر کوئی انتظامی تبدیلی عوام کے لیے آسانی کے بجائے قومی خزانے پر اضافی بوجھ بن جائے تو اس پر ازسرِ نو غور کرنا ضروری ہے۔آئینِ پاکستان بھی وفاقی اکائیوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم، عوامی نمائندگی اور بہتر حکمرانی کی ضمانت دیتا ہے، مگر آئین کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ ہر انتظامی کمزوری کا علاج نئے صوبوں کا قیام ہے۔ اصل ضرورت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مو¿ثر انتظامی اصلاحات ہے۔اگر پنجاب میں 36 سے 40 نئے صوبے قائم کیے جاتے ہیں تو اس کے ساتھ درجنوں نئے چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکرٹریز، کمشنرز، سیکریٹریٹ، اسمبلیاں، گورنر ہاو¿س، وزیراعلیٰ ہاو¿س، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، پروٹوکول، سکیورٹی اور ہزاروں نئے سرکاری ملازمین بھی درکار ہوں گے۔ ان تمام اخراجات کا بوجھ بالآخر ٹیکس دینے والے عام شہری پر ہی پڑے گا، جبکہ پاکستان پہلے ہی قرضوں، بجٹ خسارے اور مہنگائی کے دباو¿ کا شکار ہے۔قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا: "عوام کی خدمت ہی حکومت کا اولین فرض ہے۔” یہ خدمت دفاتر اور عہدوں کی تعداد بڑھانے سے نہیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے ممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کو نئے صوبوں سے زیادہ ضرورت صاف پانی، معیاری تعلیم، جدید ہسپتال، محفوظ سڑکیں، سستی بجلی، روزگار اور فوری انصاف کی ہے۔ اگر کسی ضلع کا کسان اپنی فصل کا معاوضہ نہ پا سکے، مریض کو ہسپتال میں دوا نہ ملے، نوجوان کو روزگار نہ ملے اور طالب علم کو معیاری تعلیم میسر نہ آئے تو اس کے لیے صوبے کا نام تبدیل ہونا کوئی عملی فائدہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ اختیارات کا غیر متوازن ارتکاز ہے۔ بیشتر فیصلے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہتے ہیں، جس کے باعث دور افتادہ علاقوں کے شہری معمولی معاملات کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں زیادہ مو¿ثر اور کم خرچ حل یہ ہے کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو انتظامی، مالی اور ترقیاتی اختیارات منتقل کیے جائیں، تاکہ ہر ڈویڑن اپنے عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کر سکے۔ حضرت عمر بن خطاب کا مشہور قول ہے:”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر خود کو اس کا ذمہ دار سمجھے گا۔”یہ قول اسلامی طرزِ حکمرانی کی روح کو واضح کرتا ہے کہ اصل کامیابی عوام تک سہولت پہنچانے میں ہے، نہ کہ سرکاری ڈھانچے کو پھیلانے میں۔اگر ترقیاتی فنڈز، صحت، تعلیم، بلدیات، زراعت، آبپاشی اور بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق فیصلے ڈویڑنل سطح پر ہونے لگیں تو عوام کو لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ یا دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ اس سے وقت، سرمایہ اور سرکاری وسائل تینوں کی بچت ہوگی اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
نہ رہے روح باقی، نہ رہے حرارتِ ایمانی
یہ شعر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ حکمرانی کا مقصد اقتدار میں اضافہ نہیں بلکہ عدل، دیانت اور عوامی خدمت ہونا چاہیے۔
اسی طرح شاعرِ مشرق کا یہ پیغام بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
ترقی یافتہ ممالک کا مطالعہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ ریاستیں صرف نئی انتظامی اکائیاں بنا کر ترقی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط بلدیاتی نظام، بااختیار مقامی حکومت، شفاف احتساب، میرٹ، ڈیجیٹل گورننس اور مو¿ثر اداروں کے ذریعے عوامی خدمت کا معیار بلند کرتی ہیں۔رسول اللہ نے فرمایا:”تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (صحیح بخاری)یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اختیار کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہے۔ لہٰذا اگر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور مقامی اداروں کو اختیارات دئیے جائیں تو ان کی کارکردگی کا سخت احتساب بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام حقیقی ریلیف حاصل کر سکیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ اصلاحات کی جائیں۔ اگر نئے صوبوں کے قیام پر خرچ ہونے والے اربوں روپے تعلیم، صحت، زراعت، پینے کے صاف پانی، صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی فنی تربیت اور روزگار کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں تو اس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت نئے صوبوں سے زیادہ نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اختیارات کی مو¿ثر نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی نظام، بااختیار کمشنرز، فعال ضلعی انتظامیہ، شفاف احتساب اور میرٹ پر مبنی فیصلہ سازی ہی عوامی فلاح کی ضمانت بن سکتی ہے۔ ریاستیں اپنی سرحدوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنے نظامِ عدل، انتظامی دیانت، مالی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ہم نے نظام کو بہتر بنا لیا تو موجودہ انتظامی ڈھانچہ بھی عوامی امنگوں پر پورا اتر سکتا ہے، لیکن اگر نظام کمزور رہا تو نئے صوبے بھی صرف نئے اخراجات اور نئی پیچیدگیوں کا سبب بنیں گے۔ عصر حاضر کے جملہ دانش واران قوم کو چاہیے کہ وہ ریاست پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے اس پر رحم کریں، عوام اور مملکت پاکستان کی بوٹیاں نوچنے کی پالیسیوں کو مزید نافذ نہ کریں۔ 1970 کی دہائی میں پاپولر سنگر احمد رشدی نے کیا خوب گانا گایا تھا۔ "کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا، میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا






