#کالم

سرحدوں سے آگے جنگ کے سائے

Untitled 1

منشا قاضی

سی ٹی این کے زیرِ اہتمام کے عنوان سے ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور معلوماتی نشست کا انعقاد (CTN) گلبرگ II لاہور میں کیا گیا۔ نشست کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اس کے ممکنہ علاقائی اثرات اور بالخصوص پاکستان کی قومی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی اور خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی منظرنامے کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا۔یہ نشست ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے، جب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن، علاقائی سلامتی اور عالمی سیاست کے پیچیدہ سوالات نے ایک مرتبہ پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ امریکہ اور ایران کے باہمی تعلقات میں کشیدگی محض دو ممالک کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات خلیج، جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت سمیت متعدد خطوں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیئے ان ممکنہ تبدیلیوں کو سمجھنا اور ان کے تزویراتی مضمرات پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔نشست کی میزبانی CTN کے چیئرمین مسعود علی خان کی جانب سے کی گئی۔ مسعود علی خان نے اس موقع پر اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں محض خبروں اور واقعات کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ ان کے پسِ پردہ محرکات، ممکنہ نتائج اور قومی مفادات پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ CTN کی جانب سے اس نوعیت کی فکری نشستوں کا انعقاد اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ باشعور اور باخبر معاشرہ ہی پیچیدہ قومی و عالمی چیلنجز کا بہتر ادراک کر سکتا ہے۔نشست کے کلیدی مقرر ایئر کموڈور خالد چشتی (ریٹائرڈ) ، ستارہ امتیاز اور ستارہ بسالت تھے۔ دفاعی امور میں ان کے تجربے نے نشست کو ایک خصوصی اہمیت عطا کی۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے مختلف پہلوو¿ں، علاقائی طاقتوں کے کردار اور ممکنہ سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کو درپیش حالات پر تفصیلی گفتگو کی۔خالد چشتی نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں۔ فضائی طاقت، میزائل ٹیکنالوجی، اقتصادی دباو¿، سفارتی محاذ، اطلاعاتی جنگ اور تزویراتی اتحاد آج کے تنازعات کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی بڑے عالمی یا علاقائی تنازع کے اثرات کو صرف جغرافیائی حدود میں مقید سمجھنا درست نہیں۔ ایک خطے میں بھڑکنے والی آگ دوسرے خطوں کے سیاسی، معاشی اور دفاعی ماحول کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔نشست کے دوران پاکستان کے لیئے ممکنہ سکیورٹی اور تزویراتی مضمرات خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم تزویراتی مقام عطا کرتی ہے۔ اسی لیئے خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی کے اثرات سرحدی سلامتی، علاقائی سفارت کاری، توانائی کے معاملات، تجارت اور قومی دفاعی ترجیحات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ایئر کموڈور خالد چشتی (ر) نے اس تناظر میں بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن، خطے میں عسکری صلاحیتوں کے ارتقا اور مستقبل کے ممکنہ منظرناموں کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت کا نام نہیں بلکہ اس میں مضبوط سفارت کاری، معاشی استحکام، داخلی اتحاد، مو¿ثر خارجہ پالیسی اور بروقت تزویراتی فیصلے بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ائر کموڈور خالد چشتی کے بعد سابق وزیرِ خارجہ میاں خورشید محمود قصوری نے ائر کموڈور خالد چشتی کی حکیمانہ اور دوراندیشانہ خطاب کو سراہتے ہوئے انہیں شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یہ بھی یہ اعزاز حاصل نہیں تھا جو خارجہ حکمت عملی کے دریا کے شناور خورشید محمود قصوری کو حاصل تھا کہ وہ امریکہ کے صدر بش سے ون ٹو ون بات کرتے تھے اور آج آپ کی طبع کی روانی میں وہی انداز و اسلوب اور خطابت کی جولانی موجزن تھی۔ آپ نے مرحوم ائرمارشل اصغر خان مرحوم کے اوصافِ حمیدہ بیان کرتے ہوئے انہیں اپنا راہنما تسلیم کیا۔ میاں نواز شریف نے بھی اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تحریک استقلال سے ہیں کیا تھا۔ ممتاز قانون دان اعتزاز احسن بھی تحریک استقلال میں رہے تھے۔ سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری کے بارے میں لندن سے عسکری دانشور کرنل ممتاز حسین ریٹائرڈ نے فون پر بتایا کہ پاکستان کے مثالی ، ذہین اور عبقری وزیر خارجہ میں خورشید محمود قصوری تھے جن پر میں نے ہمیشہ فخر کیا ہے انہوں نے کہا کہ میاں خورشید قصوری صاحب کی حب الوطنی ضرب المثل ہے اور خورشید محمود قصوری کی دورس نگاہ کا یہ اعجاز ہے کہ وہ خطے میں عالمی سازشوں کے تار پود بکھیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آپ نے برادر ملک ایران کی جنگی حکمت عملی کو امن و سلامتی میں بدلنے کے لیئے میز پر لانے کا صائب مشورہ دیا ہے اور ڈائیلاگ کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی تشویشناک صورتحال کو پائیدار امن کی طرف لانے کے لیئے ایران کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر انہیں قائل کرنا ہو گا۔ تقریب میں ہر دلعزیز شخصیت یاد رہے کہ میں انہیں ہر دلعزیز صحافی نہیں کہہ رہا وہاں ان کی فرض شناسی اور حق گوئی ہر دلعزیزی پر غالب آ جاتی ہے وہ ممتاز صحافی ہیں اور عبقری شخصیت ، جنابِ مجیب الرحمن شامی کی ائر کموڈور خالد چشتی کی حوصلہ افزائی ، مسیحائی سے کم نہیں تھی ان کا خراجِ تحسین دنیا نے دنیا ٹی وی پر دیکھا تو دنیا دیکھتی رہ گئی۔ مجیب الرحمن شامی نے حکومت پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور محترمہ مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کی توجہ نابغہ ءروزگار بلکہ عجوبہ ءروزگار فضائیہ کے اس عظیم سپوت کی طرف مبذول کرائی جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح کے حالاتِ زندگی پر نہ صرف عبور حاصل ہے بلکہ وہ اس تخصیصی کاوش کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے سب سے بڑے اعزاز نشانِ پاکستان کے سزاوار ہیں۔ میجر جنرل شوکت سلطان ، لیفٹینٹ جنرل مقبول ، سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی، اخوت کے سربراہ فضیلتِ مآب ڈاکٹر امجد ثاقب ، سابق وزیر تعلیم میاں عمران مسعود ، ممتاز صحافی حفیظ اللہ خان نیازی، ندیم مظہر ، رحمٰن فاو¿نڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز ، نوازش علی خان لودھی اور ائر مارشل Sami Toor اور دیگر عسکری دانشور تقریب میں موجود تھے۔ ہال تنگی ءداماں کی شکایت کر رہا تھا۔ سی ٹی این کے ممبران سیکرٹری جنرل توقیر احمد شریفی ، انجینئر شائلہ صفوان ، ڈاکٹر کنول خالد ، فردوس نثار ، رانا نعمان اور برگیڈیئر عرفان علی خان کو ایستادہ دیکھا اور مہمانوں کو اپنی نشستیں چھوڑ کر انہیں بٹھا رہے تھے۔ نشست کی نظامت جواں سال ماہر تعلیم مسٹر فہد عباس، ایگزیکٹو ممبر CTN نے انجام دی، جبکہ اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر بریگیڈیئر ساجد مشتاق، ایگزیکٹو ممبر CTN نے پیش کیئے۔ دونوں نے اس علمی و فکری سرگرمی کو کامیاب بنانے میں شرکائ کے کردار کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے مکالمے قومی و عالمی امور کے بارے میں معاشرے میں شعور، بصیرت اور سنجیدہ سوچ کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔اس موقع پر شرکائ نے بھی موضوع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ خیال کے ذریعے خطے کی موجودہ صورتحال، پاکستان کے ممکنہ کردار اور مستقبل کے چیلنجز پر مختلف زاویوں سے گفتگو ہوئی۔ نشست کا مجموعی ماحول اس احساس کی عکاسی کر رہا تھا کہ آج کی دنیا میں قومی سلامتی کے سوالات کو محض سرحدوں کے تناظر میں نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور علاقائی طاقت کے باہمی رشتوں کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ نشست محض ایک جنگی تنازع پر گفتگو نہیں تھی بلکہ بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کے مقام، اس کے قومی مفادات اور مستقبل کی تزویراتی سمت پر غور و فکر کا ایک سنجیدہ موقع بھی تھی۔ CTN نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ ”باخبر ذہن ہی مضبوط قوم کی بنیاد بنتے ہیں“ اور عالمی حالات کو سمجھنے کے لیئے کھلے، علمی اور تعمیری مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔یوں ”US-Iran: War Beyond Borders“ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ نشست اپنے موضوع کی حساسیت، مقرر کے تجربے اور شرکاءکی فکری دلچسپی کے باعث ایک بامعنی سرگرمی ثابت ہوئی،ایسی نشست جس میں جنگ کے شور سے کہیں آگے، امن، سلامتی، دانش اور قومی مستقبل کے سوالات سننے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے