(قسط:38) پاکستانی ادب کے معمار،ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
شاہد بخاری
علم النفسیات:کوئی بھی ادیب یا شاعر یا کہہ لیجئے فنکار علمِ نفسیات سے شعوری اور لاشعوری طور پر بے پناہ متاثر ہوتا ہے۔ ویسے تو نفسیات کوئی بہت زیادہ اکتسابی شے نہیں زندگی خود انسان کو رمز آشنا کر دیتی ہے اور ادیب اور شاعر تو جہانِ دیگر میں دیکھنے کی صلاحیت از خود پیدا کر دیتے ہیں۔ شاعر کا کام ہی دلوں میں نقب لگانا ہے، روح کے نغمات کو سننا ہے۔ جذبوں کی رم جھم سے متاثر ہونا ہے اسی کو دل ِ گداختہ کہا جاتا ہے خیر چھوڑیئے یہ ایک لمبی بحث ہو جائے گی ڈاکٹر اقبال بتاتے ہیں کہ وہ ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں، ادب کے طالب علم ہیں اس لئے از خود نفسیات کا شوق درآیا اور پھر ادبیات میں کرداروں کا تجزیہ اشیائ کا پسِ منظر حالات کے نشیب و فراز یہ سب کچھ اس امر کے متقاضی ہیں کہ فنکار علم نفسیات سے گہرا شغف رکھتا ہو۔ ڈاکٹر صاحب خود ایم اے اردو کے بعد نفسیات میں ماسٹرز کرنا چاہتے تھے لیکن ایک نفسیات کے پروفیسر نے انہیں کہا کہ وہ ایسا نہیں کر پائیں گے انہیں اس کی اجازت نہیں ملے گی کیونکہ اس میں عملی تجربات کرنے ہوتے ہیں یہ بات چنداں درست نہیں تھی۔ بہر حال ڈاکٹر اقبال کا شوق قائم رہا۔ نفسیات سے متعلق ابتدائی کتب ڈاکٹر اقبال کے زیر مطالعہ رھیں۔امریکہ سے بریل میں ایک جریدہ سائیکالوجی ٹوڈے وہ باقاعدہ پڑھتے رہے انہوں نے بریڈلی کی کتاب Four contemporaryتفصیل سے پڑھی اور وڈورتھ کی کتاب Contemporary Schools of Psychology کابھی مطالعہ کیا۔ وہ حتی المقدور، فرائیڈ، ایڈلر، یونگ جیسے ماہر ینِ نفسیات کو پڑھتے رہے اور ان کا نفسیات کے علم سے تعلق گہرا ہو تا رہا۔ انہوں نے ڈپریشن کے موضوع پر1975 میں ایک مضمون بھی لکھا وقت گزرتا گیا تاآں کہ زیرِ نظر کتاب، ”ڈپریشن علامات،اسباب اور علاج“ تصنیف ہوئی۔صفحات: 208 اشاعت اول: 2013اشاعت دوئم:2019ثنائی پریس سرگودہا۔۔۔انتساب:بکھری زلفوں،بھیگی پلکوں، تشنہ ہونٹوں،
ڈوبتے دلوں،بے کل روحوں اور ا±داس چہروں کے نام۔ یہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ تعارفمالیخولیا۔ڈپریشن کی اوّلین صورت ۔۔ڈپریشن کی علامات ڈپریشن کی وجوہات۔۔علاج۔۔ضمیمہ نگاروں میں ہومیو ڈاکٹر ڈاکٹر احمد حسن چودھری، مذہبی سکالر ملک عطا محمد (سکارڈن لیڈر(ر)۔۔اور میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر سیف الدین اعوان۔کتاب کے بارے میں ڈاکٹر نجمہ اقبال ملک (پروفیسر نفسیات) لکھتی ہیں۔”عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی“ مذکورہ تصنیف اس کی عملی شکل ہے، ایک ایسا نسخہ ہے جو زندگی کو روشن اور مثبت تبدیلی کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ھے۔میں شکر گزار ہوں مصنف کی جنہوں نے ایک ایسے نفسیاتی عارضے کو موضوع ِبحث بنایا جو موجودہ زندگی کا ایک اہم اور زیادہ زیرِ بحث آنے والا عارضہ ہے۔ یہ تصنیف بلا شبہ ایک عام فرد کے لئے، اس عارضے کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یقینا مفید ثابت ہو سکتی ہے“ملک عطا محمد رقم طراز ہیں:”پروفیسر اقبال نظم و نثر میں تو ملک میں اپنا ایک مقام پیدا کر ہی چکے ہیں لیکن کتاب ”ڈپریشن،علامات، اسباب اور علاج“ لکھ کر نفسیات کی دنیا میں شمولیت کسی دھماکے سے کم نہیں۔ میں نے آپ کی کتاب لفظاً لفظاً پڑھی ہے جس سے دل میں ٹھنڈک پیدا ہوئی۔ یہ کتاب اس فن میں ا یک گراں قدر اور مفید اضافہ ہے۔“شعبہء نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر امجد طفیل رقم طراز ہیں:”پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کی کتاب ڈپریشن علامات، اسباب اور علاج اپنے موضوع پر ایک ادبی کتاب ہے۔ اسے ادبی کتاب میں ا س لئے قرار دے رہاہوں کہ شیخ محمد اقبال نے عہدِحاضر کے اس اہم نفسیاتی موضوع کو ادبی چاشنی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انہوں نے ماہرینِ نفسیات کے ساتھ ساتھ شاعروں، ادیبوں کے اشعار اور ان کے تصورات سے بھی استفادہ کیاہے اور بعض اوقات تو یہ ”استفادہ علمی استفادہ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ ان کے بعض افکار سے اتفا ق کرنا مشکل ہے جیسے کہ ڈپریشن ویسی ہے جسے پہلے مالیخولیا کہا جاتا تھا وغیرہ ڈپریشن، علامات، وجوہات اور علاج کا سب سے خوبصورت حصہ اس کتاب کا آخری باب ہے جس مین ڈاکٹر شیخ محمد اقبال نے اپنے ذاتی حالات و خیالات کو بیان کیا اور اپنے تجربات پر روشنی ڈالی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری باب نہ صرف خوبصورت تحریر ہے بلکہ قاری کے سیکھنے کے لئے اس میں بہت سی باتیں موجو د ھیں۔مجھے امید ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمدا قبال کی یہ کتاب اردو قارئین کو پسند آئے گی اور ان کی نیک نامی میں اضافہ کرے گی“ممتاز اور معروف سائیکائٹرسٹ ڈاکٹر صداقت علی لکھتے ہیں:”پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال نے ذہنی اور جسمانی مرض ڈپریشن پر جو کتاب لکھی ہے وہ اس لحاظ سے ان لوگوں کے لئے معلوماتی اور مفید ہو گی جو اس کا شکار ہیں اور علاج ڈھونڈنا چاہتے ہیں، اس کتاب میں مختلف حوالوں سے ڈپریشن پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے“لاہور کالج یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر طلعت سہیل لکھتی ہیں:”یہ کتاب موضوع کے اعتبار سے منفرد نہ ہو لیکن اپنے اندازِ بیاں اور سوچ میں یقینا منفرد اور لائقِ مطالعہ ہے۔مصنف پروفیسر شیخ ڈاکٹر محمد اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس کتاب کے 166صفحات کو سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شیخ صاحب کیونکہ درس و تدریس سے منسلک ہیں اس لئے اپنی کتاب میں جس اسلوب کا استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف کسی طالب علم بلکہ اس مرض کی علامات، اسباب اور علاج سے متعلق معلومات جمع کرنے والے کسی بھی صاحبِ ذوق شخص کو کتاب پڑھنے پر قائل اور مجبور کر دیتے ہیں اور شائد یہی اس کتاب کی کامیابی کا را زہے“شعبہ نفسیات،گورنمنٹ کالج کوپر روڈ کی پروفیسر زرین بخاری لکھتی ہیں کہ”پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال صاحب کی تصنیف، بعنوان”ڈپریشن؛ علامات، اسباب اور علاج“ نصابی قیود سے ماورا، پڑھنے والے ہر انسان کو اپنے درپیش مشکلات، ناکامیوں اور محرومیوں کے احساس سے گزرنے والی مایوسی و پڑمردگی کی حالت سمجھنے اور اس حالتِ زار سے نکلنے کے لئے خود شناسی کا حصول اور مثبت محرکاتی قوتِ عمل عطا کرتی ہے“("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)






