#کالم

خاموش قربانیوں کی روشن داستان

Untitled 5

جاویدایازخان

کچھ لوگ اپنے نام سے اور کچھ لوگ اپنے خاندان ،حسب نسب اور میراث سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی قربانیوں ،ایثار اور محبت سےلازوال تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔بےشک میری ماں انہی عظیم انسانوں میں سے ایک تھی۔جس نے اپنی خواہشات کو خاموش کرکے ہماری مسکراہٹوں اور خوشیوں کو ہی اپنی کامیابی سمجھا۔اپنے آپ کو بھول کر ہمیں سنوارا ،جینا سکھایا اور برداشت ،حوصلے وقربانی کا مطلب سمجھایا۔ہمیں علم کی روشنی سے منور کیا اور مجھ جیسے نالائق کو بھی کتاب اور قلم سے عشق کرنا سکھایا وہ میری پہلی درس گاہ ،میری طاقت ،میری دعا اور میری زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت تھیں۔وہ جب ایک اردو نظم "اک سارسوں کا قافلہ ” اپنی پرسوز آواز میں ہمیں سناتیں تو آنکھوں سے آنسوں رواں ہو جاتے تھے۔میں نے ان میں صبر کو مجسم ،اعتماد کو کردار ،سنجیدگی کو وقار اور خلوص کو مزاج بنتے دیکھا۔وہ ایک درد بھرا ایسا دل رکھتی تھیں جو حسد سے پاک ،اور محبت ،عفو ودرگزر اور انسانیت کے درد سے بھرا ہوا تھا۔میں یہ جانتا ہوں کہ میں ان کی محبت ،قربانی اور عظمت کا حق ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے کبھی ادا نہیں کر سکوں گا مگر عمر بھر خدا کا یہ شکر ضرور ادا کرتا رہوں گا کہ اس نے مجھے ان جیسی عظیم ماں کی کوکھ سے پیدا کیا اور ان کے پاک دودھ سے میرے جسم کو جلا بخشی اور ان کی شفقت بھری گود سے پرورش پانے کی توفیق عطا فرمائی۔ان کی تربیت نے جو سب بڑی خوبی مجھے عطا کی وہ کسی بھی صورت حوصلہ نہ ہارنا ہے۔انہوں نے مجھے سکھایا کہ برداشت سے ناممکن کو ممکن کیسے بنایا جاتا ہے۔ہار کر بھی کیسے جیتا جاتا ہے۔ٹوٹ کر کیسے جڑا جاتا ہے۔دنیا کو زیادتیوں کا جواب کب اور کیسے دیا جاتا ہے۔ یہ وہ ہستی تھی جس نے مجھے معاف کرنا سکھایا۔دلیری اور بہادری کا سبق دیا اور خطرات سے کھیلنا سکھایا۔مجھے یاد ہے کہ ہمارےگھر میں سانپ بہت نکل آتے تھے ایک رات سردی میں سحری کے لیے میری بیوی اٹھی تو واپس آکر مجھے بتایا کہ صحن میں کچھ ہے سانپ کا نام اس لیے نہیں لیتے تھے کہ وہ بھاگ نہ جاے میں نیم اندھیرے میں لاٹھی لیکر اٹھا اور بیوی کو لالٹین لانے کو کہا واقعی صحن میں ایک چار پانچ فٹ لمبا کالا سانپ موجود تھا میں سانپ پہلے بھی کئی مار چکا تھا ۔میرا ایک ہی کاری وار اس کے سر پر لگا تب اندھیرے میں مجھے کھڑکی سے چارپائی کا پایہ پکڑے امی جان کی آواز سنائی دی ابھی یہ ہل رہا ہے ایک اور وار کرو اور وہ روکنے کے باوجود بلا دھڑک میرے قریب پہنچ گیں۔وہ جاننا چاہتی تھیں کہ میرے بیٹے یا بہو کو سانپ نے کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا اور شاید وہ اس بہانے میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی تھیں۔ایک مرتبہ اور بھی گھر میں ایک سانپ دکھائی دیا اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گیا وہ میرے ساتھ ملکر لاٹھی پکڑے اس ڈھونڈتی رہیں اور آخرکار تلاش کرکے مجھے بتایا وہ دیکھو وہاں دیوار کے ساتھ چپکا بیٹھا ہے جسے مارنا بڑا آسان ہو گیا۔بچپن میں مجھے کتوں سے بہت ڈرلگتا تھا ایک رات مجھے کسی کام سے ماسی حمیدہ کے گھر بھیجنا تھا تو میں نے راستے کے کتوں کا ڈر بتایا تو کہنے لگیں اچھا پھر میں بھی ساتھ چلتی ہوں اور وہ میرے آگے آگے چلنے لگیں۔جہلم کے ایک گاوں ہنہ پور میں اچانک سیلاب آگیا گھر پر ہم چار چھوٹے بچے اور امی جان ہی تھے مجھے آج بھی ان کی ہمت اور جرات یاد ہے کہ کس طرح ایک اکیلی عورت نے کئی فٹ اونچے پانی میں چارپائیوں پر چار پائیاں رکھ کر ہم بچوں کو اوپر بیٹھا دیا اور خود پانی کے ریلوں سے ہلتی ہوئی چارپائی تھام کرگہرے پانی میں کھڑی رہیں کہ کہیں بچے یا ان کی چارپائی گر نہ جاے جبکہ ہم بچے پانی کو بلند ہوتا اور اس میں بہہ کر آنے والے کیڑے مکوڑے اور سانپ ہی دیکھ کر خوفزدہ ہوکر سہمے ہوے تھے تو وہ دلیری سے دوسرے ہاتھ میں ایک چھڑی لیے ان سے بچنے کی کوشش بھی کررہی تھی۔چھ ستمبر کی جنگ کے دوران خطرے کا سائرن بجتا تو وہ سب بچوں کو گراونڈ میں کھودے گئے مورچے میں چھپا کر خود باہر بیٹھ جاتیں جیسے آنے والے بم کو ہم تک پہنچنے سے پہلے پکڑ لیں گی۔انہوں نے مجھے سبق دیا کہ زندگی میں حالات جیسے بھی ہوں آخری دم تک کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ آج سے چالیس سال قبل بیس اگست کا وہ گرم ترین دن میرے لیے محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایثار، استقامت، برداشت ،غیرت، ایمان،جدوجہد ،پردہ پوشی،راز داری اور بے مثال مادری محبت کی یاد کا دن ہےجب وہ ہمیں چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئیں۔ آج میں ان کی برسی پر اپنی اس عظیم ماں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جس نے اپنی پوری زندگی اپنی اولاد اور خاندان کے نام وقف کر دی۔میری ماں ! ایثار کی وہ شمع جو کبھی بجھتی نہیں ،خاموش قربانیوں انمٹ داستان اور سادگی کا پیکر تھیں اور تلاوت کی صورت خاموش سی عبادت ان کی زندگی کا حسن تھا تو مہمان نوازی انکی فطرت اور دوسروں کی مدد ان کی عادت تھی۔ان کے دروازے پر آنے والا کبھی خالی ہاتھ یا خالی دل واپس نہیں لوٹا۔وہ بڑی خاموشی سے بغیر کسی صلے یا ستائش کی تمنا کے دعا ئیں اور نیکیاں سمیٹتی رہیں۔وہ ایک ایسی ہنر مند خاتون تھیں جو اپنی بےپناہ صلاحیتوں سے ہر کام کو ایک آرٹ بنادیتی تھیں۔امور خانہ داری ہوں ،کپڑے سینے ہوں یا کڑاہی کرنی ہو ،سویٹر بننا ہو یا کھانا پکانا ہو ان کے ہاتھوں سے وہ کام ایک خوبصورت آرٹ بن جاتاتھا۔انہوں نے کبھی میراناپ کسی پیمانے سے نہیں لیا مگر ہمیشہ میرے کپڑے وہی سی کر دیتیں جو کبھی چھوٹے یا بڑے نہ ہوتے ہمیشہ فٹ آتے۔آج درزی کے سلےبھی کبھی پورے نہیں آتے چھوٹے یا بڑے رہ جاتے ہیں۔ لیکن ان کی عظمت کا سب سے روشن باب وہ تھا جب دو سال تک میرے والد بھارتی جنگی قید میں رہے تھے۔ اس کٹھن دور میں، جب ہر طرف بے یقینی، خوف اور معاشی مشکلات تھیں، انہوں نے نہ ہمت ہاری، نہ حالات کے سامنے سر جھکایا، اور نہ ہی کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کیا۔ انہوں نے خودداری کو اپنا زیور بنایا اور اپنے بچوں کے مستقبل کو اپنا مقصدسمجھا۔ انہوں نے دن رات محنت کی، تکلیفیں برداشت کیں، اپنی خواہشات قربان کر دیں، مگر بچوں کی تعلیم و تربیت پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ وہ ماں بھی تھیں، ؛ مربی بھی تھیں، محافظ بھی۔ انہوں نے مردانہ وار ہر مشکل کا مقابلہ کیا اور ثابت کر دیا کہ عزم و حوصلہ کسی ایک جنس کی میراث نہیں، بلکہ ایمان رکھنے والے ہر انسان کی طاقت ہے۔ آج اگر ان کی اولاد عزت، تعلیم اور وقار کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے تو اس کی بنیاد ا±ن بے شمار صبحوں کی مخصوص تلاوت اور ان راتوں کی دعاوں میں پوشیدہ ہے جو انہوں نے جاگ کر گزاریں، ا±ن دعاو¿ں میں بھی ہے جو تہجد کی خاموشیوں میں مانگیں، اور ا±ن لازوال قربانیوں میں بھی ہے جن کا حساب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔میری والدہ نے ہمیں صرف زندگی نہیں دی، بلکہ باوقار زندگی جینے کا سلیقہ دیا۔ انہوں نے سکھایا کہ غربت عیب نہیں، کردار کی کمزوری عیب ہے؛ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا کبھی تنہا نہیں ہوتا۔جدید ریسرچ کے مطابق ماں کی آواز سننا ذہنی دباو اور ٹینشن کو کم کرتا ہے چاہے وہ خواب میں بھی کیوں نہ ہو۔اس لیے ماں کا خواب میں آنا خوشخبری ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ماں صرف ایک گھر نہیں سنبھالتی، وہ تو آئندہ نسلیں سنوارتی ہے۔ اس لیے ان جیسی اعلیٰ سوچ کی حامل مائیں اپنی خاموش جدوجہد سے ایسی تاریخ لکھ جاتی ہیں جو کتابوں میں نہیں، اولاد کے کردار میں زندہ رہتی ہےاور شاید نظر بھی آتی ہے۔آج ان کی برسی پر سرِ تعظیم جھکا کر اعتراف کرتا ہوں کہ اے میری عظیم ماں! آپ کا قرض نہ کبھی ادا ہو سکتا ہے، نہ آپ کی خصوصیات اور جدوجہد کو الفاظ میں سمویا جا سکتا ہے۔ آپ نے اپنے عمل سے ہمیں یہ سبق دیا کہ عظمت دولت میں نہیں، بلکہ برداشت ،درگزر ،قربانی، خودداری، ایمان اور اولاد کی بہترین تربیت میں پوشیدہ ہے۔اللہ تعالیٰ میری والدہ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی سادگی، عبادت، مہمان نوازی، خودداری اور خدمت خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین !

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے