ستائیس سالہ رفاقت اور حافظ آباد کی شام
سہیل بشیر منج
ایف سی کالج لاہور محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ شاندار روایات، تاریخی عظمت اور اٹوٹ تعلیمی وقار کا وہ درخشندہ باب ہے جس کی بنیاد 1864ئ میں ڈاکٹر چارلس ولیم فارمن نے رکھی تھی ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے پر محیط اس باوقار ادارے نے برصغیر کے معماروں کی تربیت کی اور یہاں سے نکلنے والے باکمال ذہنوں نے ملک گیر سطح پر ہر شعبہ زندگی میں اثر و رسوخ اور کامیابی کے ایسے انمول لنکس قائم کیے جو انسان کا تاحیات اثاثہ بنے رہتے ہیں گزشتہ رات ایف سی کالج کے دیرینہ دوستوں کے ساتھ ہونے والی پرخلوص بیٹھک دراصل انہی سنہری یادوں اور لاثانی دوستیوں کی ایک خوبصورت تجدید تھی الحمدللہ ستائیس سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود باہمی قربت، محبت اور ایک دوسرے کے غم و خوشی میں بے لوث شریک ہونے کا جذبہ آج بھی سچے بھائیوں کی طرح قائم و دائم ہے سال میں دو مرتبہ ایک باقاعدہ اور شاندار غیر رسمی نشست کا یہ خوبصورت فیصلہ محض ایک روایت نہیں بلکہ روزمرہ کی مصروفیات کے ہجوم میں روح کو تروتازہ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے سچی اور لازوال دوستی انسان کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر ذہنی سکون، حوصلہ اور زندگی کی کٹھن راہوں میں مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے ایف سی کالج جیسے عظیم المرتبہ ادارے سے ملنے والے یہ نایاب دوست اور وہاں کی علمی فضا انسان کو نہ صرف بااثر اور مضبوط سماجی تعلقات عطا کرتی ہے بلکہ بیتے دنوں کی خوبصورت یادیں، قلبی طمہ نیت اور زندگی بھر کا تفاخر بن کر سدا ساتھ نبھاتی ہیں۔گزشتہ رات کی باوقار بیٹھک دراصل الفت، اخلاص اور لازوال رفاقتوں کا ایک حسیں مرقع تھی جس میں پندرہ کے قریب دیرینہ دوستوں کی موجودگی نے محفل کو چار چاند لگا دیے اس باوقار نشست میں چیف میٹروپولیٹن آفیسر لاہور جناب جواد الحسن گوندل صاحب، جناب انعام اللہ صاحب، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل فار پاکستان جناب محمود احمد جوئیہ صاحب، معروف قانون دان جناب سردار عرفان ڈوگر ایڈوکیٹ، جناب چوہدری غلام عباس چدھڑ ایڈوکیٹ، جناب میاں سرفراز افضل ایڈوکیٹ، جناب رشید الحسن صاحب سی ای او فیوجی لائٹس، جناب حافظ محمد طارق، جناب زاہد حمید ناز صاحب، جناب عابد حسین صاحب، جناب محمد طارق ہنجرا صاحب، جناب ندیم باری صاحب اور جناب ظہیر عباس چدھڑ صاحب کی شمولیت نے ہم نوالہ و ہم پیالہ دوستوں کی پرخلوص محبتوں کو مزید نکھار دیا مہمان نوازی کے پرخلوص فرائض جناب رائے قلب عباس انسپیکٹر ٹریفک پولیس نے اتنی محبت سے ادا کیے کہ ہر دل ممنون ہو گیا انہوں نے پہلے ایک انتہائی پرسیار اور پرتکلف عشائیے سے تمام احباب کی تواضع کی اور اس کے بعد چائے کی نشست کے لیے تمام دوست حافظ آباد روڈ پر واقع جم خانہ مارکی چلے گئے وہاں قہقہوں کا ایک ایسا بے ساحل سمندر تھا جس کے مدوجزر نے روزمرہ کی مصروفیات کی ساری تھکاوٹ اور زندگی کا بوجھ لمحوں میں ہوا میں اڑا دیا پرخلوص گپ شپ، ماضی کی سنہری یادوں کی جگمگاہٹ اور چائے کی چسکیوں میں وقت کے پر لگ گئے اور پتہ ہی نہ چلا کہ کب آدھی رات ڈھل گئی دوستوں کی یہ بیٹھک محض ایک ملاقات نہیں بلکہ روح کی شادابی، باہمی اعتماد کی تجدید اور باوفا تعلقات کا وہ حسین شاہکار تھی جو انسان کو زندگی کی تپش میں ٹھنڈی چھاو¿ں کا احساس بخشتی ہے۔اس سال میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ کو میں یہی مخلصانہ مشورہ دوں گا کہ وہ گورنمنٹ کالج یا ایف سی کالج کا رخ ضرور کریں یہ محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ پونے دو سو سال پرانی وہ درخشندہ تہذیبیں اور روایات ہیں جو انسان کو نہ صرف باوقار زندگی گزارنے کے گر سکھاتی ہیں بلکہ زندگی کے کٹھن چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں یہ تاریخی درسگاہیں انسان کو بااثر اور مضبوط گھرانوں سے تعبیر ہونے والے ایسے تاحیات تعلقات عطا کرتی ہیں جو مستقبل کی عملی زندگی میں کامیابی کا راستہ ہموار کرتے ہیں انسان اپنی خوشیوں اور غموں میں کبھی اکیلا آگے نہیں بڑھ سکتا اور ایک اچھے معاشرتی سفر کے لیے مخلص دوستوں کا ساتھ بے حد ضروری ہوتا ہے ہم الحمدللہ ستائیس سال سے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جہاں ایک کی پریشانی باقی سب کا مسئلہ بن جاتی ہے تعلقات کا یہ پودا راتوں رات تناور درخت نہیں بنتا بلکہ اسے محبت، ایثار، برداشت اور وفا کا مسلسل پانی دینا پڑتا ہے تب جا کر یہ باہمی اعتماد کی چھاو¿ں فراہم کرتا ہے اس خوبصورت سفر میں کبھی کبھار کچھ ایسے خود غرض اور خاندانی اعتبار سے کم ظرف لوگ بھی شرافت کا سستے سے سستا لبادہ اوڑھ کر شامل ہو جاتے ہیں جن کی پرورش میں نقائص ہوتے ہیں لیکن وقت کی کسوٹی اور حالات کا سچ ان کی اصلیت اور اوقات کا بھیت کھو ل دیتا ہے ایسے لوگ ٹوکری کے گلے سڑے پھلوں کی مانند ہوتے ہیں جو خود بخود اپنی بدفطرتی کے باعث الگ کر دیے جاتے ہیں اور رفاقتوں کا گلدستہ دوبارہ اپنی اصل پاکیزگی اور خوبصورتی کے ساتھ مہکنے لگتا ہے نئی نسل کو چاہیے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ مثبت رشتوں کی آبیاری کریں اور کم ظرف عناصر سے بے نیاز ہو کر سچی دوستیوں کی حفاظت کریں۔نئی نسل کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ موبائل فون، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک کی سحر انگیز دنیا محض ایک عارضی اور بظاہر خوبصورت دھوکہ ہے جس نے انسان کو سچی رفاقتوں سے کاٹ کر تنہائی کے گہرے سمندر میں دھکیل دیا ہے حقیقی زندگی کا خوبصورت سچ سوشل میڈیا کی ورچوئل دنیا میں نہیں بلکہ جیتی جاگتی انسائیت اور باوفا دوستوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جب زندگی میں آزمائشیں، دکھ اور مشکلات قدم بوس ہوتی ہیں تو گوگل اور انسٹاگرام کی سکرینیں سہارا نہیں بنتیں بلکہ مخلص دوست ہی ڈھال بن کر سامنے کھڑے ہوتے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اس مصنوعی سحر سے نکلیں، بڑے اور تاریخی اداروں کا رخ کریں اور زندگی بھر ساتھ نبھانے والے سچے دوست بنائیں دیرپا اور پائیدار تعلق قائم رکھنے کے لیے انا، غصے اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر کرنا پڑتا ہے اور ایک دوسرے کے لیے وقت، وقت کی قربانی اور بے لوث ایثار کا جذبہ بیدار رکھنا پڑتا ہے دکھ اور سکھ کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننا ہی زندگی کی اصل مسرت ہے کیونکہ کوئی بھی شخص تنہا خوشگوار زندگی نہیں گزار سکتا اسی لازوال محبت کو قائم رکھنے کے لیے ہم تمام پرانے دوستوں نے یہ پختہ عہد کیا ہے کہ اب ہم سال میں دو کے بجائے چار مرتبہ لازمی اکٹھے ہوا کریں گے اور اسی طرح ایک دوسرے کی خوشیاں اور غم بانٹ کر اس زندگی کے سفر کو مزید حسین بنائیں گے۔






