عنوان: مہر علی شاہ : فرق نہیں مابین پیا
عبدالقادر مشتاق
بعض کلام صرف پڑھے نہیں جاتے، جئے جاتے ہیں۔ ان کے الفاظ زبان سے نہیں، روح سے ادا ہوتے ہیں، اور ان کے معنی عقل سے نہیں، دل سے سمجھے جاتے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ? آف گولڑہ شریف سے میرے روحانی تعلق کا سبب میرے ماموں حاجی محمد رمضان صاحب بنے۔ لیکن پھر وہ تعلق ہمارے جیسے گہنگار کیا نبھاتے یہ تو ان کو بڑا پن ہے کہ انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ جوڑے رکھا۔ محرم کے بعد جونہی سفر کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے ساتھ ساتھ ہی پیر مہر علی شاہ صاحب کے عرس کی تیاریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ 29 سفر کو ہم نے بھی رخت سفر باندھا اور درگاہ گولڑہ شریف کا پہنچے۔ مہر علی شاہ کا جب نام آتا ہے تو زبان پر ایک نعت گونجتی ہے، اج سک متراں دی ودھیری اے، کیوں دلڑی اداس گھنیری اے۔ آپ کوئی باقاعدہ شاعر نہیں تھے۔ لیکن محبت رسول کا اظہار شاعری میں کبھی کبھی کر لیا کرتے تھے۔ ایک اور ان کا کلام مجھے بہت اچھا لگتا ہے "فرق نہیں مابین پیا”. ان کا یہ روح پرور کلام بھی انہی نعتیہ و صوفیانہ شاہکاروں میں سے ہے جس میں عشق کی ابتدا محبوبِ خدا سے ہوتی ہے اور انتہا حضرت علی المرتضیٰ کی محبت پر آ کر ٹھہرتی ہے۔
جب سے لاگے تورے سنگ نین پیا
نیند گئی، آرام نہیں، ساری ساری رین پیا۔
تصوف کی پہلی منزل "نظر” ہے۔ جب بندہ مومن کی نگاہ جمالِ مصطفیٰ سے آشنا ہو جاتی ہے تو دنیا کی آسائشیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ نیند صرف آنکھوں سے نہیں جاتی، بلکہ غفلت دل سے رخصت ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے صوفیا "بیداریِ قلب” کہتے ہیں۔ عاشق راتوں کو جاگتا ہے، مگر اسے تھکن نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی جاگتی آنکھوں میں محبوبِ حقیقی کا چراغ روشن ہوتا ہے۔
دکھ آئے، سکھ بھاگ گئے
سب عیش مٹا، سارا چین پیا۔
راہِ محبت میں راحت کم اور آزمائش زیادہ ہوتی ہے۔ مگر صوفیا نے دکھ کو سزا نہیں، عطا سمجھا ہے۔ حضرت رابعہ بصری کہا کرتی تھیں کہ جس دکھ میں محبوب کی یاد ہو، وہ دکھ بھی نعمت ہے۔ عاشق اپنے دکھ سے فرار نہیں چاہتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر آزمائش اسے محبوب کے مزید قریب کر رہی ہے۔
تن، من، دھن سب تجھ پر واروں
وار دیوں کونین پیا۔
یہاں عشق اپنی معراج کو پہنچتا ہے۔ انسان اپنا جسم، اپنا دل، اپنا مال، بلکہ دونوں جہان بھی محبوبِ مصطفیٰ پر قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآنِ مجید اطاعتِ رسول کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی محبت سے جوڑتا ہے۔ جب محبت مکمل ہو جائے تو پھر انسان کے پاس اپنا کچھ باقی نہیں رہتا۔
جیا تڑپت ہے درسن دیجو
صدقہ حسن حسین پیا۔
یہ صرف دیدار کی آرزو نہیں، بلکہ اہلِ بیتِ اطہار سے عقیدت کا اعلان بھی ہے۔ امام حسن اور امام حسین محبتِ رسول کے دو روشن چراغ ہیں۔ ان سے محبت دراصل رسولِ اکرم سے محبت کا تسلسل ہے۔ کربلا نے ہمیں یہی سکھایا کہ عشق کا اصل معیار قربانی ہے، دعویٰ نہیں۔ پھر کلام اپنی روحانی بلندی پر پہنچتا ہے:
وصلِ علیٰ کیا شان ہے
لا مثلک فی الدارین پیا۔
حضرت علی صرف ایک عظیم صحابی نہیں بلکہ علم، عدل، شجاعت اور ولایت کے دروازے ہیں۔ صوفیا کے نزدیک محبتِ علی ، محبتِ رسول سے جدا نہیں۔ علی کا دامن تھامنا دراصل ا±س گھرانے سے وابستگی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے طہارت کا مقام عطا فرمایا۔ پیر مہر علی شاہ فرماتے ہیں:
مہر علی ہے حبِ نبی
حبِ نبی ہے مہر علی۔
گویا ان کی پوری شناخت محبتِ مصطفیٰ ہے۔ نہ کوئی منصب، نہ کوئی شہرت، نہ کوئی علمی مرتبہ؛ اگر کچھ ہے تو صرف عشقِ رسول ۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس نے اولیا کے نام کو زندہ رکھا۔ اور پھر آخری مصرع پورے کلام کا نچوڑ بن جاتا ہے:
لحمک لحمی، جسمک جسمی
فرق نہیں مابین پیا۔
یہ الفاظ اس روحانی وحدت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں محبت فاصلے مٹا دیتی ہے۔ جب عاشق اپنے محبوب کے رنگ میں رنگ جاتا ہے تو اس کی خواہش، اس کا چلنا، اس کا جینا اور اس کا مرنا سب محبوب کی رضا کے تابع ہو جاتا ہے۔ یہی فنا فی الرسول ہے، جو بندے کو اطاعت، محبت، اخلاق اور خدمت کے راستے سے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک لے جاتی ہے۔ آج ہماری عبادت میں رسم باقی ہے مگر محبت کم ہو گئی ہے۔ ہمارے الفاظ میں عقیدت ہے مگر کردار میں اس کی جھلک کم نظر آتی ہے۔ پیر مہر علی شاہ? کا یہ کلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عشقِ رسول صرف نعت پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ حضور اکرم کے اخلاق، رحمت، عدل، عفو، حلم اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا نام ہے۔ جب تک ہماری محبت ہمیں عاجزی، وفاداری، ایثار اور انسان دوستی نہ سکھائے، تب تک وہ محبت اپنے کمال کو نہیں پہنچتی۔ صوفیا نے عشق کو جذبات نہیں، ذمہ داری سمجھا ہے؛ اور یہی ذمہ داری انسان کو بندگی سے معرفت، اور معرفت سے قربِ الٰہی تک پہنچاتی ہے۔شاید اسی لیے اہلِ دل کہتے ہیں کہ جس دل میں مصطفیٰ کی محبت روشن ہو جائے، وہاں نفرت کے اندھیرے زیادہ دیر نہیں ٹھہرتے۔ اور جس روح کو علی کی معرفت، حسن کی حلم اور حسین کی قربانی نصیب ہو جائے، وہی روح حقیقت میں عشق کے راز سے آشنا ہوتی ہے۔






